نیوزی لینڈ چھا گیا، سری لنکا کو ایک روزہ سیریز میں بھی شکست

نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز کے ابتدائی دو مقابلوں کے بعد سری لنکا نے جس طرح تیسرے ون ڈے سے واپسی کی، اس کو دیکھتے ہوئے لگ رہا تھا کہ شاید اب سیریز میں زبردست مقابلہ دیکھنے کو ملے لیکن بارش کی وجہ سے چوتھا میچ نہ ہونے کے سبب پانچواں و آخری مقابلہ سری لنکا کے لیے زندگی و موت کا مسئلہ بن گيا۔ وہ سیریز جیت تو نہ سکتا تھا لیکن شکست سے بچنے کے لیے اسے لازمی کامیابی درکار تھی لیکن وہ نیوزی لینڈ کے دمکتے ستارے مارٹن گپٹل کی آب و تاب کے سامنے گہنا گیا، جن کی سنچری کی بدولت نیوزی لینڈ نے آخری ایک روزہ 36 رنز سے جیت لیا اور سیریز تین-ایک سے جیت لی۔

تلخ تجربات سہنے کے بعد سری لنکا کے کپتان اینجلو میتھیوز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کے بجائے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ پہلے ہی اوور میں نووان پردیپ کے ہاتھوں ٹام لیتھم کے صفر پر آؤٹ ہونے سے سری لنکا کو بہترین آغاز ملا۔ لیکن گیندباز اس کارکردگی کومزید آگے نہ بڑھا سکے۔ مارٹن گپٹل اور کین ولیم سن نے 122 رنز کی شراکت داری کے ذریعے مجموعے کو 125 رنز تک پہنچا دیا۔ یہی وہ رفاقت تھی جو نیوزی لینڈ کی کامیابی کے لیے بنیاد فراہم کرگئی۔ ولیم سن 61 رنز بنانے کے بعد تلکارتنے دلشان کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ دیر سے سہی لیکن وکٹ ملنے پر سری لنکا کے کھلاڑی بہت خوش دکھائی دے رہی تھے لیکن یہ خوشی کافور ہوگئی جب روس ٹیلر نے گپٹل کے ساتھ اسکور کو 206 رنز تک پہنچا دیا۔

اس دوران سال 2015ء میں سب سے زیادہ ون ڈے رنز بنانے والے بیٹسمین مارٹن گپٹل نے ایک روزہ میں اپنی دسویں سنچری مکمل کی۔ تین چھکوں اور 9 چوکوں کی مدد سے 109 گیندوں پر 102 رنز بنانے کے بعد گپٹل نووان کولاسیکرا کے ہاتھوں آؤٹ ہوئے۔ پوری سیریز میں گپٹل چھائے رہے، انہوں نے ابتدائی چار میچز میں 79، 93 ناٹ آؤٹ، 30 اور 27 رنز بنائے تھے اور بالآخر سنچری کے ذریعے سیریز کا فاتحانہ اختتام کیا۔

نیوزی لینڈ کی اننگز کے آخری 10 اوورز کے آغاز سے قبل بیری نکلس بھی آؤٹ ہوگئے۔ یہاں لیوک رونکی آئے اور انہوں نے ٹیلر کے ساتھ مل کر 47 ویں اوور میں مجموعے کو 262 تک پہنچا دیا۔ یہاں ٹیلر کی 61 رنز کی اننگز اپنے اختتام کو پہنچی جبکہ رونکی اور مچل سینٹنر نے آخری تین اوورز میں 294 کا مجموعہ جا لیا۔ رونکی 31 گیندوں پر 37 جبکہ سینٹنر دو چھکوں کی مدد سے 11 گیندوں پر 21 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے۔

اگر تیسرے ایک روزہ میں سری لنکا کے بلے بازوں کی جارحانہ بیٹنگ دیکھی جائے تو امید تھی کہ ایک مرتبہ پھر وہ پوری طاقت لگا دیں گے۔ لیکن ابتدائی بلے باز ناکام ہوئے اور یوں کمزور بنیاد پڑنے کی وجہ سے سری لنکا ہدف تک نہ جا سکا۔ صرف 33 رنز پر سری لنکا کے تین کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ باقی ماندہ کھلاڑیوں نے کوشش تو بہت کی لیکن کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ ان بلے بازوں میں دنیش چندیمال اور کپتان اینجلو میتھیوز نمایاں تھے۔ دونوں نے چوتھی وکٹ پر93 رنز جوڑے اور مجموعے کو 126 تک پہنچایا جہاں ٹرینٹ بولٹ نے چندیمال کو آؤٹ کرکے سری لنکا کو بڑا نقصان پہنچایا۔ انہوں نے 65 گیندوں پر 50 رنز بنائے۔ تھیسارا پیریرا ایک مرتبہ پھر ناکام دکھائی دیے اور صرف 15 رنز ہی بنا سکے۔ سری لنکا کی آدھی ٹیم محض 161 رنز پر بھی میدان بدر تھی۔

اس وقت تو ایسا لگ رہا تھا کہ سری لنکا کو بری طرح شکست ہوگی مگر کپتان نے ہمت دکھائی اور ہر آنے والے بلے باز کے ساتھ ساتھ چھوٹی چھوٹی شراکت داریاں جمائیں یہاں تک کہ 7 وکٹوں پر اسکور 252 رنز تک پہنچ گیا۔ جبکہ تقریباً پانچ اوورز کا کھیل ابھی باقی تھا۔ مقابلہ دلچسپ موڑ لے چکا تھا۔ یہاں میٹ ہنری نے میتھیوز کو ایک باؤنس پھینکا، جو مکمل طور پر ان کے بلّے پر نہیں آیا اور گیند بالائی کنارہ لیتی ہوئی بالکل باؤنڈری لائن پر ہنری نکلس کے ایک شاندار کیچ کی صورت اختیار کرگئی۔ اب نیوزی لینڈ کو کامیابی سے کون روک سکتا تھا؟ 258 رنز تک پہنچتے پہنچتے سری لنکا کے تمام بلے باز آؤٹ ہوگئے۔ میتھیوز 116 گیندوں پر 6 چوکوں کی مدد سے 95 رنز بنا کر سب سے نمایاں لیکن انتہائی مایوس رہے۔

سیریز کے ابتدائی دونوں میچز میں چار، چار وکٹیں لے کر کامیابی میں مرکزی کردار ادا کرنے والے میٹ ہنری نے فیصلہ کن مقابلے میں پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا۔ ٹرینٹ بولٹ نے تین وکٹیں لے کر ہنری کا بھرپور ساتھ دیا۔

اب سری لنکا اور نیوزی لینڈ دو ٹی ٹوئنٹی میچز بھی کھیلیں گے۔ اس سلسلے کا پہلا میچ 7 جنوری کو کھیلا جائے گا۔ ٹیسٹ اور ایک روزہ میں شکست کے بعد اب ٹی ٹوئنٹی عالمی چیمپئن سری لنکا کو لازمی یہاں کامیابی حاصل کرنا ہوگی ورنہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے اس کی تیاریوں کو سخت دھچکا پہنچے گا۔

Facebook Comments