بنگلہ دیش نیا پاکستان بننے لگا، آسٹریلیا کا کھیلنے سے پھر انکار

چند ماہ قبل آسٹریلیا نے اپنی حفاظت کے حوالے سے خدشات کی بنیاد پر پہلے خواتین اور پھر مردوں کی ٹیم بنگلہ دیش بھیجنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کے باوجود بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے انڈر 19 عالمی کپ کے لیے بنگلہ دیش پر اعتماد جاری رکھا اور بالآخر نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آسٹریلیا نے رواں ماہ شروع ہونے والے عالمی کپ میں کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔ یوں تین مرتبہ کا عالمی چیمپئن آسٹریلیا 27 جنوری سے 14 فروری تک بنگلہ دیش میں ہونے والے ایونٹ میں شرکت نہیں کرے گا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ تمام معاملات درست سمت میں جاتے دکھائی دے رہے تھے اور دنیا بھر کی ٹیموں نے شمولیت کے لیے ہری جھنڈی دکھا دی تھی لیکن اچانک آسٹریلیا کا بیان سامنے آ گیا کہ بنگلہ دیش کے حوالے سے ان کے خدشات تاحال موجود ہیں لہٰذا وہ انڈر 19 عالمی کپ کے لیے اپنی ٹیم نہیں بھیجے گا۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرنے کے بعد آئرلینڈ کو دعوت دی ہے کہ وہ اس اہم ایونٹ کے لیے اپنے ٹیم بھیجے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو جیمز سدر لینڈ کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے لیے ایونٹ میں شرکت سے زیادہ اہم کھلاڑیوں اور ٹیم انتظامیہ کی حفاظت ہے۔ سدرلینڈ کا سدرلیںڈ کا کہنا تھا کہ ٹیم کو نہ بھیجنے کا فیصلہ ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں جب ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی ٹیم بنگلہ دیش نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو اُس وقت سے وہ ڈھاکہ میں موجود سیکورٹی ذمہ دار سین کیرل سے مکمل رابطے میں ہیں اور یہ فیصلہ کیرل کی جانب سے دی گئی رپورٹ کی روشنی میں ہی کیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ علم ہوا ہے کہ بنگلہ دیش میں آسٹریلین ٹیم کو شدید خطرات لاحق ہیں، اِنہی خطرات کی روشنی میں ہم نے یہ مشکل ترین فیصلہ کیا ہے۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اب بھی منتظر ہے کہ آسٹریلیا اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے کیونکہ اب بھی ایونٹ میں شرکت کا موقع اُس کو میسر ہے۔ آئی سی سی چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے کہا کہ ایونٹ میں تمام ٹیموں کے کھلاڑیوں کی حفاظت کے لیے سخت انتظامات کیے گئے ہیں، آئی سی سی نے ان تمام انتظامات کا بغور جائزہ لیا ہے اور اس حوالے سے بنگلہ دیش کی مقامی سیکورٹی ایجنسیوں کے سیکورٹی پلان سے مطمئن ہونے کے بعد ہی ایونٹ کے بنگلہ دیش میں انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔

آسٹریلیا اپنے کھلاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے ہمیشہ سے انتہائی حساس رہا ہے۔ 1996ء میں تامل بغاوت کے زمانے میں عالمی کپ کے مقابلے سری لنکا میں کھیلنے سے انکار اور نائن الیون کے بعد پاکستان میں سیریز نہ کھیلنے کے فیصلے سے لے کر بنگلہ دیش کے دورے سے مکر جانے تک، وہ ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔

آسٹریلیا 1988ء میں پہلے انڈر 19 عالمی کپ کا چیمپئن رہا ہے اور اس کے بعد 2002ء اور 2010ء میں بھی یہ اعزاز حاصل کر چکا ہے۔ موجودہ چیمپئن جنوبی افریقہ نے 2014ء میں متحدہ عرب امارات میں پاکستان کو شکست دینے کے بعد پہلی بار انڈر 19 عالمی کپ جیتا تھا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ ایسے معاملات میں آسٹریلیا کی طرح حساس انگلستان نے اب تک کوئی اعتراض نہيں اٹھایا۔ وہ نہ صرف انڈر 19 عالمی کپ میں شرکت کرے گا بلکہ رواں سال اکتوبر و نومبر میں دو ٹیسٹ اور تین ایک روزہ مقابلوں کی سیریز کو بھی اب تک کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔

Mitchell-Marsh

Facebook Comments