[سالنامہ 2015ء] عجیب و غریب واقعات – پہلی قسط

کرکٹ بطور کھیل ایک طرف پُر لطف اور دلچسپ ہے تو وہیں بعض اوقات ایسے واقعات بھی پیش آ جاتے ہیں جو شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں اور عرصے تک یاد رہتے ہیں۔ 2015ء بھی ان واقعات سے خالی نہیں رہا۔ ہم نے گزشتہ سال ہونے والے 10 ایسے عجیب واقعات کو اکٹھا کیا ہے جو کو دیکھ کر شائقین ہکا بکا رہ گئے

بین اسٹوکس – فیلڈنگ میں رخنہ

Ben-Stokes
کرکٹ کی تاریخ میں بلے باز محض چھٹی بار اس طرح آؤٹ ہوا، یعنی فیلڈنگ میں رخنہ ڈالنے کا "الزام" ثابت ہونے پر۔ 'آبسٹرکٹنگ دی فیلڈ' سے مراد ہے بلے باز فیلڈنگ میں راہ میں رکاوٹ بنے اور امپائروں کو محسوس ہو کر کہ اس نے جان بوجھ کر فیلڈنگ میں رخنہ ڈالا ہے۔ ایسا بہت کم ہوتا ہے اور انہی میں سے ایک واقعہ ستمبر 2015ء میں لارڈز کے تاریخی میدان پر اس وقت پیش آیا جب آسٹریلیا کی جانب سے 310 رنز کے دیے گئے ہدف کے تعاقب میں انگلستان تین وکٹوں پر 141 رنز تک پہنچ چکا تھا۔ اس موقع پر مچل اسٹارک کی جانب سے پھینکی گئی تھرو سے خود کو بچانے کے لیے اسٹوکس نے گیند کو ہاتھ سے روک لیا جبکہ وہ اس وقت خود کریز سے باہر بھی تھے۔ اس حرکت پر آسٹریلیا کے کپتان اسٹیو اسمتھ نے امپائر سے رجوع کیا اور اپیل کی کہ بلے باز کو آؤٹ قرار دیا جائے۔ امپائر نے تیسرے امپائر سے رابطہ کیا اور درجنوں بار ری پلے دیکھنے کے بعد بالآخر فیصلہ صادر ہوا کہ گیند کو روکنے کی وجہ سے اسٹوکس آؤٹ ہیں۔ اس پر بعد میں کافی ہنگامہ کھڑا ہوا لیکن تصویری و وڈیو ثبوت یہی ظاہر کرتے ہیں کہ امپائروں کا فیصلہ بالکل درست تھا۔

کیرون پولارڈ – منہ پر ٹیپ

Keiron-Pollard

انڈین پریمیئر لیگ میں ممبئی انڈینز کی جانب سے دیے گئے 210 رنز کے ہدف کے تعاقب میں رائل چیلنجرز بنگلور بلے بازی کر رہا تھا۔ خطرناک ویسٹ انڈین بلے باز کرس گیل حملہ آور ہونے کے لیے تیار تھے اور ان کے ہم وطن کیرون پولارڈ فیلڈنگ پر موجود تھے۔ گیل کو روکنا ممبئی کے لیے بہت ضروری تھا اور انہوں نے اس کے لیے دیگر ہتھکنڈے بھی آزمانے شروع کیے۔ کیرون پولارڈ نے طے کرلیا کہ وہ کرس گیل کو تنگ کرتے رہیں گے۔ اس مقصد کے لیے وہ بار بار گیل کے قریب آتے اور کچھ نہ کچھ کہہ جاتے۔ کچھ دیر تو امپائر ان کی یہ حرکت برداشت کرتے رہے، پھر مداخلت کی اور پولارڈ کو کہا کہ اب دوبارہ کوئی بھی لفظ ان کے منہ سے نہیں نکلنا چاہیے۔ پولارڈ اس فیصلے سے خوش نہ دکھائی دیے اور احتجاجاً منہ پر ٹیپ چپکا لیا اور باقی مقابلہ اسی طرح کھیلا۔

