جنوبی افریقہ کا سنگھاسن ڈولنے لگا، بھارت کی نظریں جم گئیں

دورۂ بھارت سے پہلے جنوبی افریقہ بلا شرکت غیرے دنیائے کرکٹ کا راج کر رہا تھا۔ مجال تھی کہ کوئی اس کے مقام کے قریب بھی جاتا لیکن بھارت کے ہاتھوں تین-صفر کی شکست کی ضرب اتنی گہری ہے کہ ابھی تک جنوبی افریقہ سنبھل نہیں سکا اور شاید یہی وجہ ہے کہ اپنے ہی گھر میں انگلستان کے ہاتھوں 241 رنز کی بڑی شکست سے دوچار ہوا ہے۔ اس شکست کے بعد انگلستان نے تو سیریز جیتنے کا خواب سجا لیا ہے جبکہ بھارت، اور ساتھ ساتھ آسٹریلیا کی نظریں بھی گرتے ہوئے تاج کو پکڑنے پر ہیں۔ بھارت کی شدید خواہش ہے کہ انگلستان جنوبی افریقہ کو ٹیسٹ سیریز میں شکست دے تاکہ وہ عالمی نمبر ایک پوزیشن حاصل کرسکے۔

ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے لیے 2015ء ایک بھیانک سال رہا۔ اس نے آخری ٹیسٹ سال کے اوائل میں ویسٹ انڈیز کے خلاف جیتا تھا۔ اس کے بعد سے سال کے اختتام تک سات ٹیسٹ کھیلے، اور کسی میں کامیابی حاصل نہ کرسکا۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیش کے خلاف بھی نہیں۔ گو کہ اس میں بنگلہ دیش کی کارکردگی سے زیادہ کردار بارش کا تھا لیکن اعداد و شمار ان پہلوؤں پر کہاں غور کرتے ہیں۔ پھر بھارت کا وہ طویل دورہ آیا، جس میں ٹی ٹوئنٹی ایک روزہ میں تو شاندار فتوحات سمیٹیں لیکن ٹیسٹ میں تین-صفر کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

کرکٹ پنڈتوں کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کی بھارت میں شکست میں خراب کارکردگی سے زیادہ کمال خراب وکٹوں کا ہے اور انگلستان کے خلاف اپنے گھر میں جنوبی افریقہ کی ٹیم بالکل بدلی ہوئی نظر آئے گی، لیکن پہلے ہی ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کو 241 کی غیر معمولی شکست ہوگئی۔ یہی وہ شکست ہے جس کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں دوسری پوزیشن پر براجمان بھارت بے تاب ہو گیا۔ اس نے دعائیں شروع کردی ہیں کہ انگلستان ٹیسٹ سیریز جیت جائے تاکہ وہ نمبر ایک مقام حاصل کرلے۔ وہ پھل جو جنوبی افریقہ کے خلاف تاریخی سیریز کامیابی کے بعد اسے ملنا چاہیے۔

دوسری طرف آسٹریلیا کو ویسٹ انڈیز کو تیسرے ٹیسٹ میں شکست دینا ہوگی۔ اگر ایسا ہوگیا، جس کا امکان بہت بہت زیاد ہے، تو آسٹریلیا کے پوائنٹس بھی بھارت کے برابر ہو جائیں گے۔ بس بھارت کی خوش قسمتی یہ ہےکہ اعشاریہ کے فرق سے اسے برتری حاصل ہوگی۔

اب حالت یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کو اگر ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی بادشاہت، بلکہ اب تو عزت کہنا چاہیے، برقرار رکھنی ہے تو لازمی ہے کہ وہ انگلستان کے خلاف سیریز کو کم از کم ڈرا ضرور کرے۔ اگر اسے شکست ہوئی، چاہے کسی بھی مارجن سے، ایک-صفر سے ہی سہی، ہر صورت میں وہ درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر چلا جائے گا۔ ویسے امکانات تو کم ہیں لیکن تین-صفر کی شکست اسے چوتھی جبکہ وائٹ واش پانچویں پوزیشن پر لے آئے گا۔

اگر جنوبی افریقہ کو کسی بھی فرق سے شکست ہوئی، تو بھارت 2011ء کے بعد پہلی بار عالمی نمبر ایک بن جائے گا۔ مہندر سنگھ دھونی کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے کے بعد بلاشبہ بھارت کے لیے 2015ء بہت اچھا ثابت ہوا۔ 2014ء میں صرف ایک ٹیسٹ جیتنے والے بھارت نے رواں سال 9 میں سے 5 میچز میں فتوحات حاصل کیں اور صرف ایک میں شکست کھائی۔

Facebook Comments