شاہد آفریدی تنازع؛ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سہ رکنی انضباطی کمیٹی تشکیل دے دی

'سابق' کپتان شاہد خان آفریدی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے اور پی سی بی نے معاملے کی باضابطہ انضباطی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

شاہد آفریدی 8 جون کو پی سی بی کی سہ رکنی انضباطی کمیٹی کے روبرو پیش ہوں گے

سابق کھلاڑیوں اور ماہرین کرکٹ کے علاوہ شائقین کی جانب سے شدید دباؤ کے باوجود بورڈ اس معاملے پر کوئی نرمی برتتا نہیں دکھائی دیتا اور اس نے سہ رکنی انضباطی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے جو 8 جون کو پی سی بی کے صدر دفتر واقع قذافی اسٹیڈیم، لاہور میں شاہد آفریدی کے معاملے کی سماعت کرے گی۔

شاہد آفریدی کو 8 جون کو پی سی بی کے صدر دفتر طلب کیا گیا تھا تاکہ وہ اس معاملے پر اپنا موقف پیش کریں اور تنازع کو حل کیا جا سکے۔

پی سی بی کے ڈائریکٹر برائے مقامی کرکٹ سلطان رانا کمیٹی کی قیادت کریں گے جبکہ دیگر اراکین میں جنرل مینیجر مقامی کرکٹ شفیق احمد اور مینیجر بین الاقوامی کرکٹ عثمان واہلا شامل ہیں۔ بورڈ کے قانونی مشیر تفضل رضوی کمیٹی کی مدد کریں گے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ، جس کی ایک نقل کرک نامہ کو موصول ہوئی، میں چیف ایگزیکٹو آفیسر سبحان احمد نے کہا ہے کہ ایک ایسے کرکٹر کے ساتھ تنازع میں ملوث ہونا ہمارے لیے بہت تکلیف دہ امر ہے جو دورۂ ویسٹ انڈیز تک ٹیم کا کپتان تھا۔ شاہد آفریدی کی پاکستان کرکٹ کے لیے بڑی خدمات ہیں لیکن میرے خیال میں لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ مکمل طور پر انضباطی مسئلہ ہے۔ ملک میں کرکٹ کے امور کو سنبھالنے والے ادارے کی حیثیت سے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نظم و ضبط کے تمام معاملات کو ہر سطح پر دیکھیں۔ ہم اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ شاہد آفریدی کو اپنے موقف کو پیش کرنے اور دفاع کا مکمل موقع دیا جائے۔

یکے بعد دیگرے تنازعات کے باعث شہرت رکھنے والی پاکستان کرکٹ کا یہ تازہ معاملہ اس وقت پیدا ہوا جب شاہد آفریدی دورۂ ویسٹ انڈیز سے واپس پہنچے اور آتے ہی انہوں نے کوچ اور ٹیم انتظامیہ کے خلاف بیان داغ دیا۔ جس پر بورڈ نے ان کے خلاف اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔ تاہم معاملہ اسی پر ختم نہیں ہوا، شاہد آفریدی نے چند روز بعد ذرائع ابلاغ کی موجودگی میں اپنی مشروط ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا اور الزام لگایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ "لاہور لابی" کے زیر اثر ہے جو کراچی کے کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی کرتا ہے۔ علاوہ ازیں ایک انٹرویو میں انہوں نے قومی سلیکشن کمیٹی کے ایک رکن محمد الیاس پر بھی اقرباء پروری کا الزام لگایا۔

اس صورتحال کے پیدا ہونے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے انتہائی قدم اٹھاتے ہوئے شاہد آفریدی کا مرکزی معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے انہیں ایک اور اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا۔ علاوہ ازیں کا این او سی بھی منسوخ کر دیا گیا جس کے باعث وہ کسی بھی سطح پر کرکٹ کھیلنے سے محروم ہو گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ انگلستان میں موجودگی کے باوجود ہمپشائر کاؤنٹی کی جانب سے کھیلنے محروم ہیں اور اگر معاملے کا فیصلہ شاہد آفریدی کے حق میں نہیں ہوتا تو شاید وہ سری لنکا کرکٹ لیگ میں بھی حصہ نہ لے پائیں۔

Facebook Comments