[سالنامہ 2015ء] پاکستان کے لیے ایک اور ملا جلا سال

ہر سال کے اختتام پر ضروری ہے کہ ہم اس پر ایک نظر ضرور ڈالیں۔ 2015ء کے رخصت ہونے کے بعد اگلے سال کی منصوبہ بندی کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کا اچھی طرح جائزہ لیں۔ اگر پچھلا سال اچھا ثابت ہوا تو اس سلسلے کو کیسے جاری رکھا جا سکتا ہے اور اگر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو مستقبل میں کیسے بچا جا سکتا ہے۔ درحقیقت یہ تقابلی جائزہ زندگی کے کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ ہر پہلو سے لوگ اس پر نظر ڈال رہے ہیں۔ چونکہ ہمارے لیے پاکستان کرکٹ بہت اہم ہے تو اس پر ہم ضرور بات کریں گے اور جنوری سے لے کر دسمبر تک پورے سال کا جائزہ لیں گے۔

سال 2015ء ویسا ہی رہا جیسا ہمیشہ پاکستان کرکٹ رہتی ہے، اس میں ورلڈ کپ میں شکست جیسا غم بھی ہے، عرصہ بعد سری لنکا میں ملنے والی کامیابی جیسی خوشی بھی اور انگلستان کے خلاف فتح جیسا دوبارہ انجام دیا گیا کارنامہ بھی۔ تنازعات بھی ہیں، ہنگامے بھی، امید بھی ہے تو مایوسی بھی۔

دورۂ نیوزی لینڈ اور عالمی کپ

پاکستان نے سال 2015ء کے اوائل میں ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے نیوزی لینڈ کا ایک مختصر دورہ کیا۔ دو ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کا بنیادی مقصد تو یہ تھا کہ میزبان ٹیم کو اُسی کے میدان میں شکست دیکر حوصلوں کو بلند کیا جائے مگر جو سوچا ویسا ہرگز نہیں ہوا کہ پاکستان کو دونوں میچوں میں شکست ہوئی، اور صرف شکست نہیں ہوئی بلکہ شرمناک شکست ہوئی۔ اِس سیریز کے نتیجے کو دیکھ کر خیال آیا کہ یہ سیریز نہ ہی ہوتی تو بہتر تھا کہ اِس شرمناک شکست کے نتائج ورلڈ کپ میں بھی دیکھنے کو ملے۔ میگا ایونٹ میں پاکستان کا مقابلہ روایتی حریف بھارت سے تھا۔ ورلڈ کپ کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ویسے ہی پاکستانی ٹیم دباؤ میں تھی اور پھر نیوزی لینڈ کے خلاف شکست نے بھی کہیں کا نہ چھوڑا۔ بھارت نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کو ایک بار پھر ورلڈ کپ میں شکست دی۔ قومی ٹیم کے لیے مسلسل ناکامیوں نے مشکلات کھڑی کردیں۔ اب اگلا میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا اور ہر طرف یہ اُمید کی جارہی تھی کہ نسبتاً کمزور ٹیم کو شکست دی جاسکتی ہے اور یہی وہ شکست ہوگی جو پاکستانی ٹیم اور کھلاڑیوں کے عزم و حوصلوں کو بلند کرے گی۔ مگر ایک بار پھر جو سوچا ہوا اُس کے اُلٹ ہی ہوا کہ ویسٹ انڈیز کے خلاف شکست قومی ٹیم کے لیے بھیانک خواب بن گئی۔ بہرحال زمبابوے اور متحدہ عرب امارات کے خلاف فتوحات نے کچھ ہمت باندھی ۔ مگر فتوحات کی خوشیوں کے بیچ معلوم ہوا کہ اگلا میچ ایونٹ کی مضبوط ترین ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف ہے۔ اب بھلا شیر کے منہ سے فتح کون چھینے؟ لیکن ایونٹ میں رہنے کے لیے یہ میچ جیتنا ناگزیر بھی تھا۔ اِس موقع پر کرکٹ کو جاننے والے ہر ایک کی رائے یہی تھی کہ پاکستان اِس شکست کے بعد ایونٹ سے باہر ہوجائے گا۔ لیکن پھر قومی ٹیم کو جوش آیا اور اُس نے جنوبی افریقہ کو شکست دیکر سب کے منہ بند کردیے۔پہلے بلے بازی کرتے ہوئے پاکستان نے کپتان مصباح الحق کے 56 اور ابتدائی چار میچوں میں نظر انداز کیے جانے والے سرفراز احمد کے 49 رنز کی بدولت بمشکل 222 رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ کے خطرناک بلے بازوں کو دیکھ کر یہ ہدف بہت ہی معمولی معلوم ہورہا تھا مگر پاکستانی گیند بازوں نے کچھ الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور پوری ٹیم کو محض 202 رنز پر محدود کرکے ’کرو یا مرو‘ والے میچ میں فتح حاصل کرلی۔ لگاتار تین میچوں میں فتوحات نے کھلاڑیوں کو ایک نیا جوش اور ولولہ دیا۔ اگلا میچ دیکھنے میں کمزور لیکن بڑے بڑے کام کرنے والی آئرلینڈ سے تھا۔ آئرلینڈ کا نام سن کر 2007ء کے ورلڈ کپ کی شکست یاد آجاتی ہے ۔ لیکن ماضی کے تمام واقعات کو ایک طرف رکھتے ہوئے قومی ٹیم نے آئرلینڈ کو بھی شکست دیکر کر کوارٹرفائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا جہاں اُس کا میچ مضبوط ترین آسٹریلیا سے تھا۔ کمزور بلے بازی کے سبب پاکستان میچ تو ہار گیا مگر وہاب ریاض نے اُسی میچ میں خطرناک ترین اسپیل کرواکر میچ کوآج تک زندہ رکھا ہوا ہے۔اِسی شکست کے ساتھ ایک روزہ ٹیم کے کپتان مصباح الحق اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی ایک روزہ کرکٹ سے رخصت ہوگئے۔

