تاریخ کے 10 ”غصیلے“ اور ”خطرناک“ ترین گیندباز

ہر گزرتے دن کے ساتھ کرکٹ بلے بازوں کا کھیل بنتا جارہا ہے، قواعد و ضوابط بھی اُن کے لیے اور وکٹ کا معیار بھی اُنہی کے لیے۔ اگر گیند بازوں کا کھیل میں کچھ کردار باقی رہ گیا ہے تو بس اتنا کہ جب تک وہ گیند نہیں پھینکیں گے تو بلے باز گیند کو میدان سے باہر کس طرح پھینک سکیں گے؟ لیکن گیند بازوں کا حال شروع سے ہی ایسا نہیں تھا۔ کرکٹ پر ایک طویل دور ایسا بھی گزرا ہے کہ جب کھیل پر گیند بازوں کا راج ہوا کرتا تھا۔ یوں تو سینکڑوں ایسے گیند باز گزرے ہیں جنہوں نے اپنی شاندار گیند بازی کے ذریعے بلے بازوں کو خوف زدہ کیے رکھا لیکن آج ہم نے ان میں سے دس ایسے گیند بازوں کا انتخاب کیا ہے، جن کا آج تک کوئی ثانی نہیں مل سکا۔ تو آئیے اُن دس خطرناک ترین گیند بازوں پر نظر ڈالتے ہیں۔

مچل جانسن

mitchell-johnson

کرکٹ میں بالخصوص باؤلنگ میں ابھی ایک عہد کا خاتمہ ہوا ہے۔ مچل جانسن نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا۔ جدید کرکٹ میں مچل جانسن کا جو مقام رہا ہے، اس کا حقیقی اندازہ شاید چند سالوں کے بعد ہو سکے۔ وہ ایسے گیندباز تھے جنہوں نے ماضی کی یادوں کو تازہ کیا اور بلے بازوں کو بتایا کہ خوف کیا ہوتا ہے۔ جانسن نے ان وکٹوں پر بھی حریف کھلاڑیوں کو پریشان کیا جن میں گیندبازوں کے لیے ذرا سی بھی مدد نہ ہوتی تھی۔ یہ جانسن ہی تھے جنہوں نے اپنی تیز اور خطرناک گیندبازی سے آسٹریلیا کو 2013ء میں ایشیز جتوائی۔ ان کی گیندبازی سے اندازہ ہوا کہ ڈینس للی اور جیف تھامسن کیسی باؤلنگ کرتے ہوں گے۔ جانسن کی باؤلنگ کا خاص پہلو ان کی "بدمعاشی" تھی۔ وہ زورِ بازو اور مہارت کے ساتھ ساتھ آنکھوں اور زبان کا استعمال بھی خوب جانتے تھے اس لیے کئی بلے باز ان سے خوف کھاتے تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جب مچل جانسن اپنے مکمل عروج پر پہنچے تو انہوں نے کرکٹ چھوڑنے کا اعلان کردیا حالانکہ وہ مزید چند سال باآسانی کھیل سکتے تھے۔

کرٹلی ایمبروز

curtly-ambrose

یہ ہیں 6 فٹ 8 انچ طویل قامت کے کرٹلی ایمبروز۔ ان کی طوفانی گیندبازی ہی نہیں بلکہ بیٹسمینوں کو ان کے غصے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ گیند بازی میں یہ ویسٹ انڈیز کے آخری چشم و چراغ تھے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ ان کے بعد کوئی ایسا گیندباز نہیں آیا جن کے نام سے بلے بازوں میں دہشت بیٹھ جاتی ہو۔ وکٹ چاہے کوئی بھی ہو، ایمبروز کو اس سے کوئی سروکار نہ ہوتا۔ وہ اپنے طویل قد، اور ہائی-آرم ایکشن کا پورا پورا فائدہ اٹھانا جانتے تھے۔ جب وہ گیند کرتے تو کبھی گمان ہوتا تھا کہ شاید وکٹ نہیں بلکہ بلے باز کا چہرہ ان کا نشانہ ہے۔

