کیا محمد عامر کو دوسرا موقع ملنا چاہیے؟

انسان خطا کا پُتلا ہے، روئے زمین پر کوئی ایسا انسان نہیں ہے جس سے کبھی غلطی کا ظہور نہ ہوا ہو۔ نیکی اور بدی کا تصور اس دنیا میں انسان کی آمد سے اپنا وجود رکھتا ہے۔ پھر ایسے انسان بھی ہر زمانے میں موجود رہے ہیں جو اپنے صابرانہ مزاج اور اچھی طبیعت کی وجہ سے دوسروں کے نقائص کو نظر انداز کرتے ہیں لیکن آج کل ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہم ایسے معاشروں میں ہیں جہاں شرافت گزرے زمانوں کی ایک بھولی بسری داستان ہے اور اچھائی ایک خامی کے علاوہ کچھ نہیں۔ یہاں تک کہ جن لوگوں کو معاشرے کے لیے بہترین نمونہ سمجھا جاتا ہے، وہ قبیح فعل سرانجام دیتے ہوئے پکڑے جائیں تو انسانیت پر سے اعتماد تو اٹھے گا ہی۔

یہی کہانی دراصل لارڈز کے میدان پر پانچ سال قبل ہونے والی ”غلطی“ کی ہے۔ چلیں بغیر کسی لگی لپٹی کے بات کرتے ہیں، جب اگست 2010ء کے آخری ایام میں لارڈز کے میدان پر پاک-انگلستان چوتھا ٹیسٹ جاری تھا تو اس دوران ایک نئی بحث نے جنم لیا۔ دراصل یہ اتفاقیہ نہیں بلکہ جان بوجھ کر پھینکی گئی نو-بالز کا معاملہ تھا جن کا مقصد ذاتی مالی مفادات کا حصول تھا۔ بس وہ دن تھا جس نے کرکٹ دیکھنے کے زاویے ہمیشہ کے لیے تبدیل کردیے۔

جب تین کھلاڑیوں سلمان بٹ، محمد آصف اور محمد عامر نے صرف چند ہزار پاؤنڈز کی خاطر اپنے ایمان کا سودا کیا اور ملک و قوم کی عزت کو بھی داغ دار کیا۔ ایسا کرنے سے پہلے انہوں نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ وہ کرکٹ کی ساکھ کو خراب کر رہے ہیں، وہی کھیل جس نے ان کھلاڑیوں کو عزت و مرتبہ دیا۔ ایسا مقام جس کا انہوں نے خواب و خیال میں بھی تصور نہ کیا ہوا، دراصل یہ ناشکری کی انتہا تھی۔ اس غلطی کے باوجود تینوں کھلاڑی جتنے پر سکون نظر آتے ہیں، یہ دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ انہوں نے کوئی غلطی کی ہی نہیں۔ مگر ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ شائقین کرکٹ صرف کھیل کی قدر کرتے ہیں، غلط کاموں کی نہیں۔

یہ وہ حرکت تھی جس کے بعد کھیل کے میدان پر ہونے والی کسی بھی غیر معمولی حرکت کو شائقین کرکٹ شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں۔ ابھی گزشتہ روز آسٹریلیا-ویسٹ انڈیز پہلے ٹیسٹ کے دوران جب باؤلنگ کے دوران شینن گیبریل کا قدم کریز سے کوئی نصف میٹر آگے جا پڑا، تو بڑا نو-بال دیکھ کر سب کے ذہنوں میں فوراً ہی شکوک نے جنم لیا ہوگا کہ کہیں یہ بھی؟؟ یہ ان کھلاڑیوں کی توہین ہے جو اپنی بھرپور محنت سے کھیلتے ہیں، جدوجہد کرتے ہیں اور جان لڑا دیتے ہیں لیکن ان کی معمولی سی غلطی کو بھی اب سراہنے کے بجائے یہ سوچا جاتا ہے کہ کہیں کوئی گڑبڑ تو نہیں ہے اور اس کا پورا پورا ”گناہ“ ان تین کھلاڑیوں کو ملے گا۔

ایسا نہیں کہ لارڈز ٹیسٹ سے قبل کبھی ایسی حرکتیں نہیں ہوئیں، لیکن جتنے واضح ثبوتوں کے ساتھ یہ جرم پکڑا گیا، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہيں ملتی۔ چند ٹکوں کے حصول کے لیے کیے گئے اس کام نے ان کھلاڑیوں کو اتنا پستی کی جانب دھکیل دیا ہے کہ اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی لوگ نہ صرف ان پر، بلکہ کسی پر بھی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ تینوں کھلاڑیوں نے قید کی سزائیں کاٹیں، پانچ سال ہر سطح کی کرکٹ سے دور رہے مگر اس سزا کے باوجود کرکٹ کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا اس کی تلافی ممکن نہیں ہو سکی۔ آج کھیل کا معیار ضرور کچھ نہ کچھ اوپر ہی ہے کیونکہ دنیا بھر کی ٹیموں اور کھلاڑیوں نے دیکھ لیا کہ اس حرکت کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔

