شاہد آفریدی کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان

پاکستانی ٹیم کے سابق کپتان اور دنیا بھر میں معروف بوم بوم آفریدی نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا ہے۔ آفریدی کو گزشتہ دنوں دورہ ویسٹ انڈیز سے واپسی کے بعد بیان دینے کی پاداش میں کپتانی سے ہٹا دیا گیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ و دیگر اعلیٰ حکام کی جانب سے شاہد آفریدی کو کپتانی سے ہٹائے جانے کی ٹھوس وجوہات ہونے اور فیصلے کا دفاع کیا جاتا رہا لیکن بورڈ کی جانب سے ماضی کی طرح آفریدی کے خلاف براہ راست اقدام کے بجائے انہیں غیر ضروری دباؤ میں رکھنے اور بارہا زچ کیے جانے کی کوشش کی جاتی رہی۔ پی سی بی کے انہی بے وقوفانہ فیصلوں اور غیر ذمہ دارانہ رویے سے تنگ آکر شاہد آفریدی نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا اور یوں پاکستانی ٹیم کا ایک مایہ ناز آل راؤنڈ کھلاڑی بورڈ میں قائم آمریتی نظام کی بھینٹ چڑھ گیا۔

شاہد آفریدی نے پی سی بی کے خراب رویے پر بطور احتجاج ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا (تصویر: اے ایف پی)

شاہد خان آفریدی کے خلاف بورڈ کا مسلسل ناقدانہ رویہ اور کپتان کے کام میں حکام کی بے جا مداخلت کا ایک پہلو اس وقت سامنے آیا جب گزشتہ سال آفریدی نے دورہ انگلستان کے موقع پر اچانک ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ محض ایک ٹیسٹ میں شکست کے بعد کپتان کی ریٹائرمنٹ کا فیصلوں بہت حیرت انگیز تھا تاہم آفریدی کی ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد پیش آنے والے اسپاٹ فکسنگ کے واقعات نے اصل وجہ کا پردہ فاش کردیا۔ آفریدی کے فیصلے سے یہ بات واضح ہوگئی کے نہ صرف ٹیم کے کھلاڑی بلکہ بورڈ انتظامیہ کے اراکین بھی کرپٹ عناصر سے روابط رکھتے ہیں اور انہیں کوئی بھی ایسا کپتان برداشت نہیں جو ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دیتا ہو۔ شاہد آفریدی کی 'فکسنگ' معاملات میں بڑی رکاوٹ ہونے کی گواہی بعدازاں اسپاٹ فکسنگ کے مرکزی کردار مظہر مجید کے ذریعے بھی سامنے آئی۔

شاہد خان آفریدی نے بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹیم کو اس وقت سنبھالا کہ جب وہ اسپاٹ فکسنگ معاملات میں بری طرح گھر چکی تھی۔ اس کے بعد ذوالقرنین حیدر کا واقعہ رونما ہوا پھر بھی ٹیم نے انگلستان اور جنوبی افریقہ میں میزبان ملکوں کے خلاف سیریز میں سخت مقابلہ کیا۔ بعد ازاں انہی کی قیادت میں ٹیم نے نیوزی لینڈ کو نیوزی لینڈ میں شکست دی اور پھر عالمی کپ کے سیمی فائنل تک بھی رسائی حاصل کی۔ حال ہی میں ویسٹ انڈیز کو اسی کی سرزمین پر بھی شکست دی۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ ان کی تمام تر کارکردگی کے باوجود بورڈ کا جانب سے روا رکھے جانے والے رویے سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا مستقبل زیادہ تابناک نہیں۔ شاہد آفریدی نے بورڈ حکام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے بورڈ کے تحت نہیں کھیل سکتے جو کھلاڑیوں کی عزت نہ کرتا ہو لہٰذا وہ اس معاملے پر بطور احتجاج ریٹائرمنٹ کا اعلان کررہے ہیں۔

ایک روزہ مقابلوں میں تیز ترین سنچری بنانے کا اعزاز رکھنے والے 31 سالہ مایہ ناز پاکستانی آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی دنیا بھر میں بوم بوم آفریدی کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ ان کا جارحانہ کھیل کا انداز نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے شائقین کرکٹ میں یکساں پسند کیا جاتا ہے۔ بوم بوم آفریدی نے اب تک 325 ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں میں 113.82 کے اسٹرائک ریٹ سے 6695 رنز بنائے جن میں 31 نصف سنچریاں اور 6 سنچری شامل ہیں۔ علاوہ ازیں شاہد آفریدی نے ایک روزہ مقابلوں کے دوران مجموعی طور پر 315 وکٹیں بھی حاصل کیں۔

شاہد آفریدی کی پاکستانی کرکٹ ٹیم میں غیر موجودگی کا سب سے زیادہ فائدہ پی سی بی میں موجود کرپٹ عناصر کو ہوگا۔ وہ کھلاڑی جن کی میدان سے زیادہ بیرونی دنیا میں کارکردگی بہتر رہی اور جن کا نام مختلف نتازعات میں سامنے آتا رہا کو آفریدی کے اس فیصلے سے اطمینان حاصل ہوا ہوگا۔ دورہ ویسٹ انڈیز کے موقع پر شاہد آفریدی کی جانب سے نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیے جانے پر اصرار دراصل مستقبل کے بڑے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے نوجوان دستے کی تیاری تھی تاہم سینئر کھلاڑیوں پر اکتفا کرنے اور ٹیم کی قیادت میں بارہا تبدیلی سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بورڈ انتظامیہ کو ٹیم کا مضبوط کپتان کسی صورت برداشت نہیں۔

شاہد آفریدی کا بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیسا ہے؟


Loading ... Loading ...

Facebook Comments