دورۂ بنگلہ دیش

azhar-ali

ورلڈ کپ کی شکست کا دُکھ اپنی جگہ ، مگر ایک دُکھ اور بھی تھا اور وہ یہ کہ مصباح الحق کے بعد بھلا کس کو کپتانی کا عہدہ سونپا جائے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بہت غور و خوص کے بعد یہ عہدہ ایک روزہ کرکٹ کے داو پیچ کو نہ سمجھنے والے اظہر علی کو دینے کا فیصلہ کیا۔ اب اظہر علی کے لیے دو بڑی ذمہ داریاں تھی۔ پہلی یہ کہ وہ خود کو ایک روزہ کرکٹ کے مطابق ڈھالیں اور دوسری یہ کہ ٹیم کو بھی اچھی طرح سے آگے کی جانب لے جائیں۔ اظہر علی کا پہلا مقابلہ کمزور حریف بنگلہ دیش سے اُسی کے گھر پر تھا۔ بنگلہ دیش کو دیکھ کر یقیناً اظہر علی کسی حد تک پُرسکون ہوں گے لیکن پاکستان کے خلاف سیریز کے بعد سے بنگلہ دیش ایک مکمل طور پر بدلی ہوئی ٹیم نظر آئی خصوصاً اپنی وکٹوں پر۔ اُس نے ایک روزہ سیریز میں صرف پاکستان کو شکست نہیں دی بلکہ کلین سوئپ کردیا۔ معاملہ صرف ایک روزہ سیریز تک محدود نہیں رہا بلکہ شاہد آفریدی کی زیر قیادت ٹیم کو واحد ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ پاکستان کے چاہنے والوں کے لیے ہرگز قابل قبول بات نہیں تھی ، یہی وہ وجہ تھی کہ سارے تیروں کا رُخ بورڈ اور اظہر علی کی جانب تھا۔ لیکن غصہ اُس وقت ٹھنڈا ہوگیا جب بنگلہ دیش نے پاکستان کے بعد بھارت اور جنوبی افریقہ کو بھی ایک روزہ سیریز میں شکست سے دوچار کردیا۔ بہرحال ایک روزہ سیریز اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست کے بعد ٹیسٹ سیریز میں مصباح الحق کی قیادت میں کھیلنے والی ٹیم نے ہمت دکھائی اور دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز میں ایک-صفر سے کامیابی حاصل کرلی۔

