شاہد آفریدی کا مرکزی معاہدہ منسوخ، اظہار وجوہ کا نوٹس جاری

پاکستان کرکٹ بورڈ اور زیر عتاب کھلاڑی شاہد آفریدی کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ شاہد آفریدی کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کا مرکزی معاہدہ (سینٹرل کانٹریکٹ) منسوخ کردیا ہے اور ان کو اظہار وجوہ (شوکاز) نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے جس میں انہیں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کیا گیا ہے۔

شاہد آفریدی زیر عتاب، این او سی منسوخ ہونے کے بعد کسی سطح پر کرکٹ نہیں کھیل پائیں گے

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے کرک نامہ کو موصول ہونے والے اعلامیہ کے مطابق شاہد آفریدی نے جس طرح اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا وہ مرکزی معاہدے کی شق 2.1.4 کی خلاف ورزی ہے جو کھلاڑی کے اقرار نامے کے حوالے سے ہے۔ اس کے علاوہ بورڈ اور اس کے عہدیداروں کے حوالےسے نازیبا الفاظ کے استعمال کے باعث انہیں شق 4.4 کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی قرار دیا گیا۔

شاہد آفریدی نے ایک ٹیلی وژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا جس میں بورڈ کی جانب سے کراچی کے کھلاڑیوں سے ناانصافی اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں کو ترجیح دینے کے الزامات بھی لگائے گئے۔

مرکزی معاہدہ منسوخ ہونے کے باعث شاہد آفریدی کے تمام این او سیز منسوخ ہو گئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ کسی بھی سطح پر کرکٹ نہیں کھیل سکتے اور اسی طرح وہ کاؤنٹی کرکٹ میں ہمپشائر کی نمائندگی بھی نہیں کر پائیں گے اور سری لنکا کرکٹ لیگ میں بھی حصہ نہیں لے پائیں گے جہاں انہیں ایک ٹیم کی قیادت کرنی ہے۔

یاد رہے کہ شاہد آفریدی کو ویسٹ انڈیز سے واپسی پر ٹیم انتظامیہ کے حوالے سے دیے گئے بیان پر بھی اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

شاہد آفریدی کی ریٹائرمنٹ کے حوالے سے کرک نامہ کا تفصیلی مضمون یہاں ملاحظہ کیجیے۔

Facebook Comments