یقیناً لارڈز کے میدان پر ہونے والی حرکت نے کرکٹ کی شہرت وار ساکھ کو داغ دار کیا مگر دنیا بھر کی ٹیموں، ہر ایک کھلاڑی، چاہے وہ بین الاقوامی سطح پر ہو یا مقامی یا پھر انتظامیہ کا رکن ہر فرد نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھا اور کھیل کو بدنام کرنے والے عناصر کو باہر پھینکا۔ پاکستان کے کھلاڑیوں کے بعد بار پھر انڈین پریمیئر لیگ میں فکسنگ نے سر اٹھایا اور تین کھلاڑیوں سری سانتھ، اجیت چانڈیلا اور انکت چون پر پابندی لگی۔

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سے پہلے پاکستان کرکٹ ویسے ہی اندرونی مسائل سے دوچار تھی۔ چند سال تک کوئی ملک پاکستان میں کھیلنے کو تیار نہ تھا یہاں تک کہ سال 2008ء میں میزبان تو کجا پاکستان کو کسی اور ملک میں بھی کوئی ٹیسٹ کھیلنے کو نہ ملا۔ اس صورت حال میں 2009ء میں سری لنکا نے پاکستان کا دورہ کیا اور دہشت گردوں کے حملے نے امید کی آخری کرن کا بھی خاتمہ کردیا۔ پاکستان نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیت کر اپنی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش کی لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں ایک اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی جدوجہد اگست 2010ء میں لارڈز میں اپنے اختتام کو پہنچی۔ وہ بھی ایسے گیندباز کے ہاتھوں جسے ملک کا مستقبل سمجھا جا رہا تھا۔ 18 سالہ گیندباز نے معمولی اور وقتی فائدے کے لیے نہ صرف اپنے پورے کیریئر کو داؤ پر لگا دیا بلکہ پاکستان کو ایک بہترین گیندباز سے بھی محروم کردیا۔ جس روز وہ 50 وکٹیں حاصل کرنے والے دنیا کے کم عمر ترین گیندباز بنے، اس کے اگلے ہی دن وہ اسپاٹ فکسنگ میں دھر لیے گئے۔

دنیا عامر کو وسیم اکرم کا جانشیں قرار دے رہی تھی لیکن انہوں نے کسی اور رستے کا انتخاب کیا۔ بہرحال، کسی کے جانے سے زندگی رکتی نہیں۔ حالات جتنے بھی خراب ہوں یہ چلتی رہتی ہے۔ یقیناً پاکستان کے لیے یہ بہت مشکل اور کڑا وقت تھا لیکن کھلاڑیوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اچھی کارکردگی دکھاتے رہے اور یہاں تک پہنچ گئے کہ ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی میں دنیا کی دوسری بہترین ٹیم بن گئے۔

اب سوال یہ ہے کہ دنیائے کرکٹ کو بالخصوص پاکستان کو ان تین کھلاڑیوں کا خیرمقدم کرنا چاہیے یا نہیں؟ ستمبر میں نہ صرف محمد عامر بلکہ محمد آصف اور سلمان بٹ پر بھی عائد پانچ سال کی پابندی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ پی سی بی نے بھی تینوں کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی مکمل اجازت دے دی ہے۔ لیکن سوالات ویسے ہی موجود ہیں کہ کیا ملک کے نام پر دھبہ لگانے والوں کو ایک مرتبہ پھر کرکٹ کے میدانوں پر کھیلتے ہوئے تماشائی یہاں تک کہ خود موجودہ اور سابق کھلاڑی اور بورڈ اراکین دیکھ سکیں گے؟ کیا اب بھی تینوں کے لیے شک کی گنجائش باقی ہے؟ کیا سزا کے نتیجے میں ان کے گناہ دھل چکے ہیں؟ کیا لوگ سب بھول چکے ہیں؟

محمد حفیظ نے تو صاف صاف کہہ دیا کہ وہ کرکٹ کا تشخیص اور ملک و قوم کا نام بدنام کرنے والوں کے ساتھ نہیں کھیل سکتے۔ اپنے موقف کی وجہ سے بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں چٹاگانگ وائی کنگز کی جانب سے پیش کیے گئے بھاری معاوضے کو بھی ٹھکرا دیاکیونکہ اسی ٹیم سے محمد عامر بھی کھیل رہے ہیں۔

