کرکٹ تاریخ کی مشہور نو-بالز

آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کا پہلا ٹیسٹ صرف ڈھائی دن کا محتاج ثابت ہوا۔ آسٹریلیا کے ایڈم ووجس کی ڈبل سنچری اور شان مارش کے شاندار 182 رنز ہی میزبان کی کامیابی کے لیے کافی ثابت ہوئے جس کی بدولت ایک اننگز اور 221 رنز کی بڑی فتح حاصل کی۔ لیکن میچ کے دوران ایک گیند نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ آسٹریلیا کی واحد اننگز کے ابتدائی مراحل میں ویسٹ انڈیز کے تیز گیندباز شینن گیبریل نے جو برنس کو کلین بولڈ کیا اور اگلے ہی اوور میں اتنے جذباتی ہوگئے کہ گیند پھینکتے ہوئے نصف میٹر تک آگے نکل گئے۔کرکٹ میں نو-بال کو گیندباز کی بڑی غلطی سمجھا جاتا ہےلیکن اتنا زیادہ آگےنکل جانا تو ہمیشہ شکوک و شبہات کھڑاکرتا ہے۔بہرحال، ابھی تک تو گیبریل کے خلاف کوئی کارروائی ہوتی نظر نہیں آ رہی۔پھر کیونکہ یہ محدود اوورز کا مقابلہ نہیں تھا اس لیے اضافی گیند پھینکنے اور ایک فاضل رن دینے کے علاوہ انہیں کوئی اور سزا بھی نہیں ملی ورنہ محدود اوورز کی کرکٹ میں تو ایک فری-ہٹ بھی گلے پڑ جاتی ہے۔

بہرحال، ماضی میں جھانکتے ہیں جہاں ہمیں چند ایسی نو-بالز ملتی ہیں جو بہت مہنگی بھی ثابت ہوئیں، یا کسی بھی لحاظ سے اہمیت کی حامل رہیں۔ ان میں محمد عامر کی وہ نو-بال سب سے آگے ہیں، جس نے انہیں پانچ سال کے لیے کرکٹ سے باہر کردیا۔

محمد عامر

mohammad-amir

کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن اور شرمناک ترین حرکت۔ 18 سالہ محمد عامر، جنہوں نے ایک دن پہلے ہی سب سے چھوٹی عمر میں 50 ٹیسٹ وکٹیں حاصل کرنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا، اگلے ہی دن فکسنگ میں دھر لیے گئے۔ اگست 2010ء کے آخری ایام تھے جن میں لارڈز کے مقام پر پاک-انگلستان سیریز کا آخری ٹیسٹ کھیلا جا رہا تھا۔ یہاں محمد عامر نے کپتان سلمان بٹ کی ہدایت پر جان بوجھ کر نو-بال پھینکی تاکہ وہ سٹے باز مظہر مجید سے طے شدہ رقم حاصل کر سکیں۔ انگلستان کی پہلی اننگز میں ایلسٹر کک کوپھینکی گئی اس گیند میں محمد عامر کا پاؤں لگ بھگ نصف میٹر کریز سے آگے تھا۔ اس تصویر نے دنیا بھر میں تہلکہ مچایا اور اسپاٹ فکسنگ کا معاملہ کھل کر سامنے آیا۔

بعد ازاں سلمان بٹ اور محمد عامر بلکہ جان بوجھ کر نو-بال کروانے والے ایک اور باؤلر محمد آصف پانچ، پانچ سال تک پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ خود محمد عامر کو چھ مہینے کی قید کی سزا بھی ہوئی۔

اسٹورٹ براڈ

Stuart-Broad

انگلستان کے اسٹورٹ براڈ نے ماضیِ قریب کی مہنگی ترین نو-بال پھینکی۔ پاکستان کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز کے دوران اُن کی وہی گیند نو-بال قرار پائی جس پر شعیب ملک کی وکٹ گری تھی۔ اُس وقت شعیب صرف 40 رنزپر کھیل رہے تھے اور اِس نئی زندگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے کیریئر کی طویل ترین اننگز کھیل ڈالی۔ انہوں نے 245 رنز بنائے اور پاکستان کے مجموعے کو 500 رنز سے بھی آگے لے گئے۔

ثقلین مشتاق

Saqlain-Mushtaq

اسپن گیندباز بہت کم فرنٹ-فٹ نو-بال پھینکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ باؤلر ثقلین مشتاق جیسا جارح مزاج ہو تو کچھ بعید نہیں۔ ایک ایسے زمانے میں جب تیز باؤلرز کا راج تھا، ثقلین نے اپنا مقام بنایا۔ ان میں تیز باؤلر والی ہر پھرتی، تیزی اور ہوشیاری پائی جاتی تھی اس لیے کم عمری میں ہی انہوں نے کئی ریکارڈز قائم کیے۔ ویسے تو اس فہرست میں ایسی نو-بالز ہی بتائی جا رہی ہیں جو امپائر کی نظروں سے نہیں بچ سکیں۔ لیکن ثقلین نے 2001ء میں ایسا کر دکھایا۔ اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ میں امپائر ڈیوڈ شیفرڈ ثقلین کی ایل بی ڈبلیو اپیل میں ایسے محو ہوئے کہ نو-بال دینا ہی بھول گئے۔ یہ مقابلے کے آخری لمحات تھے اور اگلے ہی اوور میں انگلستان کی آخری وکٹ گرنے کے ساتھ ہی پاکستان نے ٹیسٹ مقابلہ جیت لیا۔

کرٹلی ایمبروز

curtly-ambrose

ایک باؤلر ایک اوور میں کتنی نو-بالز کر سکتا ہے؟ ایک؟ دو؟ بھئی زیادہ سے زیادہ تین، اس سے زیادہ نو-بالز پھینکنے کی صورت میں تو کپتان اسے ہٹا ہی دے گا۔ لیکن جب باؤلر کرٹلی ایمبروز جیسا ہو تو کوئی کپتان ایسی جرات نہیں کرسکتا۔ وہ 90ء کی دہائی کے خطرناک ترین تیز باؤلرز میں سے ایک تھے لیکن فروری 1993ء میں پرتھ کے مقام پر آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میں انہیں نجانے کیا ہوگیا؟ 15 گیندوں پر مشتمل اوور پھینکا، جس میں ایک، دو نہیں بلکہ پوری 9 نو-بالز تھیں۔

لیکن اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے اس شرم ناک غلطی کے باوجود تباہ کن باؤلنگ کی اور ویسٹ انڈیز نے 10 وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ ایمبروز نے پہلی اننگز میں 43 رنز دے کر پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا اور دوسری میں مزید دو شکار کرکے میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ جیتا۔ ہے نا کمال؟

Facebook Comments