محمد عامر کو پاکستان کی نمائندگی کا موقع نہیں ملنا چاہیے، لیکن کیوں؟

25 مارچ 1992ء جب ملبورن کرکٹ گراؤنڈ میں پاکستان نے ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کا تاج اپنے سر پر سجایا۔ تب وہ خاص صلاحیت رکھنے والا بچہ دنیا کے بکھیڑوں سے دور اپنی چھوٹی سی دنیا یعنی ماں کی کوکھ میں سکون کی نیند سو رہا تھا۔ پورا پاکستان خوشی و مسرت سے جھوم رہا۔ کرکٹ سے دور پرے کا واسطہ بھی نہ رکھنے والے اپنے ہم وطنوں کی خوشی میں تن و من سے شریک تھے۔ کراچی سے خیبر تک جشن کا سماں تھا اور شاید ابھی یہ ہنگامہ جاری ہی تھا کہ اس بچے کی آنکھ کھل گئی۔یہ 13 اپریل 1992ء تھا جب گوجر خان کے نواحی گاؤں چنگا بنگیال میں ننھا منا محمد عامر پیدا ہوا۔ اس بچے کی آمد سے گھرانے میں پاکستان کے عالمی چیمپئن بننے کی خوشی دوبالا ہوگئی۔ حسب ماحول بچے کو تعلیم سے زیادہ دلچسپی کرکٹ سے تھی۔ اس دیوانگی میں وہ پہلے اپنے گاؤں اور پھر علاقے کے لیے کرکٹ کھیلتے کھیلتے 2003ء میں صرف 11 سال کی عمر میں باجوہ کرکٹ اکیڈمی، راولپنڈی کے آصف باجوہ کی نظروں میں آ گیا۔ یوں اکیڈمی میں تربیت کی دعوت آئی اور عامر نے اسے قبول کرلیا۔ یہ کامیابی و کامران کی طرف عامر کا پہلا قدم تھا اور محض چار سال بعد محمد عامر پاکستان انڈر-19 کے ساتھ انگلستان کے دورے پر تھا۔

دورۂ انگلستان سے واپسی پر محمد عامر نے پہلا فرسٹ کلاس مقابلہ فیڈرل ایریاز کی طرف سے نیشنل بینک آف پاکستان کے خلاف کھیلا۔ اپنے پہلے ہی سیزن میں محمد عامر نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 55 وکٹیں حاصل کیں اور نئی بلندیوں کی جانب سفر کا آغاز کیا۔ چند مہینے بعد وہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009ء کھیلنے والے پاکستانی دستے کا حصہ تھے اور انگلستان کے خلاف اپنے اولین ٹی ٹوئنٹی بین الاقوامی مقابلے میں انہوں نے پہلے ہی اوور میں روی بوپارا کو آؤٹ کرکے دنیائے کرکٹ میں اپنی آمد کا باضابطہ اعلان کیا۔ اس یادگار ٹورنامنٹ میں محمد عامر نے سعید اجمل، شاہد آفریدی، یاسر عرفات اور عمر گل کے ساتھ مل کر پاکستان ٹی ٹوئنٹی کی دنیا کا خطرناک ترین باؤلنگ دستہ بنایا، جس نے آگے جاکر پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بنایا۔

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی ٹرافی کے ساتھ واپسی کے بعد عامر کو سری لنکا کے دورے کے لیے منتخب کیا گیا جہاں 4 جولائی کو انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ اور 30 جولائی کو پہلا ایک روزہ کھیلا۔ اب عامر کے لیے آگے کا سفر تھا، پیچھے مڑ کر دیکھنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ آصف، عامر اور گل کی جوڑی نے "AAG" لگا دی اور ہر طرف ان کا چرچا تھا۔ وسیم اکرم اور وقار یونس کے بعد محمد آصف اور محمد عامر کی صورت میں پاکستان کو ایسے گیندباز مل گئے تھے جو عمر گل کے ساتھ مل کر کسی بھی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت سے مالامال تھے۔ اگر پاکستان کی ناقص بلے بازی، فیلڈنگ اور وکٹ کیپر کامران اکمل کی کارکردگی آڑے نہ آتی تو بلاشبہ آسٹریلیا و انگلستان میں طویل عرصے بعد پاکستان کامیابیاں ضرور حاصل کرتا۔ لیکن ناکامی کے باوجود پاکستان کو محمد عامر کی صورت میں "نیا ہیرو" مل چکا تھا۔ جس کی جادوئی کلائی کا کمال دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ عامر کی ہوا میں لہراتی گیندیں جب مخالف بلے بازوں کو غچہ دیتی ہوئی وکٹوں میں جا گھستی یا بلّے کو چھوتی ہوئی پیچھے کھڑے وکٹ کیپر اور فیلڈرز کے ہاتھوں میں جاتیں، تو وہ سرور کا لمحہ ہوتا تھا۔ آصف، عامر، گل اور اجمل، پاکستان کے پاس سب کچھ تھا جس کی کوئی ٹیم خواہش کر سکتی تھی۔