زمبابوے کا دورۂ پاکستان

اب تک 2015ء پاکستان کے لیے کسی بھی طور پر ثابت نہیں ہوا تھا لیکن زمبابوے کے خلاف اگلی سیریز پاکستان کرکٹ کے لیے بہت زیادہ اہمیت کی حامل تھی ۔ یقیناً آپ حیرت زدہ ہونگے کہ زمبابوے کے خلاف سیریز اِس قدر اہم کیوں ہیں؟ تو جناب وجہ یہ ہے کہ 2009 کے بعد پہلی مرتبہ کوئی انٹریشنل ٹیم پاکستان آرہی تھی۔ اِس تاریخی سیریز میں پاکستان نے مہمان کے طور پر آئی زمبابوے کی میدان سے باہر تو خوب تواضع کی مگر میدان کے اندر بالکل بھی لحاظ نہیں کیا۔ پہلے دو میچوں پر مشتمل ٹی ٹوئنٹی سیریز میں دو صفر سے کامیابی حاصل کی اور پھر اور تین میچوں کی سیریز دو-صفر سے اپنے نام کرلی، دو صفر سے اِس لیے کہ آخری میچ بارش کی وجہ سے مکمل نہیں ہوسکا۔

دورۂ سری لنکا

Yasir-Shah

لیکن وہ کہتے ہیں نا فتح کسی کے بھی خلاف ہو، فتح فتح ہی ہوتی ہے۔ اِس یادگار ٹور کے بعد پاکستان کو سری لنکا کو سری لنکا میں جاکر شکست سے دوچار کرنے کا چیلنج درپیش تھا۔ پاکستان کے لیے یہ سیریز اِس لیے بھی مشکل تھی کہ طویل عرصے سے پاکستان نے سری لنکا کو اُس کے میدانوں میں ٹیسٹ سیریز نہیں ہرائی تھی۔ دونوں ٹیموں کو نوجوان کھلاڑیوں کا ساتھ حاصل تھا۔ ایک طرف کمار سنگاکارا کا ساتھ تھا دو سری طرف مصباح الحق کا تجربہ کارآمد ثابت ہوسکتا تھا، اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ مصباح کی زبردست کپتانی کے سبب پاکستان نے سری لنکا کو تین میچوں کی سیریز میں دو-ایک سے شکست دے دی۔ سیریز میں ویسے تو تمام ہی کھلاڑیوں نے حصہ بقدر جثہ فتح میں کردار ادا کیا لیکن یاسر شاہ کی 24 وکٹوں نے فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔گال کے میدان میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میں یاسر شاہ نے سات وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان یہ میچ باآسانی میچ جیت گیا۔ لیکن اِس شکست کے بعد بھلا میزبان ٹیم کیسے خاموش رہتی۔ اُس نے واپسی کی اور دوسرے میچ میں پاکستان کو شکست دیدی ، یوں سیریز ایک ایک سے برابر تھی۔ اب دونوں ٹیموں پر برابر کا دباؤ تھا، لہذا فتح اُسی کو ملنی تھی جو دباو کو خود پر حاوی کرنے کے بجائے دباؤ پرحاوی ہوجائے، اور پاکستانی ٹیم نے بالکل ایسا ہی کیا۔ 377 رنز کے ہدف کو بھی حاصل کرلیا جو اِس سے قبل کبھی نہیں کیا تھا، جس میں اہم ترین کردار تیسری وکٹ کے لیےشان مسعود اور یونس خان کی 242 رنز کی شراکت داری کا تھا۔ٹیسٹ سیریز میں تو فتح مل گئی مگر اصل امتحان تھا اظہر علی کا ۔ کیونکہ بنگلہ دیش سے شکست کا دباؤ ابھی ختم نہیں ہوا تھا اور سری لنکا کے خلاف بڑا مقابلہ اُن کا منتظر تھا۔ لیکن نوجوان کھلاڑی نے ہمت دکھائی اور پانچ ایک روزہ سیریز بھی تین دو سے جیت لی۔ سیریز میں کامیابی کا سہرا محمدحفیظ کے سر جاتا ہے اور یہی وہ کارکردگی تھی جس کی بنیاد پر اُن کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ دونوں طرز میں فتح کے بعد پاکستانی ٹیم کا خواب تو یہی تھا کہ اِس میں بھی فتح مل جائے تاکہ سیریز کا تاریخی اختتام ہو، جبکہ دوسری طرف سری لنکن ٹیم کی خواہش تھی کہ سب کچھ ہاتھ سے نکلنے کے بعد کم از کم ٹی ٹوئنٹی سیریز تو بچالی جائے۔ لیکن سری لنکن ٹیم کے خواب کو انور علی کی آل راونڈ کارکردگی نے چکناچور کردیا اور یوں پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی اپنے نام کرلی۔