یووراج سنگھ – عجیب و غریب رن آؤٹ

Yuvraj-Singh

انڈین پریمیئر لیگ 2015ء میں یووراج سنگھ مہنگے ترین کھلاڑیوں میں سے ایک تھے۔ ان کو دہلی ڈیئر ڈیولز نے لگ بھگ 33 لاکھ ڈالرز میں خریدا تھا۔ لیکن جتنے مہنگے وہ کھلاڑی تھے کارکردگی اتنی ہی خراب دکھائی۔ اس کارکردگی کی وجہ سے وہ پورے ٹورنامنٹ میں پریشان پریشان دکھائی دیے۔ شاید اسی پریشانی میں وہ کلکتہ نائٹ نائٹ رائیڈرز کے خلاف مقابلے میں اتنے عجیب و غریب انداز میں آؤٹ ہوئے کہ ابھی تک آئی پی ایل کے پرستار پریشان ہیں کہ آخر ہوا کیا تھا؟ ہوا یہ کہ پندرہویں اوور کی آخری گیند پر 'یووی' پیوش چاؤلہ کو بڑا شاٹ کھیلنے کے لیے باہر نکلے لیکن گیند لیگ سائیڈ کی جانب تھی اور وکٹ کیپر رابن اُتھپّا کے پاس چلی گئی۔ کیونکہ رابن مستقل وکٹ کیپر نہیں ہیں اس لیے یقینی وکٹ کو دیکھتے ہی ان کے ہاتھ پیر پھول گئے اور گیند ان کی گرفت سے نکل گئی۔ یووراج کے پاس پورا وقت تھا کہ وہ کریز میں دوبارہ لوٹ آتے لیکن وہ نجانے کن خیالات میں گم تھے۔ پورا وقت ہونے کے باوجود کریز میں واپس نہیں آئے اور اتھپا نے انہیں اسٹمپڈ کردیا۔

ایڈ جوائس – سال کا خوش قسمت ترین بلے باز

Ed-Joyce

عالمی کپ 2015ء میں آئرلینڈ اور متحدہ عرب امارات کا مقابلہ جاری تھا۔ انگلستان کی جانب سے کیریئر کا آغاز کرنے کے بعد اب آئرلینڈ کی نمائندگي کرنے والے ایڈ جوائس کھیل رہے تھے۔ 279 رنز کا ہدف درپیش تھا جس کے تعاقب کے دوران امارات کے امجد جاوید نے ایک شاندار گیند پھینکی جو ایڈ جوائس کو چکما دے کر وکٹ کو چھو گئی۔ گیند کو وکٹ سے ٹکرانا تھا کہ امجد جاوید اور دیگر ساتھی کھلاڑیوں نے جشن منانا شروع کردیا کیونکہ جدید وکٹیں گیند کے چوتھے ہی روشن ہو جاتی ہیں لیکن پھر اچانک سب خاموش ہوگئے۔ وجہ یہ کہ بیلز اپنی جگہ اب بھی موجود تھیں۔ گیند وکٹ سے ٹکرائی بھی، بیلز ہوا میں اٹھیں بھی لیکن زمین پر گرنے کے بجائے واپس اپنی جگہ بیٹھ گئیں۔ ہم نے یہ منظر شاید پہلے کبھی دیکھا ہو لیکن ایسا کبھی نہیں دیکھا گيا کہ دونوں بیلز اٹھی ہو، آف اور لیگ اسٹمپ دونوں نے روشن ہو کر اشارہ دیا ہو کہ گیند وکٹ سے ٹکرائی ہے لیکن بیلز واپس اپنی جگہ آ گئی ہوں اور یوں بلے باز بچ جائے۔ بہرحال، قسمت جوائس اور آئرلینڈ کے ساتھ تھی اور اس نے بعد ازاں ہدف بھی حاصل کرلیا۔

Posted by CricNama on Wednesday, February 25, 2015

مالشیا میدان میں فیلڈر

Grant-Baldwin

آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایڈیلیڈ میں ہونے والا ٹیسٹ تاریخی حیثیت کا حامل تھا یہ پہلا ٹیسٹ تھا جسے مصنوعی روشنی میں کھیلا گیا۔ لیکن اس میں ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش آیا۔ مچل اسٹارک کے زخمی ہونے کے بعد آسٹریلیا نے دیگر کھلاڑیوں کے بجائے مساج یعنی مالش کرنے والے گرانٹ بالڈوِن کو میدان میں اتارا۔ یہ فیصلہ اس لیے کرنا پڑا کیونکہ جیمز پیٹن سن اور اسٹیو او کیف کو ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔ گوکہ اب بھی تین ایسے کھلاڑی موجود تھے جنہیں 28 سالہ بالڈون کی جگہ بھیجا جا سکتا تھا مگر چونکہ ان کے پاس فرسٹ کلاس تجربہ نہیں تھا اس لیے بالڈون کو اتارا گیا۔ بالڈون وکٹوریا کی سیکنڈ الیون کی جانب سے دو سال کھیل چکے ہیں اس لیے آسٹریلیا نے ان کو موقع دیا۔ یہ تجربہ اچھا ثابت نہیں ہوا کیونکہ بالڈون متعدد بار فیلڈنگ میں چوکے اور رواں تبصرہ کاروں کی جانب سے ان پر تنقید بھی کی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آسٹریلیا نے اگلے روز ان کی جگہ سام رافیل کو فیلڈنگ پر بھیجا۔

Facebook Comments