[سالنامہ 2015ء] جنہوں نے آتے ہی دل جیت لیے

کرکٹ اور 2015ء، ایک اور سال تھا جو بیت گیا، اپنے دامن میں کئی یادیں لیے، کئی کھلاڑیوں کو پیچھے چھوڑتا ہوا اور کئی تحفے دیتا ہوا۔ ایسے کھلاڑی جو مستقبل کے عظیم کرکٹر بن سکتے ہیں۔ سالنامہ 2015ء کے سلسلے میں یہ تحریر ان چند کھلاڑیوں کے لیے ہے جو آئندہ دنوں میں کافی آگے جائیں گے۔ آئیے دیکھتے ہیں:

ڈیوڈ وِلی

انگلستان کے سابق کرکٹر اور امپائر پیٹر ولی کے صاحبزادے ڈیوڈ ولی سال 2015ء میں ایک باصلاحیت کھلاڑی کے روپ میں سامنے آئے۔ ڈیوڈ نے انگلستان کے لیے محدود اوورز کی کرکٹ میں ابتدائی گیندباز کا کردار ادا کیا اور خوب کارکردگی دکھائی۔

10 ایک روزہ مقابلوں میں 18 اور 4 ٹی ٹوئنٹی میں 8 وکٹیں ان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ گو کہ وہ کاؤنٹی میں ایک آل راؤنڈر کے کردار میں دکھائی دیتے ہیں اور اگر بین الاقوامی سطح پر بلے بازی کے جوہر دکھانے میں کامیاب ہوگئے تو بلاشبہ انگلستان کے لیے 2015ء کی دریافت ہو سکتے ہیں۔

سومیا سرکار

Soumya-Sarkar

گزشتہ سال کے انہی ایام میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھنے کے بعد سے اب تک سومیا سرکار نے بھرپور کمالات دکھائے ہیں۔ 49 سے زیادہ کے بہترین اوسط کے ساتھ 16 ایک روزہ مقابلوں میں 692 رنز، بتائیں اور کیا چاہیے؟ پاکستان، بھارت اور جنوبی افریقہ کے خلاف تین تاریخی فتوحات میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا اعتماد اور جارحیت بنگلہ دیش کے مزاج میں نیا اضافہ ہے۔ تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی بھی کھیل چکے ہیں، وہاں ویسے کامیاب تو نہیں رہے لیکن ایک روزہ میں ان کا کوئی جواب نہیں۔

اب بنگلہ دیش کو دنیائے کرکٹ میں کوئی قابل ذکر مقام دلانا ہے تو دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ سرکار کو بھی اپنی کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھنا ہوگا۔ بنگلہ دیش کے لاکھوں کرکٹ تماشائیوں کو ان سے بہت امیدیں ہیں۔

کاگیسو رباڈا

Kagiso-Rabada

20 سالہ گیندباز، پہلا بین الاقوامی مقابلہ اور ہیٹ ٹرک کے ساتھ صرف 16 رنز دے کر 6 وکٹیں۔ ایسی کارکردگی کسی خوش نصیب اور انتہائی باصلاحیت کو ہی ملتی ہے۔ جوہانس برگ کے اس سیاہ فام تیز گيندباز نے بھارت کے خلاف سیریز جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

رباڈا نے کل 10ایک روزہ مقابلے کھیلے ہیں اور ان میں 21 ہی وکٹ حاصل کی ہیں۔ صرف 16رنز دے کر 6 وکٹیں ان کی بہترین کارکردگی ہے۔ اس کی وجہ سے انہیں ٹیسٹ میں نمائندگی کا موقع بھی مل گیا ہے، جہاں وہ جنوبی افریقہ کی طرح کامیاب تو نہیں ہو سکے لیکن 8 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں 9 وکٹیں حاصل کرکے ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ضرور ادا کیا ہے۔

ایڈم ووجس

Adam-Voges

آسٹریلیا کے ایڈم ووجس رواں سال 36 سال کے ہو گئے۔ اس عمر میں انہوں نے جس کھیل کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہ کھیل عمر کا نہیں بلکہ ہمت اور جرات کا ہے۔ 11 ٹیسٹ مقابلوں کی 17 اننگز میں وہ 76.83 کے اوسط سے 922 رنز بنا چکے ہیں یعنی آسٹریلیا کے دو مایہ ناز بلے بازوں ڈیوڈ وارنر اور اسٹیون اسمتھ کے بعد سال کے سب سے زیادہ رنز۔ اس میں 269 رنز کی وہ تاریخی اننگز بھی شامل ہے جو بلاشبہ ٹرپل سنچری تک پہنچتی، اگر آسٹریلیا اننگز ڈکلیئر کرنے کی غلطی نہ کرتا۔
ووجس ہرگز نئے کھلاڑی نہیں ہیں۔ رواں سال ٹیسٹ کیریئر کے آغاز سے قبل وہ 2007ء میں ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کیریئر کی شروعات کر چکے تھے۔ اب تک 31 مقابلوں میں 45.78 کے اوسط سے 870 رنز اور ٹی ٹوئنٹی میں 46.33 کے اوسط سے 139 رنز ان کی صلاحیتوں کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں۔ مائیکل کلارک کی ریٹائرمنٹ کے بعد اب ووجس آسٹریلیا کے دستے کا اہم حصہ بن سکتے ہیں، بس اسی کارکردگی کو جاری رکھیں۔

