محمد عامر، ایک ”میچ ونر“؟

پاکستان میں کرکٹ کے کرتا دھرتا حلقوں، اور شائقین کے لیے بھی، اس وقت پاکستان سپر لیگ کے انعقاد، ملک میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی، بھارت کے ساتھ سیریز کے ہونے والے مالی نقصان کے ازالے اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے اہم ٹورنامنٹ کی تیاری سے زیادہ اہم محمد عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کا معاملہ ہے۔ اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری ترجیحات کیا ہے۔ 14 ٹیسٹ مقابلوں میں 51 وکٹیں لینے والے گیندباز کے حق میں ایسے ایسے دلائل سامنے آ رہے ہیں کہ بس کیا بتائیں۔ 'عذر گناہ بدتر از گناہ' کے مصداق ٹیم کے دیگر، بلکہ ماضی کے کھلاڑیوں کو بھی پرکھا جا رہا ہے اور اس کی بنیاد پر عامر کی واپسی کے جواز تراشے جا رہے ہیں۔ دلائل کے انبار میں ایک دلیل جو بہت زیادہ پیش کی جا رہی ہے وہ یہ ہے کہ عامر ایک "میچ وِنر" یعنی فتح گر کھلاڑی ہے۔ بلاشبہ عامر ایک بہت باصلاحیت گیندباز تھا، اور ہے بھی، لیکن یہ دعویٰ تو شاید وہ خود بھی نہیں کرے گا کیونکہ کوئی ایسا مقابلہ بھی نہیں ہے جہاں عامر نے تن تنہا پاکستان کو کامیابی دلائی ہو۔

پاکستان کے لیے محمد عامر نے 14 ٹیسٹ مقابلے کھیلے ہیں جن میں سے پاکستان نے صرف 3 ٹیسٹ جیتے جبکہ 9 میں اسے شکست ہوئی۔ ان میں کئی ایسے مقابلے شامل ہیں جہاں عامر کی کارکردگی بہترین رہی، لیکن وہ فاتحانہ ہرگز نہیں تھی۔ آئیے ایک، ایک کرکے پہلے کچھ ایسے ہی ٹیسٹ مقابلوں کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کے بعد پھر محدود اوورز کی کرکٹ کا رخ کریں گے تاکہ حقیقی تصویر ظاہر ہو سکے۔

محمد عامر نے اپنا پہلا ٹیسٹ جولائی 2009ء میں سری لنکا کے خلاف کھیلا تھا، جہاں انہوں نے 6وکٹیں حاصل کیں لیکن پاکستان کو سری لنکا کے ہاتھوں 50 رنز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ عامر کی دوسری نمایاں کارکردگی اسی سال دورۂ نیوزی لینڈ میں تھی جہاں ڈنیڈن میں انہوں نے 4 وکٹیں حاصل کیں لیکن پاکستان کو کامیابی نہ دلا سکے۔

اس کے بعد پاکستان نے آسٹریلیا کا وہ دورہ کیا، جس نے 2010ء کے آغاز ہی کو بھیانک بنا دیا۔ ملبورن ٹیسٹ میں عامر کی پانچ وکٹیں بھی پاکستان کے کام نہ آئیں اور نہ صرف ٹیسٹ، بلکہ تمام ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی بھی آسٹریلیا ہی جیتا۔ اسی سال پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف اپنی 'ہوم سیریز' انگلستان میں کھیلی، جہاں پہلے ٹیسٹ میں 4 وکٹیں لینے کے باوجود عامر آسٹریلیا کو نہ پچھاڑ سکے۔ البتہ دوسرے ٹیسٹ میں ان کی 7 وکٹیں ضرور کام آئیں۔ وہ الگ بات کہ 180 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی 7 وکٹیں تک گرگئیں، اور اگر ہدف 200 سے کچھ اوپر کا ہوتا تو شکست یقینی تھی کیونکہ جیتتے وقت کریز پر کوئی بیٹسمین نہیں بلکہ عمر گل اور یہی محمد عامر موجود تھے۔

Mohammad Amir

بعد ازاں انگلینڈ کے خلاف سیریز ہوئی، جو عامر کے لیے نقطہ عروج اور نقطہ زوال دونوں تھی۔ انہوں نے پہلے ٹیسٹ میں 4 وکٹیں لیں تو انگلستان 354 رنز سے جیتا، دوسرے میں تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تو انگلینڈ کو 9 وکٹوں سے کامیابی ملی، تیسرے میں 6 وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کو سیریز کی واحد کامیابی ملی۔ یہاں بھی 148 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان 6 وکٹیں گرنے کے بعد بمشکل جیتا۔

پھر لارڈز کا بدنامِ زمانہ چوتھا ٹیسٹ جہاں عامر نے پہلی اننگز میں شاندار باؤلنگ کی اور کل 6 وکٹیں لیں لیکن پاکستان کو نہ صرف اننگز اور 225 رنز کے بھاری مارجن سے شکست ہوئی بلکہ ملک کی ساکھ کو ایسا نقصان پہنچا کہ اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ عامر کے علاوہ محمد آصف بھی جان بوجھ کر نو-بالز کرتے ہوئے پکڑے گئے اور اس سازش میں کپتان سلمان بٹ بھی ملوث قرار پائے اور تمام الزامات ثابت ہونے پر نہ صرف تینوں کو پانچ، پانچ سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ برطانیہ میں قید کی سزائیں بھی بھگتنا پڑیں۔