90 ء کی دہائی میں تیز گیندباز وکٹیں لینے کے ساتھ ساتھ رنز کے معاملے میں بھی بڑے فراخ دل ہوتے تھے لیکن ایمبروز کا معاملہ کچھ اور ہی تھا، اس معاملے میں بہت کنجوس تھے۔ اس دعوے کی گواہی ٹیسٹ میں 2.30 اور ایک روزہ میں 3.48 کا معمول اکانمی ریٹ دیتا ہے۔ 1992ء میں آسٹریلیا کے خلاف محض ایک رن دے کر ساتھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنا بھلا کون بھول سکتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے جانے کے بعد ویسٹ انڈیز سے پھر کوئی ایسا گیندباز بھی منظر عام پر نہیں آیا۔

شعیب اختر

shoaib-akhtar

راولپنڈی ایکسپریس، نام ہی کافی ہے۔ خوف کی علامت شعیب اختر نے کسی بلے باز کو نہ بخشا۔ ان کی گولی کی سی رفتار سے ہونے والی یارکرز پویلین اور باؤنسرز ہسپتال پہنچانے کا کام کرتے تھے۔ عظیم برائن لارا اور گیری کرسٹن ان کو کبھی نہیں بھول سکتے۔

شعیب اختر کے طویل رن-اپ سے ہی بلے باز کی آدھی ہمت جواب دے جاتی تھی اور جب گیند 100 میل فی گھنٹے کی رفتار سے اس کے قریب سے گزرتی تو ہوش ٹھکانے آ جاتے تھے۔

تن تنہا پاکستان کو یادگار فتوحات سے ہمکنار کرنے والے شعیب کو عالمی شناخت اس دن ملی جب 1999ء میں کلکتہ کے ایڈن گارڈنز پر پاک-بھارت ٹیسٹ میں انہوں نے دو لگاتار گیندوں پر راہول ڈریوڈ اور سچن تنڈولکر کو کلین بولڈ کیا۔ یہیں سے شعیب اختر کی دہشت کا آغاز ہوا۔ پھر انہوں نے وہ سب کچھ کیا جو یقیناً کسی عام گیند باز کے بس کی بات نہیں تھی۔ 2002ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف لاہور کا میدان ہی یا پھر ویلنگٹن کا، برسبین میں آسٹریلیا ہو یا انگلستان کے میدانوں میں کھیلے گئے عالمی کپ میں دنیا بھر کی ٹیمیں، ان کی برق رفتار گیند دیکھنا یادگار لمحات میں شمار ہوتا۔ شعیب نے لاہور میں نیوزی لینڈ کے مذکورہ مقابلے میں صرف 11 رنز دے کر 6 وکٹیں لی تھیں اور حریف کو صرف 73 رنز پر ڈھیر کیا۔ پھر ویلنگٹن میں 11 وکٹوں نے بھی پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرایا۔ صرف ٹیسٹ ہی نہیں بلکہ اپنے زمانہ عروج میں ایک روزہ میں بھی کوئی ان کا ثانی نہ تھا۔ 2002ء میں برسبین کے میدان پر آسٹریلیا کے خلاف ان کی کارکردگی کون بھول سکتا ہے۔ آسٹریلیا کو 257 رنز کے ہدف کے تعاقب میں صرف 165 رنز پر ڈھیر کرنا شعیب ہی کا کمال تھا۔ جنہوں نے صرف 25 رنز دے کر 5 وکٹیں حاصل کیں۔

اگر شعیب اختر تنازعات کے شکار نہ ہوتے تو ان کا کیریئر مزید طوالت اختیار کرتا لیکن ایسا نہ ہو سکا اور دنیا بھر کے بلے بازوں نے سکون کا سانس لیا۔

وقار یونس

waqar-younis

اگر دنیائے کرکٹ کو بہترین گیندباز کسی ملک نے دیے ہیں تو وہ پاکستان ہے۔ 'ریورس سوئنگ' کا نام تو پہلے ہی سے کرکٹ حلقوں میں موجود تھا لیکن اسے عروج پر پہنچانے والے دراصل وقار یونس تھے۔ 'بوریوالا ایکسپریس' نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے دنیا بھر کے بلے بازوں کو اپنے سر اور پیر بچانے پر مجبور کردیا۔ یہاں تک کہ ان پر گیند کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزامات بھی لگے۔ جو 'ناچ نہ جانے، آنگن ٹیڑھا' والی بات تھی۔