لیکن۔۔۔۔۔۔ پھر وہ منحوس دن آ گیا۔ 26 اگست 2010ء۔ محمد عامر انگلستان کے ایلسٹر کک کو گیند پھینکتے ہوئے۔ نو بال! وہ بھی بہت بڑی۔ تقریباً نصف میٹر کی نوبال۔ لارڈز میں، جو کرکٹ کی دنیا کا مرکز و محور رہا ہے، محض میدان میں اترنا ہی کسی کے لیے بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے، ہر کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے۔ اس میدان پر جہاں ملک کا پرچم لگائے کھلاڑی اترے تو اگست کے ان آخری ایام میں انہوں نے اس اس کی حرمت کا پاس نہیں کیا۔ جو پاکستان کرکٹ سے محبت کرنے والے تھے، دعا کر رہے تھے کہ منہ برس جائے اور اگلے چند دنوں کا کھیل ہی ممکن نہ ہو سکے تاکہ وہ صورتیں نہ دیکھنی پڑیں۔ لیکن ایسا نہیں ہوا، مقابلہ ہو ہوا لیکن شاید ہی کوئی ایسا شخص ہوگا جس میں یہ مقابلہ دیکھے یا کھیلنےکی چاہ ہوگی۔ نہ جیتنے والے کو خوشی تھی اور نہ شکست کھانے والے کوئی غم۔ وہ دن، وہ لمحات کوئی پاکستانی کرکٹ پرستار کیسے اور کیونکر بھلا سکتا ہے؟

ایک لمحے کے لیے غور کیجیے۔ پاکستان کی آبادی 18 کروڑ ہے اور ان میں سے تقریباً 9 کروڑ مرد ہیں۔ اب ان میں سے ایک کروڑ ایسے ہیں جو بین الاقوامی کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔ 50 لاکھ اس کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں یعنی اس وقت لاکھوں محمد عامر پاکستان کی گلیوں اور میدانوں میں کرکٹ کھیل رہے تھے، جو پاکستان کی نمائندگی کر سکتے تھے، قابل بھی تھے، صلاحیت بھی رکھتے تھے اور امیدوار بھی تھے۔ لیکن یہ شرف ملا کتنے کھلاڑیوں کو؟ صرف 11 کو اور لاکھوں میں سے 11 کا انتخاب حد درجہ کٹھن کام ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام کو دیکھتے ہوئے تو ان کھلاڑیوں کا چننا اور زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اس پس منظر میں دیکھیں تو پاکستان کے لیے کھیلنے والا ملک کے خوش نصیب ترین انسانوں میں سے ہوتا ہے۔ اسے آپ واقعی لاکھوں میں ایک کہہ سکتے ہیں لیکن ان کھلاڑیوں نے اس اعزاز کی بے حرمتی کی، اسے پامال کیا۔ ان کے سینے پر جو سنہرے رنگ کا ستارہ ہے، اس پر جو پاکستان لکھا ہے اس کا احترام نہیں کیا۔ کہتے ہیں کہ محمد عامر نے ایک جرم کیا اور اس جرم کی سزا عدالت سے بھی پائی اور کاٹی۔ اب انہیں ایک اور موقع دینا چاہیے۔

کیا واقعی محمد عامر کو اپنے جرم کی حقیقی سزا مل چکی ہے؟ ملک کے ساتھ غداری، شائقین کرکٹ کے ساتھ ناانصافی اور وطن عزیز کے نام کو داغ دار کرنا، کیا ان جرائم کی سزا دینا ممکن بھی ہے؟ عدالت میں عامر کو جرم کی سزا ملی لیکن اپنے دیس کے رہنے والے کے اعتماد کو تار تار کرنے کے جرم ، سبز ہلالی پرچم کو بے وقعت کرنے اور اپنے ساتھیوں، اپنے مینیجر، سلیکٹرز اور خود سے منسلک ہر کرکٹ سے وابستہ شخص سے دغا بازی کی سزا تو اب بھی نہیں ملی۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ محمد عامر کو گرین شرٹ دے دیں، ٹیسٹ کیپ دے دیں، سلیکٹرز اور ٹیم کے ساتھی کھلاڑی انہیں معاف کرکے ایک اور موقع دے دیں۔ لیکن یہ فیصلہ تو گرین شرٹ نے ہی کرنا ہے، ٹیسٹ کیپ ہی کرے گی، ٹیم کے اراکین ہی کریں گے اور سلیکٹرز ہی مہر ثبت کریں گے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سب محمد عامر کے حق میں فیصلہ کر بھی دیں کیونکہ پاکستان میں اصول و اخلاق کا اتنا توازن پایا نہیں جاتا۔ عذر بھی پیش کیا جاتا ہے کہ ماضی میں بھی عظیم کھلاڑیوں کو غلطی کے باوجود دوبارہ پاکستان کی نمائندگی کا موقع دیا گیا تو عامر کو کیوں نہیں؟

بنیادی نقطہ ہی یہی ہے۔ اگر ماضی میں مجرم کو نشان عبرت بنایا جاتا تو شاید 2010ء میں محمد عامر نے جو کیا، وہ قدم اٹھانے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتے کہ اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔ اس لیے آج محمد عامر کو عبرت کا نشان بنا دیں، آنے والی نسلیں گرین شرٹ بیچنے سے قبل کم از کم ایک مرتبہ ضرور اس انجام کے بارے میں سوچیں گی۔

Facebook Comments