کیپ ٹاؤن میں زبردست معرکہ آرائی، مقابلہ نتیجہ خیز نہ ہو سکا

دنیا کے خوبصورت ترین کرکٹ میدانوں میں سے ایک نیولینڈز، کیپ ٹاؤن پر انگلستان اور جنوبی افریقہ کے دوسرے ٹیسٹ میں زبردست معرکہ آرائی دیکھنے کو ملی۔ پہلے دو دن مہمان انگلستان اور اگلے دو دن جنوبی افریقہ کی گرفت میں رہنے والا مقابلہ بالآخر یہ مقابلہ آخری سیشن کی کم روشنی کے ساتھ ہی بغیر کسی نتیجے تک پہنچے ختم ہوگیا۔

ٹیسٹ کے آخری روز انگلستان نے بغیر کسی وکٹ کے نقصان کے 16 رنز کے ساتھ اننگز کا آغاز کیا۔ انگلستان نے پہلی اننگز میں 629 جبکہ جنوبی افریقہ نے 627 رنز بنائے تھے، جو یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی ہیں کہ مقابلہ نتیجہ خیز ثابت ہونا مشکل تھا لیکن پھر بھی ایک اچھے مقابلے کی امید تھی جو کافی حد تک پوری بھی ہوئی۔ ایک ایسی وکٹ پر جہاں چار دن تک صرف 13 وکٹیں گریں اور 1272 رنز بنے، پانچویں روز صورت حال تبدیل دکھائی دی۔ بہرحال، یہ وکٹ کے تیور تھے یا کھلاڑیوں کی تھکاوٹ کہ دن کے پہلے تین اوورز میں کپتان ایلسٹر کک اور ایلکس ہیلز آؤٹ ہو گئے۔ کک 42 رنز بنانے کے بعد کاگیسو رباڈا کی وکٹ بنے جبکہ ہیلز نے مورنے مورکل کو وکٹ دی۔

نک کومپٹن اور جو روٹ کی سنبھلنے کی کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔ روٹ کو تو 17 رنز پر ایک نئی زندگی بھی ملی جب گیند ان کے بلے کا باہری کنارہ لیتی ہوئی دوسری سلپ کے فیلڈر کے ہاتھوں میں چلی گئی تھی۔ لیکن مورنے مورکل کا پیر کریز سے باہر تھا اس لیے نو-بال قرار دیی گئی اور یوں روٹ کو ایک نیا موقع ملا۔ لیکن کھانے کے وقفے سے قبل نہ صرف روٹ بلکہ نک کومپٹن بھی آؤٹ ہوگئے۔ 87 رنز پر چار وکٹیں گنوانے کے بعد انگلستان کو دوسرے سیشن کے لیے مضبوط حکمت عملی کی ضرورت تھی۔ یہاں پہلی اننگز کے ہیرو بین اسٹوکس کریز پر موجود تھے جنہوں نے 163 گیندوں پر ڈبل سنچری کے ذریعے پہلی اننگز میں جنوبی افریقہ کے باؤلرز کو دن میں تارے دکھا دیے تھے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ خطرہ بنتے، ڈین پیڈٹ نے انہیں 26 رنز پر آؤٹ کردیا۔ یوں صرف 115 رنز پر آدھی ٹیم آؤٹ ہو چکی تھی۔ انگلستان مشکلات سے نکلنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ ڈین نے اگلے ہی اوور میں جیمز ٹیلر کی اننگز کا بھی خاتمہ کردیا۔

بس یہی وہ موقع تھا جہاں جنوبی افریقہ کے گیندبازوں کو آخری دھکا لگانا تھا۔ اگر ایسا ہو جاتا تو عین ممکن تھا کہ باقی وکٹیں حاصل کرکے جنوبی افریقہ ایک آسان ہدف کے تعاقب میں آخری سیشن میں اترتا اور ایک ناباقل یقین کامیابی حاصل کرتا۔ لیکن جونی بیئرسٹو اور معین علی نے ان کوششوں کو ناکام بنایا اور چائے کے وقفے تک مزید کوئی وکٹ نہ گرنے دی۔ پھر جب چائے کے وقفے کے بعد اننگز دوبارہ شروع ہوئی تو کچھ ہی دیر میں گہرے بادلوں کی وجہ سے روشنی کافی کم ہوگئی۔ امپائروں نے مقابلے کو روک دیا اور بارہا معائنے کے باوجود حالات بہتر نہ ہوئے یہاں تک کہ میچ کے خاتمے کا اعلان کردیا گیا۔

ویسے ابتدائی چاروں دن یہ بہت زبردست مقابلہ رہا۔ پہلے انگلستان کے بین اسٹوکس نے 198 گیندوں پر 258 رنز کی ناقابل یقین اننگز کھیلی اور جونی بیئرسٹو کے ساتھ چھٹی وکٹ پر ریکارڈ 399 رنز بنائے۔ بیئرسٹو بھی ناٹ آؤٹ 150 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔ جنوبی افریقہ نے جواب میں کپتان ہاشم آملا کی ڈبل سنچری اور نوجوان تمبا باووما کی ناقابل فراموش سنچری کی بدولت بھرپور جواب دیا اور 629 رنز کے جواب میں 627 رنز بنائے۔ لیکن مقابلہ نتیجہ خیز نہ ہونا جنوبی افریقہ کے لیے اچھا نتیجہ نہیں ہے۔ کیونکہ دو میچز ہو جانے کے بعد بھی برتری انگلستان ہی کو حاصل ہے۔

دونوں ٹیمیں اب 14 جنوری سے جوہانسبرگ میں تیسرا ٹیسٹ کھیلیں گی۔ جہاں ہمیں ایک شاندار مقابلہ دیکھنے کی امید ہے۔ جنوبی افریقہ کی قیادت سے استعفے کے بعد اب ہاشم آملا کی جگہ اے بی ڈی ولیئرز قائد ہوں گے اور وینڈررز اسٹیڈیم میں ایسا مقابلہ دیکھنے کا مزا ہی اور ہوگا جہاں دونوں ٹیموں کے اہم بلے باز بھرپور فارم میں دکھائی دیں۔

Facebook Comments