دوسری جانب انگلستان کے کیون پیٹرسن نے بھی برملا کہا کہ جو کھلاڑی فکسنگ کی وجہ سے ملک کی بدنامی کا باعث بنا ہو اس کو دوبارہ کبھی بین الاقوامی کرکٹ میں نہیں آنا چاہیے۔ یاد رہے کہ کیون پیٹرسن ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جو بدنام زمانہ لارڈز ٹیسٹ میں کھیلے تھے۔ ان کھلاڑیوں کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ سال پہلے لگنے والے وہ زخم آج بھی تازہ ہیں بھرے نہیں ہیں۔

گو کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے تینوں کھلاڑیوں سے پابندی اٹھا لی ہے لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل نہیں؟ کیا آپ کبھی اپنے کسی ساتھی پر دوبارہ بھروسہ کر سکتے ہیں جس نے آپ کی محنت کو مذاق میں اڑا دیا ہو؟ آپ کے اعتماد اور بھروسے کو نقصان پہنچایا ہو؟ آپ کا جواب بھی شاید وہی ہوگا جو کسی بھی ذی شعور آدمی کا ہونا چاہیے۔ یہ بات درست کہ جس عمر میں محمد عامر سے غلطی ہوئی، وہ کم تھی اور جب کپتان ایسا کرنے کا کہہ رہا ہے تو ممکن ہے کہ کہیں نہ کہیں یہ خوف بھی شامل ہو کہ ایسا نہ کیا تو ٹیم ہی سے باہر نہ ہو جاؤں۔ پھر یہ بھی ممکن ہے کہ عامر کو اندازہ ہی نہ ہو کہ وہ پکڑا جائے گا، تو ایسی صورت میں اس کو ایک اور موقع نہیں مل سکتا؟

بچپن میں، لڑکپن میں جو کرکٹ کا جنون اپنے عروج پر ہوگا اور محمد عامر نے اپنی باؤلنگ کے ذریعے ملک کا نام روشن کرنے کے بارے میں سوچا ہوگا تو کہیں نہ کہیں تو یہ بات انہیں ضرور سکھائی گئی ہوگی کہ ہمیشہ سچائی، راست بازی، اخلاق، خلوص اور ایمانداری کا دامن تھامے رکھنا۔ یہ وہ سبق ہے جو سب کو پڑھایا جاتا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ پیسوں کی دنیا اور رنگینیاں دیکھتے ہیں وہ یکدم سارے سبق بھول گئے اور یہی ان کی غلطی تھی۔ ان غلطی کی وجہ سے ہی عامر اور اسپاٹ فکسنگ کے مرتکب دیگر کھلاڑیوں کا جرم مزید کریہہ ہو جاتا ہے کہ انہوں نے ایسے تمام کھلاڑیوں کا حق مارا جن کی جگہ انہیں ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔ وہ کھلاڑی کہ جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات پر ہمیشہ کرکٹ کو فوقیت دی اور اس کو مقدم رکھا۔

اگر جان بوجھ کر ان تینوں کو، یا کسی ایک کو، دوسرا موقع دیا گیا تو گویا یہ تسلیم کیا جائے گا کہ ان کی غلطی درحقیقت غلطی نہیں تھی۔ پھر ہر نیا کھلاڑی سمجھے گا کہ وہ ایسے قبیح فعل کے بعد بھی معافی کا دروازہ کھٹکھٹا سکتا ہے اور اس کے پاس دوسرا موقع بھی ہوگا۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کرکٹ ایک کھلاڑی یا اس کی صلاحیتوں سے کئی گنا اعلیٰ مقام پر موجود ہے۔ اگر معاملہ صرف محمد عامر کا ہو تب بھی، یہ خود ان کے کاندھوں پر بھی بہت بڑا بوجھ ہوگا۔ آپ تصور کیجیے وہ عامر پاکستان کی جانب سے دوبارہ کھیلیں اور وہ کھیل پیش کرنے میں ناکام رہیں، جس کی ان سے توقعات ہیں۔ تو وہ دوبارہ شک کی نگاہوں سے نہیں دیکھے جائیں گے؟

خاص طور پر پاکستان کرکٹ کے پاس اب کوئی دوسرا موقع نہیں ہے۔ اگر دوبارہ ایسا ہوا تو وہ پاکستان کرکٹ کے خاتمے کا دن ہوگا۔

Facebook Comments