[سالنامہ 2015ء] کامیاب ترین ٹیسٹ باؤلرز

کرکٹ شائقین کی ایک بڑی تعداد کو یہ غلط فہمی ہے میچ صرف بلّے باز جتواتے ہیں، لیکن یہ بات اپنے ذہنوں میں واضح کرلیجیے کہ ہوسکتا ہےکہ محدود اوورز کے مقابلوں میں یہ بات کسی حد تک درست سمجھی جائے لیکن ٹیسٹ میں وہی جیتتا ہے جس میں 20 وکٹیں لینے کی صلاحیت ہو۔ اگر آپ کو اب بھی یقین نہیں آ رہا تو گزشتہ سال یعنی 2015ء کی اہم اور بڑی ٹیسٹ فتوحات اٹھا کر دیکھ لیں، آپ کو بیشتر میں مرکزی کردار گیندبازوں کا نظر آئے گا۔ اس لیے پچھلے سال نمایاں کارکردگی دکھانے والے باؤلرز پر بات کرنا بہت ضروری ہے۔

سال 2015ء میں ہمیں کئی گیندباز عروج پر دکھائی دیے، جیسا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف روی چندر آشون، اس سے قبل سری لنکا اور انگلستان کے خلاف یاسر شاہ اور پھر ایشیز سیریز میں اسٹورٹ براڈ کی فضا میں تیرتی اور وکٹیں بکھیرتی ہوئی گیندیں، ان کے ہاتھوں ٹرینٹ برج میں آسٹریلیا کی پے در پے وکٹیں گرتے دیکھنا یا پھر یاسر شاہ کے ہاتھوں متحدہ عرب امارات میں انگلش بلے بازوں کا بے بس ہونا یا پھر ان کی ناقابل یقین گیند پر سمیت پٹیل کا بولڈ! یہ مناظر عرصے تک شائقین کرکٹ کے ذہنوں میں تازہ رہیں گے۔ لیکن اگر صرف اعداد و شمار کی بات کی جائے بھارت کے روی چندر آشون کا کوئی مقابلہ نہیں۔ سال میں اپنے پہلے ٹیسٹ میں بری طرح ناکام ہونے کے بعد آشون جیسے ہی برصغیر کی وکٹوں پر آئے، انہیں پر لگ گئے۔ انہوں نے سال بھر میں 9 ٹیسٹ میں 62 وکٹیں حاصل کیں۔ 17.60 کا ناقابل یقین اوسط اور آخری دو سیریز میں 52 وکٹیں اُن کی غیر معمولی کارکردگی رہی، جس نے بدولت بھارت نے سری لنکا اور پھر جنوبی افریقہ کے خلاف ایسی فتوحات حاصل کیں، جن کا اسے شدت سے انتظار تھا۔

گزشتہ سال جنوری کے اوائل میں جب آشون آسٹریلیا کے خلاف سڈنی پر کھیل رہے تھے تو پہلی اننگز میں 47 اوورز میں 142 رنز کھائے لیکن دوسری اننگز میں تو وہ مکمل طور پر میزبان بیٹسمینوں کے رحم و کرم پر دکھائی دیے۔ صرف 19 اوورز میں انہیں 105 رنز پڑے۔ لیکن وہ آسٹریلیا تھا، جیسے ہی برصغیر میں قدم رکھا، آشون کو روکنے والی کوئی طاقت نہ دکھائی دیتی تھی۔ بنگلہ دیش کے دورے پر واحد ٹیسٹ تو بارش کی نذر ہوا، جہاں جتنا کھیل ممکن ہو سکا اس میں بھی آشون پانچ وکٹیں لے اڑے۔ یوں اگست تک وہ دو ٹیسٹ میں 10 وکٹیں حاصل کر چکے تھے لیکن کسی کے سان گمان میں بھی نہ تھا کہ اگلے صرف 7 ٹیسٹ میں وہ کشتوں کے پشتے لگا دیں گے۔ پہلے انہوں نے سری لنکا کے خلاف تین ٹیسٹ میچز میں 18 کے معمولی اوسط سے 21 وکٹیں حاصل کیں۔ 46 رنز دے کر 6 وکٹیں ان کی بہترین اننگز کارکردگی رہی۔ انہوں نے ویراٹ کوہلی کو اپنے قائدانہ عہد کی پہلی سیریز جتوائی اور خود سیریز کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

