کون کتنے پانی میں؟ کراچی کنگز

پاکستان کے ذرائع ابلاغ پر اگر کسی ٹیم کا سب سے زیادہ شور تھا، تو وہ تھی کراچی کنگز۔ میڈیا کے معروف ادارے اے آر وائی کی ملکیت میں موجود یہ فرنچائز سب کی نگاہوں کا مرکز تھی۔ اب دیکھتے ہیں پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن میں کے لیے کراچی کنگز کے دستے، اس کی کمزوریوں، حیران کن طور پر شامل کیے گئے ناموں اور کون سے دستے کو میدان میں سب سے پہلے اتارنا چاہیے۔

کراچی نے جو پہلا انتخاب کیا، اس نے سب کو حیران کردیا۔ آئیکون پلیئر کے طور پر شعیب ملک کو منتخب کرنے کے بعد جب پلاٹینم زمرے سے آخری کھلاڑی چننے کا موقع ملا تو کئی کھلاڑیوں کو نظر انداز کرکے اس نے سہیل تنویر کا انتخاب کیا۔ پوری ٹیم کے انتخاب کے بعد اندازہ ہوا کہ انتظامیہ کسی منصوبہ بندی کے بغیر چناؤ میں اتری تھی۔ مضبوط ترین ٹیم بنانے کے چکر میں شاید کمزور ترین ٹیم بن گئی، جسے کسی طور متوازن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کمزور دستے کو اگر کوئی اہمیت حاصل ہے تو وہ دو کھلاڑیوں کی وجہ سے، ایک شعیب ملک اور دوسرے محمد عامر۔

کمزوریاں

کراچی کنگز کی اصل کمزوری یہی ہے کہ ٹیم میں سرے سے توازن موجود ہی نہیں ہے۔ آل راؤنڈرز کی بھرمار ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک مستحکم دستہ میدان میں اتارنے میں کراچی کو مشکلات کا سامنا ہوگا۔

حیران کن نام

بلا شک و شبہ سہیل تنویر، پلاٹینم زمرے سے کراچی کے لیے منتخب ہونے والے آخری کھلاڑی۔ ان کی گزشتہ چند ماہ کی کارکردگی دیکھیں تو بد سے بدترین ہے۔ بلاشبہ وہ لیگ کرکٹ کا تجربہ رکھتے ہیں، انڈین پریمیئر لیگ کے پہلے سیزن میں کہ جس میں پاکستان کے کھلاڑی پہلی وآخری بار شریک ہوئے تھے وہ ٹورنامنٹ کے بہتر باؤلر تھے، لیکن اب اس بات کو آٹھ سال گزر چکے ہیں۔ اس وقت سہیل تنویر کا یہ حال ہے کہ قومی ٹی ٹوئنٹی کے کیمپ تک سے ان کا نام خارج کردیا گیا۔ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں سلہٹ سپر اسٹارز کی نمائندگی کرتے ہوئے بھی وہ بری طرح ناکام ہوئے اور صرف ایک ہی وکٹ حاصل کی۔ اس لیے کم از کم سہیل تنویر کا پلاٹینم میں انتخاب حیران کن ہے اور سمجھ سے بالاتر بھی۔

دستہ

صرف آل راؤنڈرز کی وجہ سے کراچی کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اس لیے اسے بہت سوچ سمجھ کر کھلاڑیوں کو میدان میں اتارنا ہوگا۔ ہماری نظر میں یہ 11 کھلاڑی کھیلنے کے لیے منتخب ہونے چاہئیں: لینڈل سیمنز، نعمان انور، شعیب ملک، روی بوپارا، شکیب الحسن، مشفق الرحیم، سہیل تنویر، محمد عامر، سہیل خان، میر حمزہ اور اسامہ میر۔

کراچی کو ان کے علاوہ عماد وسیم، بلاول بھٹی، افتخار احمد اور سمیع اللہ بنگش کی بھی خدمات حاصل ہوں گی۔ دیکھتے ہیں قرعہ فال کس کے نام نکلتا ہے۔

اضافی کھلاڑی

کراچی نے اضافی کھلاڑیوں کے طور پر سری لنکا کے تلکارتنے دلشان کے ساتھ ساتھ کراچی کے دو سپوتوں کا انتخاب کیا ہے، ایک شاہ زیب حسن اور دوسرے فواد عالم۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009ء کے چیمپئن دستے کے ان دونوں اراکین کا اضافی کھلاڑیوں میں انتخاب مقامی پلیئرز کو خاطر میں نہ لانے کے رویے کو ظاہر کرتا ہے۔

Print

Facebook Comments