مستفیض الرحمٰن

Mustafizur-Rahman

اگر یہ کہا جائے کہ 2015ء نوجوان کھلاڑیوں میں بنگلہ دیش کے مستفیض کا سال تھا تو بے جا نہیں ہوگا۔ صرف 20 سال کے اس گیند باز نے رواں سال صرف 9 ایک روزہ میں 12.34 کے ناقابل یقین اوسط سے 26 وکٹیں لی ہیں۔ ان میں تین مرتبہ میچ میں کم از کم پانچ وکٹوں کا کارنامہ بھی شامل ہے۔ اپریل میں پاکستان کے خلاف ٹی ٹوئنٹی کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھنے کے بعد انہوں نے بھارت کے خلاف ابتدائی دو مقابلوں میں ہی 11 شکار کیے اور بنگلہ دیش کی تاریخی کامیابی میں مرکزی کردار ادا کیا۔ مستفیض نے دنیائے کرکٹ کے بہترین بلے بازوں کی ناک میں دم کیے رکھا جیسا کہ بھارت کے خلاف سیریز کے تینوں ایک روزہ مقابلوں میں روہیت شرما اور سریش رائنا کی وکٹ حاصل کی۔

اگر اعداد و شمار پر پرکھا جائے تو بنگلہ دیش بلاشبہ سال 2015ء کی کامیاب ترین ٹیموں میں سے ایک ہوگی اور اس میں جہاں بلے بازوں کا کردار ہے، وہیں ایک نمایاں ہاتھ مستفیض کا بھی ہے۔ انہوں نے اتنا ہی متاثر کیا ہے، جتنا ابتدا میں پاکستان کے محمد عامر نے سب کو اپنا گرویدہ بنایا تھا۔ اب دیکھتے ہیں 2016ء میں وہ کیا کارنامے دکھاتے ہیں؟ خاص طور پر ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں سب کی نظریں ان پر ہوں گی۔

بابر اعظم

پاکستان انڈر-19 سے منظر عام پر آنے والے بابر اعظم قومی کرکٹ کا مستقبل بن سکتے ہیں۔ 2015ء میں جب مصباح الحق اور شاہد آفریدی نے ایک روزہ کرکٹ کو خیرباد کہہ دیا تو پاکستان کے لیے ایک مشکل عہد کی شروعات ہوئی۔ جب زمبابوے نے پاکستان کا تاریخی دورہ کیا تو اسی سیریز کے ذریعے بابر اعظم نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھا اور پہلے ہی مقابلے میں نصف سنچری بنا ڈالی۔ لیکن بابر نے اپنی صلاحیتوں کا حقیقی اظہار انگلستان کے خلاف سیریز میں کیا۔ انہیں اوپنر کی حیثیت سے دو مقابلوں میں آزمایا گیا جہاں وہ ناکام رہے لیکن مڈل آرڈر میں باقی دونوں میچز میں انہوں نے نصف سنچریاں بنائیں۔ پہلے ایک روزہ میں بابر کے 62 گیندوں پر 62 رنز اور محمد حفیظ کے ساتھ 106 رنز کی شراکت داری نے پاکستان کو سیریز کی واحد کامیابی دلائی۔ رواں سال 7 ایک روزہ مقابلوں میں انہوں نے 38 کے اوسط اور 89 کے اسٹرائیک ریٹ سے 230 رنز بنائے ہیں۔

بابر اعظم بلے بازی کے شعبے میں پیدا ہونے والے خلا کو پورا کر سکتے ہیں کیونکہ ان کی عمر صرف 21 سال ہے اور انہیں ابھی کافی آگے جانا ہے۔ ویسے وہ 23 فرسٹ کلاس مقابلوں میں 40 اور لسٹ 'اے' میں اور ٹی ٹوئنٹی میں تقریباً 46 کا شاندار اوسط رکھتے ہیں۔ دیکھتے ہیں 2016ء بابر اعظم کے لیے کیا لے کر آتا ہے؟ اگر وہ پاکستان سپر لیگ میں نمایاں کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے تو ہو سکتا ہے کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے دستے میں بھی شامل ہوجائیں۔

Facebook Comments