محمد عامر کو موقع دینا قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے: عامر سہیل

جب سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے اسپاٹ فکسنگ میں پانچ سال سزا پوری کرنے والے محمد عامر کو تربیتی کیمپ میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اُس کے بعد شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو جب پاکستان کے موجودہ کھلاڑیوں یا سابق کھلاڑیوں کی طرف سے عامر کی حمایت یا مخالفت میں کوئی بیان نہ آیا ہو۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین شہریار خان نے بڑی مشکل سے محمد حفیظ اور اظہر علی پر قابو پایا تو اگلے روز اظہر علی نے بطور احتجاج کپتانی سے استعفیٰ جسے منظور تو نہیں کیا گیا لیکن عامر کی مزید مخالفت کو روکنے کے لیے تمام ہی کھلاڑیوں سے ایک عہد ضرور کروایا گیا ہے کہ اب کوئی کھلاڑی عامر کے معاملے میں بیان نہیں دے گا۔ چلیں ٹیم کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑی تو مجبور ہیں کہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے وہ مزید کچھ نہیں کہہ سکتے، مگر سابق کھلاڑیوں کو بھلا کس طرح روکا جائے اور سابق بھی ایسے جو اب بورڈ سے کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کررہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ سابق کپتان و چیف سلیکٹر عامر سہیل نے کہا ہے کہ بورڈ کی جانب سے محمد عامر کو موقع دینا بورڈ کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ "بورڈ کے آئین میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ بدعنوان کھلاڑیوں کے لیے کسی بھی سطح پر نرم گوشہ نہیں رکھا جائے گا، لیکن اب بورڈ خود اپنے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے کھلاڑی کو موقع دینے کی کوشش کررہا ہے کہ جس نے جانتے بوجھتے ایسی حرکتیں کیں۔

یہ بھی پڑھیں: خود کو بہتر کھلاڑی اور بہتر انسان ثابت کروں گا: محمد عامر

عامر سہیل نے کہا کہ محمد عامر کو راہِ راست پر لانے کے لیے بورڈ نے ذمہ داری بھی شعیب ملک کو دی ہے، یہ فیصلہ بذاتِ خود مذاق ہے۔ بورڈ کی جانب سے شروع کیا گيا بحالی پروگرام مکمل طور پر ناکام نظر آ رہا ہے۔

یاسر شاہ کے ڈوپ ٹیسٹ کے معاملے پر سابق کپتان نے کہا کہ اِس غلطی میں کھلاڑی سے زیادہ قصور پی سی بی کی طبی ٹیم کا ہے کیونکہ ہر کھلاڑی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ کوئی بھی دوا استعمال کرنے سے پہلے بورڈ سے رابطہ کرے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ اِس قانون کے حوالے سے بورڈ نے کھلاڑیوں کو آگاہ ہی نہیں کیا۔ انہوں نے یاسر شاہ اور بورڈ کے اِس بیان کو انتہائی بھونڈا اور ناقابل برداشت قرار دیا کہ یاسر شاہ نے غلطی سے اپنی بیگم کی دوائی کھا لی تھی۔ "کیا معاملہ محض اتنا سیدھا ہے؟ ایک نامعلوم دوائی کھانا وہ بھی اتنی مقدار میں کہ ٹیسٹ میں بھی واضح ہو جائے۔ اگر بورڈ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل سے بات کی جائے گی تو کوشش کی جائے مضبوط دلائل کے ساتھ ہو، ورنہ بورڈ کا محض مذاق ہی اڑے گا۔"

متعلقہ تحریر: محمد عامر کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی، مخالفت شدید تر

پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے عامر سہیل نے کہا کہ ایک طرف تو ہم زمبابوے کے دورۂ پاکستان کے حوالے سے دنیا بھر میں ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ پاکستان اب ایک محفوظ ملک ہے، لیکن پاکستان سپر لیگ کا انعقاد ہم متحدہ عرب امارات میں کرواتے ہیں۔ ملک کے حالات میں بتدریج بہتری آرہی ہے اِس لیے بورڈ کو کوشش کرنی چاہیے کہ کم از کم لیگ کے کچھ مقابلوں کا انعقاد پاکستان میں بھی کروایا جائے۔

عالمی کپ 1992ء کے فاتح دستے کا حصہ رہنے والے عامر سہیل کہتے ہیں کہ اِس وقت ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ملک میں کرکٹ کے فروغ سے زیادہ پیسے کمانے میں دلچسپی لے رہے ہیں، یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ جس کی وجہ سے ہم ہر وہ مطالبہ ماننے کے لیے تیار ہورہے ہیں جو ہمیں نہیں کرنے چاہیے۔ غالباً ان کا اشارہ حالیہ پاک-بھارت سیریز کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی رویّے کی جانب تھا۔

Facebook Comments