اس کے بعد سال کے اختتام پر آشون نے جنوبی افریقہ کے خلاف اہم اور مشکل ترین مرحلہ بھارت کو اس طرح پار کروایا، جیسے دنیا کے جانے مانے بلے بازوں کو آؤٹ کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔ اسپن کے لیے مددگار وکٹوں پر انہوں نے پروٹیز کا خوب شکار کیا اور چار ٹیسٹ میں 31 کھلاڑیوں کو نشانہ بنا کر اپنی وکٹیوں کی تعداد تک 62 تک پہنچا دی۔ موہالی میں 8، بنگلور کے بارش متاثرہ ٹیسٹ میں 4، ناگ پور میں 12 اور پھر آخری مقابلے میں مزید 7 وکٹیں ان کے ہاتھ لگیں۔ سیریز کے بہترین کھلاڑی کا ایک اور اعزاز آشون کو ملا اور وہ سال میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندباز بنے۔

Stuart-Broad

وکٹوں کے معاملے میں آشون کے سب سے قریبی حریف انگلستان کے اسٹورٹ براڈ رہے، جنہوں نے سال بھر میں 56 وکٹیں حاصل کیں، لیکن 14 میچز بھی کھیلے۔ اگر اتنے میچز آشون کو مل جاتے، اور برصغیر میں کھیلنے کو ملتے، تو شاید ان کی نظریں شین وارن کے سال میں 96 وکٹیں حاصل کرنے کے عالمی ریکارڈ پر ہوتیں۔ بہرحال، براڈ نے 23.82 کے اوسط سے وکٹیں حاصل کرکے انگلستان کو ایشیز جتوانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پانچ میچز کی اس اہم سیریز میں انہوں نے تقریباً 21 کے اوسط سے 21 ہی وکٹیں حاصل کیں۔ اننگز میں صرف 15 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کرنے کی شاندار کارکردگی اس میں سب سے نمایاں تھی۔ ٹرینٹ برج، ناٹنگھم کی ایک یادگار صبح انہوں نے آسٹریلیا کے بلے بازوں پر قہر ڈھایا۔ صرف 9.3 اوورز میں 15 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کیں اور آسٹریلیا کو صرف 60 رنز پر ڈھیر کردیا۔ بعد ازاں انگلستان نے یہ مقابلہ اننگز اور 78 رنز سے جیتا۔ بلاشبہ یہ سال 2015ء کا بہترین ٹیسٹ باؤلنگ اسپیل تھا۔

Josh-Hazlewood

سال میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندبازوں میں تیسرا نام آسٹریلیا کے نوجوان جوش ہیزل ووڈ کا رہا، جنہوں نے 12 میچز میں 51 وکٹیں حاصل کیں۔ ان تینوں کے علاوہ کوئی گیندباز گزشتہ سال 50 وکٹوں کا ہندسہ عبور نہ کرسکا۔

پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں لیگ اسپنر یاسر شاہ نے حاصل کیں ۔ انہوں نے سال میں دو بڑی فتوحات، بمقابلہ سری لنکا و انگلستان، میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یاسر نے صرف 7 مقابلے کھیلے اور 23 کے اوسط سے 49 وکٹیں حاصل کیں۔ اگر 2015ء میں کم از کم 30 وکٹیں حاصل کرنے کو بھی معیار بنایا جائے تو اتنے کم میچز کسی نے نہیں کھیلے، جتنے میں یاسر شاہ کو موقع ملا۔

Yasir-Shah

اب نئے سال میں ہمیں مزید ٹیسٹ کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور سری لنکا جنوبی افریقہ کے دورے کریں گے جبکہ پاکستان اور سری لنکا انگلستان جائیں گے۔ کم از کم یہ تو اب تک طے ہیں، اس لیے ہمیں لگتا ہے کہ نیا سال تیز گیندبازوں کے لیے بہت اہم ثابت ہوگا۔ دیکھتے ہیں، نئے سال سے کیا سامنے آتا ہے؟

سال 2015ء میں سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹیں لینے والے گیندباز

گیندباز ملک مقابلے وکٹیں بہترین کارکردگی/اننگز اوسط اننگز میں پانچ وکٹیں
روی چندر آشون بھارت 9 62 7/66 17.20 7 مرتبہ
اسٹورٹ براڈ انگلستان 14 56 8/15 23.82 2 مرتبہ
جوش ہیزل ووڈ آسٹریلیا 12 51 6/70 23.35 2 مرتبہ
یاسر شاہ پاکستان 7 49 7/76 23.00 3 مرتبہ
ناتھن لیون آسٹریلیا 13 48 4/66 28.72 0 مرتبہ

Facebook Comments