پاکستان سپر لیگ، کن کا ٹکراؤ ہوگا جاندار؟

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے صبر کا دامن چھوٹ رہا ہے، جوش و جذبہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس آتش کو مزید بھڑکایا ہے ٹیموں کے انتخاب نے جس کے بعد مختلف ٹیموں کی خوبیوں اور خامیوں کے حوالے سے گفتگو ہر محفل میں جاری ہے۔ دنیائے کرکٹ کے چند بڑے نام بھی لیگ کا حصہ ہوں گے اور کچھ بھی ہیں جن سے سب کو خطرہ ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کے یہ جانباز کھلاڑی جب ایک دوسرے کے مقابل ہوں گے تو بلاشبہ بہترین مسابقت دیکھنے کو ملے گی۔ مثال کے طور پر شین واٹسن اور وہاب ریاض کی باہمی ٹکر کو گزرے ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا اور جب دونوں پاکستان سپر لیگ میں ایک مرتبہ پھر مقابل نظر آئیں گے تو تماشائیوں کا جوش اپنے عروج پر ہوگا۔

وہاب ریاض بمقابلہ شین واٹسن

wahab-watson

اگر آپ کرکٹ کے عام سے شائق بھی ہیں، یعنی دیوانگی کی حدوں کو نہیں چھوتے، تو آپ رواں سال ہونے والے عالمی کپ میں پاک-آسٹریلیا کوارٹر فائنل کو کبھی نہیں بھولیں گے، خاص طور پر وہاب ریاض کی گیندبازی کو۔ 213 رنز کے ہدف کے دفاع میں پاکستان کے تیز باؤلرز نے آسٹریلیا کے بلے بازوں کو سخت مشکلات سے دوچار کیا خصوصاً شین واٹسن کو، کہ جن کو پھینکے گئے دو اوورز کو سال کا یادگار ترین باؤلنگ اسپیل کہا جا رہا ہے۔ اب یہی دونوں کھلاڑی ایک مرتبہ پھر پاکستان سپر لیگ میں آمنے سامنے آئیں گے۔ شین واٹسن اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ ہیں جبکہ وہاب ریاض پشاور زلمی کی جانب سے گیندبازی کریں گے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ آسٹریلیا کی وکٹوں کے مقابلے میں دبئی اور شارجہ کی پچوں پر تیز گیندبازوں کو کم مدد درکار ہوگی لیکن وہاب ریاض اور شین واٹسن کا ایک مرتبہ پھر ہی آمنا سامنا ہی اسلام آباد اور پشاور کے مقابلے کو زندہ کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

محمد حفیظ بمقابلہ محمد عامر

hafeez-amir

حالیہ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کے موقع پر پاکستان کے سابق ٹی ٹوئنٹی کپتان محمد حفیظ نے کہا ہے کہ انہوں نے چٹاگانگ وائی کنگز کی پیشکش محض اس لیے رد کردی کیونکہ اسی ٹیم میں ہم وطن محمد عامر بھی شامل تھے، جو اسپاٹ فکسنگ کی وجہ سے پانچ سال کی پابندی سے ابھی آزاد ہوئے ہیں۔ اس کے بعد ذرائع ابلاغ نے جلتی پر تیل کا کام کیا، محمد حفیظ ڈھاکہ ڈائنامائٹس کی جانب سے بی پی ایل کھیلے اور اس کا مقابلہ جب چٹاگانگ سے ہوا تو سب کی نگاہیں محمد عامر کی باؤلنگ اور اس کا سامنا کرنے والے محمد حفیظ پر تھیں۔ عامر نے متعدد گیندیں ضائع کروانے کے بعد انہیں وکٹوں کے پیچھے کیچ آؤٹ کرا دیا اور اس کے ساتھ ہی ایک ہی ملک کے دو کھلاڑیوں کی رقابت اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن میں محمد حفیظ پشاور زلمی کی جانب سے منتخب ہوئے ہیں جبکہ محمد عامر کو کراچی کنگز نے شامل کیا ہے۔ اب کراچی اور پشاور کے مقابلے میں دونوں کھلاڑیوں کا ٹکراؤ دیکھنے کے قابل ہوگا۔ یقیناً ہماری طرح تمام ہی شائقین بھی اِس وقت کا بے چینی سے انتظار کررہے ہونگے۔

مصباح الحق بمقابلہ شاہد آفریدی

misbah-afridi

اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد سے اب تک پاکستان کرکٹ محض دو کھلاڑیوں کے گرد گھومتی رہی ہے، ایک مصباح الحق، دوسرے شاہد آفریدی۔ ان دونوں کھلاڑیوں کے درمیان باہمی رقابت تو ہر گز نہیں لیکن پاکستان کرکٹ شائقین دو حصوں میں ضرور منقسم ہیں، مصباح کے چاہنے والے اور "لالا" کے پرستار اور ان کے لیے اس سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا کہ دونوں مدمقابل دکھائی دیں۔ پی ایس ایل میں شاہد آفریدی نے پشاور زلمی کی جانب سے کھیلیں گے جبکہ مصباح الحق اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ ہوں گے اور ممکن ہے کہ دونوں کو اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت بھی دی جائے۔

شکیب الحسن بمقابلہ تمیم اقبال

shakib-tamim

بنگلہ دیش 2015ء میں سب سے نمایاں کارکردگی دکھانے والی ٹیموں میں سے ایک رہی اور اس میں جہاں بددماغ شکیب الحسن کا کردار رہا، وہیں ٹھنڈے دماغ کے تمیم اقبال نے بھی کام کیا۔ اب یہی مختلف المزاج کھلاڑی پاکستان سپر لیگ میں دو مختلف ٹیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے مدمقابل آئیں گے۔ شکیب پر کراچی کنگز نے بھروسہ کیا ہے تو تمیم اقبال کی جارحانہ بلے بازی پشاور زلمی کے کام آئے گی۔ دونوں کھلاڑیوں کو ایک دوسرے کے خلاف دیکھنا خاص طور پر بنگلہ دیشی شائقین کے توجہ کا حامل ہوگا۔

کرس گیل بمقابلہ کیون پیٹرسن

gayle-pietersen

انڈین، بنگلہ دیش، بگ بیش، کیریبیئن پریمیئر لیگ ۔۔۔۔۔ وہ کون سی لیگ ہے جو کرس گیل اور کیون پیٹرسن نے نہ کھیلی ہو، اور صرف شرکت ہی نہیں کی بلکہ اپنا لوہا بھی منوایا ہے۔ اب ٹی ٹوئنٹی کے دو جانے مانے 'استاد' پاکستان سپر لیگ میں بھی مقابل دکھائی دیں گے۔ ان کے ریکارڈز اور 'طریقۂ واردات' کو مدنظر رکھیں تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دونوں پی ایس ایل کے خطرناک ترین کھلاڑی ہوں گے اور جب آمنے سامنے آئیں گے تو کیا ہی نظارہ ہوگا۔ کرس گیل 'قلندرانِ لاہور' کے لیے جبکہ کیون پیٹرسن کوئٹہ کے گلیڈی ایٹرز کے لیے کھیلیں گے۔

Facebook Comments