قومی ٹیم میں واپسی، محمد عامر کی راہیں ہموار ہونے کا امکان

وہ "صرف" ایک نو-بال تھی جس نے دنیائے کے نوعمر لیکن باصلاحیت ترین گیندباز محمد عامر پر کرکٹ کے دروازے بند کردیے۔ پانچ سال کی مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں قید بھی کاٹنا پڑی اور جب اللہ اللہ کرکے یہ سب سزائیں مکمل ہوئیں تو ٹیم کے اندر سے بھی اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے بھی آوازیں اٹھنے لگیں کہ محمد عامر کو دوبارہ پاکستان کے لیے نہیں کھلانا چاہیے۔ لیکن اس دوران بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کا آغاز ہوتا ہے جس سے قبل چٹاگانگ وائی کنگز نے محمد عامر کو کھلانے کا بہت سخت اور اہم فیصلہ لیا۔ یہاں اب تک محمد عامر نے جو کارکردگی پیش کی ہے، اس سے لگتا ہے کہ جو سفر 2010ء میں تھما تھا، اب وہیں سے شروع ہوگیا ہے۔ اسی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ٹیم انتظامیہ نے نوجوان گیندباز کو ٹیم میں شامل کرنے کے اشارے دینا شروع کردیے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر دفتر میں چیئرمین شہریار خان، ہیڈ کوچ وقار یونس اور چیف سلیکٹر ہارون رشید کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں ٹیم کی کارکردگی اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے شہریار خان نے کہا کہ محمد عامر کو ٹیم میں شامل کرنے کا سوچا جا رہا ہے جبکہ ہیڈ کوچ نے کہا کہ اگر عامر اپنی سزا بھگت چکا ہے اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ بھی کر رہا ہے تو ضرور اس کو ٹیم میں شامل کیا جانا چاہیے۔

شہریار خان نے کہا کہ یقیناً عامر اچھی فارم میں ہے اور ٹیم میں اُس کی موجودگی سے فائدہ ہوگا مگر ٹیم میں شامل کرنے سے قبل ہم عامر کو بلائیں گے اور اُن کو تلقین کریں گے کہ جو غلطی اُن سے ہوئی ہے وہ اُس سے سبق سیکھیں اور مستقبل میں ایسے کسی بھی کام میں ملوث نہ ہونے کی یقین دہانی کروائیں، صرف یہی نہیں بلکہ ہم اُن سے بہتر رویے کو اپنانے کا بھی کہیں گے۔انہوں نے مزید کہ اگرچہ عامر اپنی سزا مکمل کرچکے ہیں مگر اِس کے باوجود بھی ٹیم میں اُن کی شمولیت کے حوالے سے کچھ دشواریاں ہے مگر وہ انہیں دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر چیف سلیکٹر نے کارکردگی کی بنیاد پر عامر کو منتخب کرلیا تو وہ بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ میں عامر کو دوسرا موقع دینے کی سفارش ضرور کریں گے۔

جب پی سی بی چیئرمین سے عامر کے حوالے سے کھلاڑیوں کے تحفظات اور بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں محمد حفیظ کی جانب سے عامر کے ساتھ نہ کھیلنے کے اعلان کے حوالے سے پوچھا گیا تو شہریار خان نے کہا کہ یقیناً یہ مسائل درپیش ہیں مگر ہم عامر کو ٹیم میں شامل کرنے سے قبل نہ صرف سے بات ہوگی بلکہ ٹیم انتظامیہ، سلیکٹرز اور کھلاڑیوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔

اِسی موقع جب وقار یونس سے عامر کی شمولیت کے حوالے سے سوال کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے چیئرمین پی سی بی سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے اور ہم سبھی کا خیال ہے کہ جب عامر اپنی سزا بھی مکمل کرچکا ہے اور مسلسل اچھی کارکردگی کے ذریعے اپنی فارم بھی ثابت کرچکا ہے تو انہیں دوسرا موقع ملنا چاہیے۔

محمد عامر اگست 2010ء سے بین الاقوامی کرکٹ سے دور ہیں، جب انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں وہ اسپاٹ فکسنگ پر دھر لیے گئے تھے۔ اس وقت ان کی عمر صرف 18 سال تھی۔ عامر ٹیسٹ کرکٹ میں 50 وکٹیں لینے والے کم عمر ترین باؤلر تھے۔ پانچ سال کی پابندی مکمل ہونے کے بعد عامر اس وقت چٹاگانگ کی جانب سے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کھیل رہے ہیں اور مسلسل اچھی کارکردگی پیش کرکے انہوں نے عوام کے ساتھ ساتھ "خواص" کے دل بھی موہ لیے ہیں۔

Facebook Comments