پر وہ چھوٹا سا، الہڑ سا لڑکا کہاں؟

مارچ 2014ء، شیر بنگلہ نیشنل اسٹیڈیم، ڈھاکہ میں پاکستان کو روایتی حریف بھارت کے خلاف 246 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 44 ویں اوور میں 200 رنز پر پانچویں وکٹ کا نقصان ہوا۔ شاہد آفریدی میدان میں اترے۔ پاکستان کو 39 گیندوں پر 46 رنز کی ضرورت تھی۔ مقابلہ اب بھی گرفت میں تھا لیکن دوسرے کنارے پر وکٹیں گرتی رہیں۔ شاہد آفریدی چھکوں اور چوکوں کے ذریعے خسارے کو کم کرتے رہے یہاں تک کہ 12 گیندوں پر 13 رنز رہ گئے اور پاکستان کو ایک ہی اوور میں دو مزید وکٹوں کا نقصان ہوا۔ آخری اوور میں جب 10 رنز درکار تھے تو نواں کھلاڑی بھی آؤٹ ہو گیا اور معاملہ آخری سپاہی تک پہنچ گیا۔ یہاں جنید خان نے قیمتی رن دوڑ کے اسٹرائیک شاہد آفریدی کے حوالے کی جنہوں نے آخری اوور کی تیسری و چوتھی گیند پر دو یادگار چھکے لگا کے مقابلے کا فیصلہ کردیا۔ پاکستان صرف ایک وکٹ سے جیت گیا۔ صرف ایک دن چھوڑ کر پاکستان کو 327 رنز کے ہدف کا سامنا تھا اور حالات تقریباً وہی تھے۔ 225 رنز پر پانچ وکٹیں گریں تو اسے 102 رنز کی ضرورت تھی اور گیندیں صرف 52 باقی تھیں۔ یہاں "لالا" کا جادو ایک مرتبہ پھر چلا۔ آتے ہی انہوں نے دو چھکے لگائے اور صرف 25 گیندوں پر 59 رنز بنا کر مقابلہ پاکستان کے حق میں جھکا دیا۔ وہ حتمی وار تو نہ لگا سکے لیکن ان کی اننگز نے پاکستان کو آخری اوور میں کامیابی سے ہمکنار ضرور کیا۔ یہ تاریخ میں پاکستان کا کامیابی سے حاصل کیا گیا سب سے بڑا ہدف تھا۔

یہ پہلے مواقع نہیں تھے کہ شاہد آفریدی نے دھارے کو پلٹ دیا ہو، ناممکن کو ممکن بنایا ہو، ایسے درجنوں مقابلے ہیں جہاں "لالا" نے اپنی بلے بازی سے مقابلوں کا نقشہ پلٹا اور ایسے مواقع صرف ایک روزہ نہیں بلکہ ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ تک میں دیکھے گئے۔ لیکن "اب وہ چھوٹا سا، الہڑ سا لڑکا کہاں؟" شاہد آفریدی انگلستان کے خلاف سیریز میں اچھی فارم میں نظر آئے۔ باؤلنگ بھی اچھی کی، فیلڈنگ میں بھی خوب پھرتیاں دکھائیں اور عمدہ کیچ لیے اور سب سے بڑھ کر کافی اچھی بیٹنگ کی، لیکن، مقابلہ کا خاتمہ نہ کرسکے۔

یہ بھی پڑھیں:  "کلب" سطح کے بالرز، "ٹیسٹ" ٹیم میں!

دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں جہاں پاکستان کو 173 رنز کے ہدف کا سامنا تھا۔ مقابلہ اس وقت بہت مشکل تھا جب سترہویں اوور میں شعیب ملک آؤٹ ہوئے 20 گیندوں پر پاکستان کو 53 رنز کی ضرورت تھی۔ شاہد آفریدی آئے، 3 چھکے لگائے، 8 گیندوں پر 24 رنز بنائے لیکن 18 ویں اوور کی آخری گیند پر لڑکھڑائے اور یوں پاکستان بھی مقابلے کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔ انور علی اور سہیل تنویر کی کوشش بھی اسے کامیابی سے ہمکنار نہ کرسکی اور پاکستان صرف 3 رنز سے ہار گیا۔

Shahid-Afridi3

پھر تیسرا ٹی ٹوئنٹی آیا، پاکستان کو 155 رنز کا ہدف ملا شعیب ملک اور محمد رضوان کی عمدہ بلے بازی نے معاملات کافی حد تک ٹھیک کردیے لیکن رضوان کے بعد عمر اکمل کی ناکامی سے ایک مرتبہ پھر گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ اس مرتبہ کپتان آفریدی نے سمجھداری سے کھیلا۔ تین بلند و بالا چھکوں کی بدولت 29 رنز بنائے اور جب پاکستان مکمل طور پر چھا گیا تو کلین بولڈ ہوگئے۔ شعیب ملک کی 54 گیندوں پر 75 رنز کی اننگز رائیگاں گئیں اور مقابلہ ٹائی ہوگیا جسے سپر اوور نے شکست میں تبدیل کردیا۔

ان دونوں مقابلوں میں مایوس کن شکست پاکستان کو عالمی درجہ بندی میں دوسرے سے چھٹے نمبر پر لے آئی ہے اور جو شاہد آفریدی کے لیے بہت مایوس کن بات ہے۔ خاص طور پر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے صرف چند مہینے پہلے۔

شاہد آفریدی کا ترنگ میں نظر آنا پاکستان کے لیے خوش آئند ہے تو ان کی finishing کی صلاحیت کا خاتمہ ایک پریشان کن بات۔ ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقابلے کو تبدیل کرنے والی اننگز کھیلیں اور اسے کامیابی تک بھی پہنچائیں۔ ان کے کیریئر کے محض چند مہینے ہی باقی رہ گئے ہیں کیونکہ وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2016ء کے بعد بین الاقوامی کرکٹ چھوڑ دیں گے۔ اس لیے نیوزی لینڈ کے دورے پر اور اس کے بعد عالمی اعزاز کے حصول کے لیے ان کی کارکردگی عرصے تک یاد رکھی جائے گا۔ اس وقت مقابلے کا پانسہ پلٹ دینے والا پاکستان کے پاس صرف ایک کھلاڑی ہے، اور اگر وہی اس صلاحیت کو پوری طرح استعمال نہ کر سکے تو پاکستان کو مزید شکستوں کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔

Facebook Comments