وقار یونس نے وکٹیں توڑیں، یارکرز سے بلے بازوں کے پیر زخمی کیے اور ان کی کھوپڑیوں پر نشانات ثابت کیے۔ ۔ آف اسٹمپ سے کہیں باہر گیند کب اچانک پیروں کا رخ کرتی ہے، کسی بلے باز کو سمجھ نہ آتا۔ کچھ منہ کے بل گرتے اور وکٹ گنوا بیٹھتے، جو بدقسمت واقع ہوتے، ٹخنہ تڑوانے کے بعد عرصے کے لیے میدان سے ہی باہر ہوجاتے۔ ان سے بہتر یارکر گیند پھینکنے والا نہ پہلے دنیا نے کبھی دیکھا اور نہ دوبارہ کبھی دیکھنے کو ملا۔

ٹیسٹ اور ایک روزہ میں محض 23 کے اوسط سے 789 وکٹیں خود بتا رہی ہیں کہ وقار کس پائے کے گیندباز تھے۔ پھر انہیں وسیم اکرم کا ساتھ بھی میسر آیا تو دھوم مچ گئی۔ دونوں 'ٹو ڈبلیوز' کے نام سے معروف تھے اور تاریخ جانتی ہے کہ اس 'شکاری جوڑی' سے زیادہ خوف کسی کا نہ تھا۔

ایلن ڈونلڈ

alan-donald

بجلی کی ایک کوند تھی جو ثانیے میں گزر گئی۔ جنوبی افریقہ کے ایلن ڈونلڈ اپنی تیز گیندبازی کی وجہ سے دنیا بھر کے بلے بازوں کے لیے خطرہ بنے رہے۔ ان کا خوبصورت باؤلنگ ایکشن انہیں ممتاز مقام عطا کرتا اور جب گیند ان کے ہاتھ سے نکلتی تو لمحے بھر کے لیے بلے بازوں میں کپکپی طاری ہو جاتی تھی۔ ڈونلڈ میں ہر وہ خصوصیت تھی جو ایک اچھے تیز گیندباز میں ہونی چاہیے۔ بھرپور رفتار، زیادہ غصہ، باؤنسر اور یارکرز کا زبردست ملاپ اور وکٹوں کی بھوک۔ یہی انہیں تاریخ کے بہترین گیندبازوں میں سے ایک بناتی ہے۔ ان کے غصے کی ایک مثال سب سے عالمی کپ 1996ء میں دیکھی جب متحدہ عرب امارات کے کپتان سلطان زروانی ایلن ڈونلڈ کے خلاف کھیلنے کے لیے بغیر ہیلمٹ کے میدان میں اترے۔ "اس کی یہ جرات؟" پہلی ہی گیند سیدھا کھوپڑی پر پڑی اور زندگی بھر کے لیے انہیں سبق مل گیا کہ "ڈونلڈ کو ہلکا مت لینا!"۔

ڈونلڈ نے تمام ہی طرز کی کرکٹ میں عمدہ کارکردگی دکھائی۔ ٹیسٹ میں 22 کے اوسط سے 330 وکٹیں ان کے ہاتھ لگیں جبکہ ایک روزہ میں 21 کے اوسط سے انہوں نے 272 شکار کیے۔ ان کی کامیابی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا۔ کیریئر کے اختتام پر وہ پے در پے زخمی ہوئے اور یوں کرکٹ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اگڑ ایسا نہ ہوتا تو بلے بازوں پر خوف کا سایہ مزید کچھ عرصے برقرار رہتا۔

