برینڈن میک کولم کی جانب سے محمد عامر کی حمایت

پاکستان اور نیوزی لینڈ کی محدود اوورز کے مقابلوں کی سیریز جیسے جیسے قریب آ رہی ہے، نظریں دنیائے کرکٹ کے بڑے کھلاڑیوں پر نہیں بلکہ محمد عامر پر مرکوز ہوتی جا رہی ہیں۔ کیا وہ اس سیریز کے ذریعے بین الاقوامی کرکٹ میں واپس آ پائیں گے؟ یہ بہت بڑا سوال ہے جس کا جواب بس جلد ہی آنے والا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے کرکٹ حلقوں کے علاوہ نیوزی لینڈ سے بھی عامر کے حق میں صدائیں بلند ہونے لگی ہیں جیسا کہ کپتان برینڈن میک کولم کا تازہ ترین بیان ہے کہ محمد عامر کو "شک کا فائدہ" دینا چاہیے۔

محمد عامر کا نام پاکستان کے ان دونوں دستوں میں شامل ہے جو رواں ماہ کے وسط سے آخر تک نیوزی لینڈ کے خلاف تین ٹی ٹوئنٹی اور اتنے ہی ایک روزہ مقابلے کھیلیں گے لیکن ان کی سیریز میں شرکت کا تمام تر انحصار نیوزی لینڈ کے ویزے کی فراہمی پر ہے۔ کیونکہ محمد عامر اسپاٹ فکسنگ کے بعد برطانیہ میں بدعنوانی و دھوکا دہی کے مقدمے میں 6 ماہ قید کی سزا بھی کاٹ چکے ہیں، اس لیے سزا یافتہ مجرموں کے حوالے سے نیوزی لینڈ کا قانون ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے، جو کچھ سخت ہے۔

لیکن مقدمے کے آغاز میں اعتراف جرم کرنے، بین الاقوامی کرکٹ کونسل کی جانب سے کسی بھی سطح پر کرکٹ سرگرمی میں شرکت کرنے پر 5 سالہ پابندی کاٹنے، بحالی کے تمام پروگراموں میں حصہ لینے، ہر سطح پر تعاون اور ڈومیسٹک و لیگ کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھا کر محمد عامر نے خاصی ہمدردیاں اکٹھی کرلی ہیں، پھر صرف 18 سال کی عمر میں جتنی شاندار باؤلنگ انہوں نے کی ہے، دنیائے کرکٹ اس باصلاحیت کھلاڑی سے محروم بھی نہیں ہونا چاہتی۔ یہی وجہ ہے کہ برینڈن میک کولم چاہتے ہیں کہ وہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں کھیلیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "اس وقت عامر بہت کم عمر تھے اور تو وہ ایک بحالی کے ایک موثر پروگرام سے بھی گزر چکے ہیں۔ اگر میدان میں وہ ہمارے مقابل آتے ہیں تو ہم انہیں صرف حریف کی حیثیت سے دیکھیں گے، ایک ایسے شخص کے طور پر نہیں جس نے ماضی میں کوئی غلطی کی ہو۔"

میک کولم کا یہ بیان محمد عامر کی شمولیت کے حوالے سے نیوزی لینڈ کے رویے کی عکاسی کر رہا ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے بھی محمد عامر کے حق میں بیان جاری کیا تھا کہ مجھے ذاتی طور پر عامر کے نیوزی لینڈ آنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوتی۔ البتہ انہوں نے اس کو اپنی ذاتی رائے قرار دیا تھا۔

Facebook Comments