دورۂ زمبابوے

Bilal Asif

اِس تاریخی فتح کے بعد احسان کا بدلہ چکانے پاکستانی ٹیم زمبابوے پہنچ گئی۔اُمیدوں اور توقعات کے عین مطابق پاکستان نے ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فتح تو حاصل کرلی لیکن سیریز کا سب سے مزیدار اور حیران کن لمحات دوسرے ایک روزہ میچ میں دیکھنے کو ملے۔ جب 277 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کے 76 رنز پر 6 وکٹیں گر گئیں تھی۔ جس کے بعد شعیب ملک نے ہمت دکھائی اور پاکستان کو فتح کی راہ پر گامزن کردیا۔ لیکن جب دو اوورز میں 21 رنز چاہیے تھے تو اندھیرکے سبب امپائر نے میچ روک دیا ۔ حالانکہ 96 رنز پر موجود ملک بلے بازی کے لیے تیار تھے۔ ایمپائر کے فیصلے کے سبب زمبابوے کو سیریز میں واحد فتح ڈک ورتھ لوئس میتھڈ کے تحت مل گئی وہ بھی صرف پانچ رنز سے۔

انگلستان کے خلاف سیریز

Yasir

اِس کمزور سیریز کے بعد پاکستان کا اصل امتحان تو اب ہونا تھا۔ متحدہ عرب امارات کےمیدانوں میں انگلستان کے خلاف بڑی اور مشکل سیریز پاکستان کو کھیلنی تھی۔ ٹیسٹ سیریز میں تو اُمیدیں اچھی تھی کہ پہلے بھی اِنہیں میدانوں میں پاکستان کلین سوئپ کرچکی ہے لیکن اصل پریشانی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں تھی کہ عرب امارات کے میدانوں میں پاکستان کا ریکارڈ بہت ہی خراب ہے۔بہرحال ٹیسٹ سیریز میں نتیجے عین اُمیدوں کے مطابق آیا ۔ابوظہبی کی مردہ وکٹ پر ابتدائی چار دن بلے بازوں کا راج رہا لیکن پاکستانی بلے بازوں کی غلط حکمت عملی کے سبب پاکستانی ٹیم اُس وقت مشکل کا شکار ہوگئی جب 19 اوورز میں انگلستان کو محض 99 رنز بنانے تھے جو باآسانی بن سکتے تھے۔ابتدائی 11 اوورز میں 74 رنز بن بھی چکے تھے مگر اندھیرے نے پاکستان کو شکست سے بچا لیا کہ ایمپائر نے خراب روشنی کے سبب میچ ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