جیف تھامسن

jeff-thomson

کرکٹ کے جدید عہد میں داخل ہونے سے پہلے تیز گیندبازی میں آخری افسانوی کردار۔ آسٹریلیا کے جیف تھامسن۔ برق رفتار اور خطرناک گیندبازوں کی کوئی فہرست تھامسن کے بغیر مکمل نہیں ہوگی۔ غیر معمولی ایکشن اور حریف بلے بازوں کو پریشان کرنے کی خواہش انہیں کرکٹ میں ایک منفرد مقام دیتی ہے۔ میدان آسٹریلیا کے ہوں تو کیا ہی بات ہے لیکن کسی دوسرے ملک میں بھی تھامسن کی دہشت کم نہ ہوتی تھی۔ وہ وکٹ کے بجائے اپنے زور بازو پر بھروسہ کرتے تھے اور بلے بازوں کو تنگ کرنا ان کا مشغلہ تھا۔

1974-75ء کی ایشیز میں تھامسن نے اپنے ساتھی ڈینس للی کے ساتھ انگلستان کے کھلاڑیوں کے لیے بلے بازی کو مشکل ترین کام بنا دیا۔ بدقسمتی سے وہ کندھے کی انجری کی وجہ سے اپنی رفتار برقرار رکھنے میں ناکام رہے مگر باوجود اس کے ٹیم میں ان کی شمولیت مخالفین کے لیے ہمیشہ پریشانی کا باعث رہی۔

تھامسن عرصہ دراز تک تاریخ کے تیز ترین گیندباز رہے۔ وہ اولین باؤلرز میں سے ایک تھے جن کی رفتار ریکارڈ کی گئی جو 160 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے زیادہ تھی۔ یوں وہ "تیز ترین گیندباز" بن گئے ۔ ان کا ریکارڈ تقریباً 28 سال تک برقرار رہا یہاں تک کہ شعیب اختر نے توڑا۔

اینڈی رابرٹس

andy-roberts

اینڈی رابرٹس ویسٹ انڈیز کے"ہیبت ناک چار" گیندبازوں میں سے ایک تھے اور یہی وہ دور تھا جب ویسٹ انڈیز "کالی آندھی" بنا۔ رابرٹس کا سامنا کرنا دنیا بھر کے بلے بازوں کے لیے کسی سزا سے کم نہ تھا۔ تیز رفتار گیندوں کے ساتھ ساتھ رابرٹس ان ابتدائی گیندبازوں میں سے تھی جنہوں نے "دھیمی گیند" پھینکنے کی شروعات کی۔

1975ء اور 1979ء کی عالمی چیمپئن ویسٹ انڈین ٹیم کا حصہ رہنے والے رابرٹس اپنے کیریئر کے اختتامی ایام میں رفتار میں کمی کا شکار ہوئے۔ پھر ان کے لیے وکٹ کی مدد کے بغیر اچھی گیندبازی کرنا مشکل ہوگیا تھا لیکن نام کی دہشت پھر بھی تھی اور وہ آج بھی تاریخ کے خطرناک ترین گیندبازوں میں شمار ہوتے ہیں۔

مائیکل ہولڈنگ

michael-holding

ویسٹ انڈیز جیسی دہشت تاریخ میں شاید ہی کسی اور ٹیم کو ملے اور اس کا سبب تھے اس کے برق رفتار اور خطرناک گیندباز جن میں نمایاں ترین تھے مائیکل ہولڈنگ۔ آج جن کی آواز ہمیں کمنٹری میں سنائی دیتی ہے، کبھی ان ہاتھوں میں مائیک کے بجائے گیند ہوا کرتی تھی اور دنیا بھر کے بلے باز تھر تھر کانپتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ہولڈنگ تاریخ کے تیز ترین گیندباز تھے لیکن کیونکہ اس کی کبھی پیمائش نہیں کی گئی اس لیے حتمی رائے کوئی نہیں دی جا سکتی۔

ہولڈنگ کو ان کے رواں باؤلنگ ایکشن کی وجہ سے "خاموش موت" کہا جاتا تھا۔ وہ اتنی سرعت کے ساتھ سے امپائر کے قریب سے گزر جاتے تھے کہ امپائر ڈیوڈ شیفرڈ کہتے تھے کہ ایسا لگتا تھا کہ برابر سے کوئی سرگوشی کر گیا۔ اس کے باوجود ان کی رفتار بلندیوں کو چھوتی۔ ان کا غصہ بھی کسی سے ڈھکی چھپی چیز نہ تھی۔ 1980ء کے دورۂ نیوزی لینڈ میں امپائر کے فیصلے پر ناخوش ہونے کے بعد لات مار کر وکٹیں بکھیر دینے کی حرکت کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا، یہ ہمت صرف ہولڈنگ میں تھی۔ پھر 1981ء میں برج ٹاؤن، بارباڈوس میں دنیا کے نمبر ایک گیندباز جیفری بائیکاٹ کو پانچ گیندوں پر تگنی کا ناچ نچانے کے بعد آخری پر آؤٹ کرنا آج بھی "تاریخ کا بہترین اوور" کہلاتا ہے۔

