’’تنڈولکر نہیں بلکہ گاوسکر عظیم ترین ہیں‘‘

اگر آپ کامیاب ترین بلے بازوں کی فہرست میں ڈان بریڈمین یا سچن تنڈولکر کو سب سے اوپر رکھتے ہیں تو یقیناً آپ غلط تھے کیونکہ 1992ء میں پاکستان کو عالمی چیمپئن بنانے والے سابق کپتان عمران خان کہتے ہیں کہ وہ سنیل گاوسکر کو دنیا کا سب سے کامیاب بلے باز سمجھتے ہیں، سچن تنڈولکر سے بھی زیادہ۔

عمران خان آج کل بھارت کے دورے پر ہیں اور وہیں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں جب عمران خان سے بھارت کے دو لٹل ماسٹرز یعنی سنیل گاوسکر اور سچن تنڈولکر کا موازنہ کرنے کو کہا گیا تو سابق کپتان نے کہا کہ گاوسکر جانتے تھے کہ ٹیم کو مشکل حالات سے کس طرح نکالنا ہے اور وہ تن تنہا یہ کام سرانجام دے سکتے تھے۔ پھر اُنہیں اُس وقت تک دیگر ساتھیوں سے کوئی مدد میسر نہیں تھی جب تک کپل دیو ٹیم کا حصہ نہیں بن گئے۔

عمران خان نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ تنڈولکر نے اپنے پورے کیرئیر میں کوئی ایک اننگز بھی ایسی نہیں کھیلی جس کو دیکھتے ہوئے معلوم ہو کہ وہ گاوسکر کے ہم پلہ ہیں۔ گاوسکر جس دور میں کرکٹ کھیلتے تھے اُس وقت بھارتی ٹیم بہت کمزور تھی اور میں نے گاوسکر کو اکیلے ویسٹ انڈیز کے خطرناک ترین گیند بازوں کا بہادری سے مقابلہ کرتے دیکھا ہے۔ جب بھی گاوسکر کو اکیلے ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں موجود چار خطرناک ترین گیند بازوں کا مقابلہ کرتے دیکھتا تو افسوس ہوتا تھا کہ اُن کا ساتھ دینے کے لیے کوئی نہیں ہے۔ عمران خان نے اِس بات کا بھی اقرار کیا کہ گاوسکر جتنے بڑے کھلاڑی تھے اُن کا ریکارڈ اِس بات کی ترجمانی نہیں کرتا، جو افسوسناک ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ گاوسکر جس دور میں کھیلتے تھے اُس دور میں دنیائے کرکٹ کے بڑے بڑے نام تھے جن میں گاوسکر نے خود کو ممتاز ثابت کیا۔ اُس دور میں نہ صرف گیند بازوں کی حکمرانی ہوتی تھی بلکہ وکٹوں کے معاملے میں بھی اُنہیں مکمل حمایت حاصل ہوتی تھی۔ گاوسکر نے اپنے دور میں جن خطرناک گیند بازوں کا مقابلہ کیا، تنڈولکر کے دور میں ایسا کوئی نہیں تھا۔

’’سنیل گاوسکر کے دور میں ڈینس للی بھی موجود تھے، جن کے بارے میں یہ کہنا بالکل بھی غلط نہیں ہوگا کہ وہ دنیا کے خطرناک ترین گیند بازوں میں سے ایک تھے۔ اُس دور میں ظہیر عباس بھی کھیلتے تھے، جن کی ٹائمنگ کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ یہ وہی دور تھا جب ماجد خان اپنے کیریئر کے عروج پر تھے اور پھر جاوید میانداد کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ لیکن گاوسکر کی تعریف کا یہ ہرگز مقصد نہیں کہ تنڈولکر کی کرکٹ کے لیے کوئی خدمات نہیں ہیں۔ وہ کتنے بڑے بلے باز ہیں اِس کا اقرار اُن کا ریکارڈ کرتا ہے، بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ کسی ایک کھلاڑی کا دوسرے کھلاڑی سے تقابل ہرگز ٹھیک عمل نہیں ہوتا۔ ہر کھلاڑی اپنے اپنے اعتبار سے دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔‘‘

عمران خان نے تقریب میں بھارت ایک روزہ کپتان مہندر سنگھ دھونی کی بھی تعریف کی۔ عمران کا کہنا تھا کہ دھونی جیسا وکٹ کیپر بھارت کو آج تک نہیں ملا، وہ ایک مکمل کھلاڑی ہیں جو جارحانہ بلے بازی کے ساتھ ساتھ ٹھنڈے اور مثبت ذہن سے کپتانی کرتے ہیں، وہ یقیناً مشکل وقت کے کھلاڑی ہیں۔

عمران خان نے گاوسکر کے حوالے سے ہی حیران کن بیان نہیں دیا بلکہ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستانی لیگ اسپنر عبدالقادر شین وارن اور انیل کمبلے سے بہتر اور اچھے لیگ اسپنر تھے۔ 171 بین الاقوامی مقابلوں میں 368 وکٹیں لینے والے عبد القادر کے بارے میں عمران خان کا کہنا تھا کہ یقیناً شین وارن اور انیل کمبلے نے قادر سے بہت زیادہ وکٹیں حاصل کی ہیں مگر جس دور میں قادر نے پاکستان کی نمائندگی کی، وہ لیگ اسپنرز کے لیے مشکل ترین دور تھا۔ ’’جس دور میں قادر کھیلتا تھا اُس دور میں بلے بازوں کو ایل بی ڈبلیو قرار دینے کا رواج نہ ہونے کے برابر تھا۔ شین وارن کی وکٹیں اُٹھا کر دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اُنہوں نے بڑی تعداد میں بلے باز کو ایل بی ڈبلیو کیا ہے، اب تصور کیجیے کہ اگر قادر آج کے دور میں کھیل رہے ہوتے تو اُن کے حصے میں کتنی وکٹیں آتیں۔‘‘

Facebook Comments