اگر عامر کا ٹیسٹ کیریئر دیکھیں تو جن ٹیسٹ میچز میں انہوں نے کم از کم چار وکٹیں حاصل کی ہیں، جی ہاں دونوں اننگز کی وکٹیں ملا کر، تو ان میں سے پاکستان صرف دو جیتا ہے۔ ٹیسٹ میں اس کے بعد پاکستان کی کارکردگی کیا رہی ہے، شاید تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف اتنا ہی بتا دیتے ہیں کہ پاکستان نے گزشتہ پانچ سالوں میں جنوبی افریقہ، انگلینڈ اور آسٹریلیا جیسی ٹیموں کے علاوہ سری لنکا، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز ہر ٹیم کے خلاف زبردست کامیابیاں حاصل کیں ہیں جن میں سیریز میں کلین سویپ فتوحات بھی شامل ہیں۔

محمد عامر کا ٹیسٹ کیریئر

مقابلے وکٹیں بہترین باؤلنگ/اننگز بہترین باؤلنگ/میچ اوسط اکانمی اننگز میں پانچ وکٹیں میچ میں 10 وکٹیں
14 51 6/84 7/106 29.09 3.10 3 0

خیر، ایک روزہ میں بھی محمد عامر کا حال کوئی اچھا نہیں۔ وہ ایک بار بھی وہ میچ میں پانچ وکٹیں نہیں لے سکے، پھر اُن کے دور میں پاکستان کو تمام ہی سیریز میں بھی شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ جیسا کہ پہلے دورۂ سری لنکا میں، پھر چیمپئنز ٹرافی میں سیمی فائنل کی شکست، اس کے بعد نیوزی لینڈ کے خلاف عرب امارات میں کھیلی گئی ہوم سیریز اور پھر آسٹریلیا کا بھیانک دورہ۔

2010ء میں ایشیا کپ کے فائنل تک رسائی حاصل نہ کر پانا، جہاں بھارت کے خلاف اہم مقابلے میں محمد عامر آخری اوورز میں اس وقت بھی 9 رنز کا دفاع نہ کرسکے جب ابتدائی دو گیندوں پر صرف ایک رن بنا تھا۔ پانچویں گیند پر وہ ہربھجن سنگھ کے ہاتھوں چھکا کھا بیٹھے اور پاکستان اعزاز کی دوڑ سے باہر ہوگیا۔

محمد عامر کا ایک روزہ کیریئر

مقابلے وکٹیں بہترین باؤلنگ اوسط اکانمی میچ میں پانچ وکٹیں
15 25 4/28 24.00 4.56 0

ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2009ء میں سات مقابلوں میں چھ وکٹوں سے مختصر ترین طرز کی کرکٹ کا آغاز کرنے والے عامر نے 18 مقابلے کھیلے اور 19.86 کے زبردست اوسط کے ساتھ 23 وکٹیں حاصل کیں۔ جن میں سے 9 انہوں نے اپنے آخری تین ٹی ٹوئنٹی میچز میں حاصل کیں، جو آسٹریلیا کے خلاف کھیلے گئے تھے۔ ویسے پاکستان نے بھی ان 18 مقابلوں میں سے 12 جیتے، اس لیے ٹی ٹوئنٹی کے محاذ پر تو کافی حد تک عامر اس مفروضے پر پورے اترتے ہیں۔ لیکن اس میں ایک مقابلہ ایسا ہے جو ان کے "فتح گر" کے لقب پر پورا نہیں اترتا۔ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی 2010ء کا سیمی فائنل کہ جہاں آسٹریلیا کو آخری دو اوورز میں 34 رنز کی ضرورت تھی اور عامر نے انیسویں اوور میں 16 رنز دیے۔ اس میں عامر کا قصور بہت کم اور مائیکل ہسی کی یادگار بیٹنگ کا کارنامہ زیادہ ہے جنہوں نے اگلے اوور میں درکار 18 رنز پانچ گیندوں پر بنا کر مقابلے کا فیصلہ کردیا تھا۔

محمد عامر کا ٹی ٹوئنٹی کیریئر

مقابلے وکٹیں بہترین باؤلنگ اوسط اکانمی میچ میں پانچ وکٹیں
18 23 3/23 19.86 7.03 0

بہرحال، اس امر میں تو کوئی شبہ نہیں کہ ایک نظر میں محمد عامر تینوں طرز کی کرکٹ میں بہترین اوسط رکھنے والے ایک زبردست باؤلر لگتے ہیں لیکن انہیں کم از کم "فتح گر" نہیں کہا جا سکتا، اس میں انہیں کافی وقت لگے گا۔ وہ بھی اس صورت میں کہ وہ باآسانی قومی کرکٹ ٹیم کے ماحول میں شامل ہو جائیں، فی الحال جتنی کھینچا تانی ہو رہی ہے، اس میں لگتا نہیں کہ ان کے لیے بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آنا آسان ہوگا۔

Facebook Comments