ہولڈنگ اور ان کے ساتھیوں نے دنیائے کرکٹ پر ایسی دہشت بٹھائی کہ عرصے تک اس کا فائدہ آنے والے ویسٹ انڈین باؤلرز اٹھاتے رہے۔

ڈینس للی

dennis-lillee

سر پر پٹی باندھے بدتمیز، اکھڑ مزاج اور غصیلا، یہ تھا ڈینس للی۔ جس کی غیر معمولی گیندبازی صرف آسٹریلیا ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں مشہور تھی۔

پورے کیریئر میں جس ملک کے بلے بازوں کو انہوں نے خاص طور پر پریشان کیا، وہ روایتی حریف انگلستان کے تھے۔ اپنے ساتھی جیف تھامسن کے ساتھ انہوں نے مخالفین کو ڈرانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ 13 سالہ کیریئر میں للی نے 70 ٹیسٹ کھیلے اور 23.92 کے اوسط سے 355 وکٹیں لیں، جن میں 23 بار اننگز میں پانچ یا زیادہ وکٹیں لینے کا کارنامہ بھی شامل ہے۔ درحقیقت یہی وہ کارکردگی ہے جس کی بنیاد پر دنیا انہیں یاد کرتی ہے اور بعد میں آنے والے بلے باز سکھ کا سانس لیتے ہیں وہ اُس دور میں نہیں کھیلتے تھے۔ آئیں، ان کے کیریئر کی ایک مزیدار وڈیو دیکھتے ہیں جب انہوں نے پاکستان کے "اسٹریٹ فائٹر" جاوید میانداد کو چھیڑا۔

ہیرلڈ لارووڈ

harold-larwood

تیز گیندباز کیا ہوتی ہے؟ اس سے بلے بازوں کو کیسے پریشان کیا جا سکتا ہے؟ اور آؤٹ کرنے کے بعد بلے باز کے دل میں دہشت بٹھانا کسے کہتے ہیں؟ ان تمام سوالوں کے جواب ہمیں ہیرلڈ لارووڈ نے دیے۔ وہ 1932-33ء کی ایشیز میں بدنام زمانہ 'باڈی لائن' حکمت عملی کو میدان عمل میں لانے والے گیندبازوں میں سے ایک تھے۔ شاید اس سے زیادہ کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔ یہ حکمت عملی تھی وکٹوں کے بجائے جسموں کو نشانہ بنانے کی اور ان گیندبازوں کی دہشت ہی الگ تھی بلکہ کئی بلے بازوں کے لیے تو لارووڈ اور دیگر انگلش باؤلرز نفرت کی علامت تھے۔ اس سیریز میں آسٹریلیا کے دو بلے بازوں کا کیریئر ختم ہوا۔ عظیم بلے باز ڈان بریڈمین ایک ہی سیریز میں چار مرتبہ لارووڈ کا نشانہ بنے۔

اس سیریز میں کئی کھلاڑی زخمی ہوئے۔ وکٹیں تو باؤلرز نے سمیٹیں لیکن عزت حاصل نہ کرسکے۔ ان حرکات کے باوجود لارووڈ کا کیریئر طویل نہ ہو سکا اور محض 21 مقابلوں میں ہی وہ انگلستان کی نمائندگی کر پائے، جس میں انہوں نے 78 وکٹیں لیں۔ لیکن کیونکہ ایک مرتبہ ان کے "منہ کو خون لگ گیا تھا"، اس لیے ہر سیریز میں بلے باز ان سے دہشت زدہ ہوتے تھے۔

Facebook Comments