شاہد آفریدی بمقابلہ میڈیا، کون حق پر اور کون غلط؟

اظہار رائے کی آزادی کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے بہت ضروری ہے، لیکن اس آزادی کے ساتھ فرائض بھی ہوتے ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں انگریزی میں کہ زیادہ اختیار کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان میں ہمیں حقوق اور آزادی کا شور تو بہت سننے کو ملتا ہے لیکن اپنے فرائض کی ادائیگی کو تیار افراد بہت کم نظر آتے ہیں، جن میں ریاست کا چوتھا ستون صحافت بھی شامل ہے۔ شاہد آفریدی اور ایک صحافی کے درمیان گزشتہ روز ہونے والی تلخ گفتگو بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔

پاکستان میں اکیسویں صدی کے اوائل میں جب نجی خبری چینل کھولنے کی اجازت دی گئی تو یہ قدم بہت سراہا گیا کیونکہ یہ ایک جمہوری پاکستان کے لیے بہت اہم قدم تھا لیکن بدقسمتی سے چند ہی سالوں میں نجی ذرائع ابلاغ 'طاقت کے کھیل' میں خود ایک فریق بن گئے اور آج بھی میڈیا خود کو 'کنگ میکر' سمجھتا ہے۔ سیاست کو تو چھوڑ ہی دیں کہ وہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے، لیکن 'کنگ میکنگ' کا شوق ایسا چڑھا ہے کہ کھیل میں بھی ذرائع ابلاغ سیاست کی طرح خبر دیتے ہیں۔ جب خواہشات خبر بننے لگیں تو مسائل پیدا ہوتے ہیں اور پاکستان جیسے ملک میں کہ جہاں مذہب پر بھی اتنا اتفاق نہیں پایا جاتا جتنا کہ کرکٹ پر پوری قوم یکجا ہوتی ہے، وہاں اس کھیل کی خبریں منظر عام پر لانے والے زیادہ تر وہ افراد ہیں جو کھیل کے بارے میں بنیادی معلومات نہیں رکھتے، اس کی تاریخ سے ان کی کوئی وابستگی نہیں ہے اور یہ عوام پر کس طرح اثر انداز ہوتا ہے یہ بھی نہیں جانتے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں کھیل کو جنگ سمجھا جاتا ہے اور جنگ کو کھیل۔

یہ بھی پڑھیں: انسان دوست شاہد آفریدی

کراچی میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے شاہد آفریدی سے سوال کیا کہ "کپتان کی حیثیت سے آپ کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟" بظاہر سوال بالکل بے ضرر ہے، لیکن شاہد آفریدی کا جواب عام لوگوں کے لیے بہت حیران کن تھا کہ "مجھے آپ سے ایسے ہی گھٹیا سوال کی توقع تھی"۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی صحافی کو سادہ سے سوال کا درشت جواب ملا ہے۔ گزشتہ سال عالمی کپ کے دوران ایک معروف صحافی کو سرفراز احمد کے بارے میں بات کرنے پر ہیڈ کوچ وقار یونس کی جانب سے "بے وقوفانہ سوال" کا طعنہ سننے کو ملے تھا۔ بہرحال، اب صحافیوں نے شاہد آفریدی کے لیے خلاف ایک محاذ کھول رکھا ہے اور "لالا" کے پرستار بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں آخر انہوں نے ایسا جواب کیوں دیا؟ اگر ہم ایک جملے میں پوری صورت حال بیان کریں تو یہ کچھ یوں ہے کہ "شاہد آفریدی کو اعتراض سوال پر نہیں، بلکہ سوال کرنے والے پر تھا"۔

یہ بھی پڑھیں:  ویسٹ انڈیز کی "گمشدہ الیون"

ایک معروف اخبار اور خبری چینل سے وابستہ ان صحافی نے دراصل چند روز قبل ایک خبر چلائی تھی کہ شاہد آفریدی اپنے جوتے ٹیم کے نو آموز کھلاڑیوں سے صاف کرواتے ہیں۔ اس خبر ہی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں کھیل سے وابستہ صحافیوں کی سطح کیا ہے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ ان بے سر و پا خبروں کی وجہ سے ملک کی کتنی بدنامی ہوتی ہے خاص طور پر جب بھارت کے اخبارات ان خبروں کو اٹھا کر اس میں اپنا 'ہندوستانی مسالہ' شامل کرتے ہیں تو خبر نجانے کہاں پہنچ جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی بہترین آل راؤنڈرز میں دوسرے نمبر پر

Shahid-Afridi2

بہت سارے لوگوں کو شاید یہ بات معلوم نہیں کہ حالیہ پریس کانفرنس سے وہ بے ضرر سا سوال اسی 'معصوم' صحافی نے کیا تھا، لیکن "لالا" کو یہ بات معلوم تھی۔ انہوں نے سامنا ہوتے ہی اپنی بیٹنگ کی طرح ارادہ کرلیا کہ اسی گیند پر چھکا لگانا ہے، پھر سوال چاہے کتنا ہی معقول کیوں نہ ہو، لالا نے اسے "گھٹیا" قرار دیا اور قصہ تمام کردیا۔ ایک ذمہ دار شخص اور کپتان کی حیثيت سے شاہد آفریدی کو ضبط کرنا چاہیے تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ اتنی ہی ذمہ داری ایک صحافی پر بھی عائد ہوتی ہے۔ صحافی ایسی جگہ کام کرتا ہے جہاں سنجیدگی و بردباری، تحمل و برداشت اور ذمہ داری کام کے اہم اصول اور عناصر ہوتے ہیں جبکہ شاہد آفریدی میدان کے کھلاڑی ہیں، جارحیت اور جوش و جذبہ ان کے مزاج کی ضرورت ہے اور یہی ان کی عملی زندگی میں بھی غالب نظر آتا ہے۔ اس لیے اگر وہ چوک جائیں تو بات سمجھ میں بھی آتی ہے، لیکن اگر صحافی غلطی کر جائے تو اس کی زیادہ پکڑ ہونی چاہیے۔

گو کہ ہمارا خود تعلق صحافت سے ہے لیکن جو بات دل میں ہے وہی کہیں گے کہ ہماری برادری کو اپنی زبان، قلم اور کی بورڈ کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہے کیونکہ یہ نکلا ہوا تیر ہے، دوبارہ واپس نہیں آئے گا۔ پھر ہم پاکستانیوں کے پاس لے دے کر کرکٹ کے علاوہ ہے کیا جو ہمیں بلا تفریق رنگ و نسل، قومیت و مذہب متحد رکھے؟ یہی وہ کھیل ہے جو گوادر سے کشمیر تک اور تھرپارکر سے گلگت تک کھیلا، دیکھا اور پسند کیا جاتا ہے۔ اگر اس طرح کی خبریں دے کر عوام کو اسی سے برگشتہ کردیا گیا تو یقین جانیں سب سے پہلے انہی صحافیوں کی نوکریاں جائیں گے، اس لیے "ذرا سنبھل کر!"۔

Facebook Comments