کون کتنے پانی میں؟ پشاور زلمی

پشاور زلمی کا نام آتے ہی سب سے پہلے ذہن میں شاہد آفریدی آتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے کرکٹ شائقین کی بڑی تعداد پشاور کی پرستار بنے گی، بلکہ بن چکی ہے۔ جب قرعہ اندازی کے ذریعے پہلے انتخاب کا اختیار اسلام آباد کو ملا تو خدشہ تھا کہ وہ انہیں حاصل کرلے گا لیکن پشاور نے قانونی تقاضہ پورا کرتے ہوئے پہلے انتخاب کا اختیار خود لیا اور دو لاکھ ڈالرز یعنی دو کروڑ روپے سے زیادہ کی خطیر رقم میں شاہد آفریدی کو خرید لیا۔ بلاشبہ یہ پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن میں سب سے متوازن دستہ معلوم ہوتا ہے، جس میں وہاب ریاض، محمد حفیظ اور ڈیرن سیمی جیسے زبردست نام بھی شامل ہیں۔

کمزوریاں

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس کھلاڑی کی وجہ سے سب پشاور کے دلدادہ ہیں، وہی اس کی سب سے بڑی کمزوری ثابت ہو سکتا ہے۔ شاہد آفریدی کی خراب فارم پشاور کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتی ہے لیکن ضروری نہیں، بلاشبہ "لالا" کا ایک دبدبہ ہے جو حریف کے لیے کافی ہوگا۔

حیران کن نام

پشاور کے دستے میں منتخب ہونے والا سب سے حیرت انگیز نام 35 سالہ عبد الرحمٰن کا ہے۔ اگست 2014ء سے جس کھلاڑی پر قومی ٹیم کے دروازے بند ہیں، اور انہیں اپنا آخری بین الاقوامی ٹی ٹوئنٹی کھیلے ہوئے بھی دو سال سے زیادہ عرصہ گزر چکاہے۔ اس کے باوجود ان کی اچھی لائن و لینتھ پر باؤلنگ اور ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات کی وکٹیں پشاور کے لیے انہیں ایک اہم کھلاڑی بنا سکتی ہیں۔

دستہ

پشاور زلمی کو کن کھلاڑیوں کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے، اس سوال کا جواب کچھ یوں ہوگا:

کامران اکمل، تمیم اقبال، محمد حفیظ، ڈیرن سیمی، مصدق احمد، شاہد یوسف، شاہد آفریدی، کرس جارڈن، وہاب ریاض، عبد الرحمٰن اور جنید خان۔

پشاور کی 'بینچ اسٹرینتھ' بھی بہت اچھی ہوگی جیسا کہ جم ایلن بی اور ڈیوڈ میلن جیسے عمدہ کھلاڑی اور عامر یامین، عمران خان جونیئر اور حسن علی بھی، جنہیں بوقت ضرورت استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اضافی کھلاڑی

پشاور نے اضافی کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کے بریڈ ہوج کے ساتھ ساتھ محمد اصغر، اسرار اللہ اور تاج ولی کا انتخاب کیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ جاوید آفریدی اور ان کی ٹیم نے کتنی منصوبہ بندی کے ساتھ کھلاڑیوں کے انتخاب پر کام کیا ہے۔

Print

Facebook Comments