لیکن اِس کے بعد پاکستان نے انگلستان کو نہیں چھوڑا ۔ دبئی میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میں بھی بلے بازوں کو تو حمایت حاصل تھی لیکن اسپنرز کے لیے بھی بہت کچھ تھا۔ پاکستان کے بلے بازوں کی شاندار کارکردگی کے سبب پاکستان نے میچ جیتنے کے لیے انگلستان کو 491 کا ہدف دیا۔ یقیناً ہدف کا تعاقب تو ناممکن تھا لیکن انگلستان میچ بچاسکتی تھی مگر بلے باز وہ بھی نہیں کرسکے کہ ابتدائی سات کھلاڑی 193 رنز پر آوٹ ہوگئے تھے۔ اِس موقع پر پاکستان کی ٹیم باآسانی میچ جیت رہی تھی لیکن گیند بازی میں مکمل طور پر ناکام ہونے والے عادل رشید نے بلے بازی میں کمال کردیا۔عادل رشید نے 172 گیندوں کا سامنا کیا جس میں 61 رنز بنائے۔ اب میچ کے آخری دن آخری پانچ اوورز کا میچ ہونا باقی تھا۔ کچھ بھی ہوسکتا تھا لیکن عادل رشید جس طرح بلے باز کررہے تھے ایسا معلوم نہیں ہورہا تھا کہ وہ کچھ غلطی کریں گے، لیکن توقعات کے برخلاف اُنہوں نے غلط شاٹ کھیل کر پاکستان کو فتح سے ہمکنار کروادیا۔

اگلا میچ شارجہ میں ہونا تھا جہاں اگر میچ بغیر کسی نتیجے کے ختم بھی ہوجائے تو تب بھی پاکستان کے لیے پریشانی کی بات نہیں تھی لیکن انگلستان کی شکست کی صورت میں سیریز اُس کے ہاتھ سے نکل جانی تھی۔ اور بالکل ایسا ہی ہوا صرف انگلستان کو ٹیسٹ سیریز میں دو-صفر کی شکست نہیں ہوئی بلکہ عرب امارات کے میدانوں میں پاکستان کو ٹیسٹ سیریز ہرانے کا خواب بھی چکنا چور ہوگیا۔ لیکن ٹیسٹ سیریز کے بعد انگلستان نے پاکستانی ٹیم کو ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی سیریز میں کوئی موقع نہیں دیا اور دونوں ہی سیریز اپنے نام کرلی جبکہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں تو کلین سوئپ کیا تھا۔

اگر 2015ء میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کارکرگی کا خلاصہ نکالا جائے تو اِس سال ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان سے بہتر کوئی بھی نہیں، جی ہاں کوئی بھی نہیں پھر چاہے وہ آسٹریلیا ہو یا جنوبی افریقہ۔ یہ بات ہوائی نہیں بلکہ ہمارے پاس ثبوت بھی ہے۔ پاکستان نے 2015 میں آٹھ ٹیسٹ میچوں میں پانچ جیتے اور صرف ایک ہی میچ شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ دو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے۔ لیکن ایک روزہ کرکٹ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں قومی ٹیم بہت ہی بجھی بجھی نظر آئی۔ پاکستان نے 2015ء میں 27 میچ کھیلے جس میں فتوحات سے زیادہ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 12 میچ جیتے تو 14 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹی ٹوئنٹی پاکستان نے اِس سال اپنا دبدبہ قائم نہ رکھ سکا یہاں تک کہ قومی ٹیم بنگلہ دیش کے خلاف بھی سیریز نہیں جیت سکا۔

لہذا ضرورت اِس بات کی ہے کہ پاکستان ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر بھی اپنی نظریں مرکوز رکھے۔ مارچ و اپریل میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی آرہا ہے جس میں فتح کے لیے ضروری ہے کہ بہترین ٹیم تیار کی جائے اور جن لوگوں پر نظر کرم ہوچکا ہے اُن کے حوصلوں کو بلند رکھا جائے تاکہ اُن کو کم از کم ہر وقت یہ خوف نہ رہے کہ وہ ٹیم سے ڈراپ ہوجائیں گے۔

wahab-watson

Article Tags

Facebook Comments