جیسن ہولڈر کو پی ایس ایل میں شرکت سے روک دیا گیا

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پہلے سیزن کے لیے پانچ ٹیموں میں سے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ’چھپا رستم‘ قرار دیا جارہا ہے کیونکہ اُس نے بہت بڑے نام تو نہیں لیے مگر ایسے کھلاڑی ضرور لیے ہیں جو کبھی بھی مقابلے کا پانسہ پلٹنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہی میں سے ایک ویسٹ انڈیز کے کپتان جیسن ہولڈر بھی تھے۔ مگر لیگ کے آغاز سے قبل ہی کوئٹہ کو پہلا جھٹکا یہ لگا ہے کہ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے ہولڈر کو اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکیٹو مائیکل موئرہیڈ کا کہنا ہے کہ ہولڈر اِس وقت کانٹریکٹ پر ہیں اور اُن کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں لیگ کھیلنے کے بجائے ملک میں ہونے والی کرکٹ پر توجہ رکھیں۔ اِس سخت اعلان کے بعد ہولڈر نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں کوئٹہ کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ بورڈ کی جانب سے اجازت نہ ملنے کے سبب وہ پی ایس ایل میں شرکت نہیں کرسکیں گے، اور ساتھ ساتھ اپنی نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا ہے۔

مائیکل موئرہیڈ کا مزید کہنا تھا کہ ہولڈر نے حالیہ دنوں میں ہی معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا پورا اختیار بورڈ کو ہے کہ وہ غیر ملکی لیگ کھیلیں یا نہیں کھیلیں، یا پھر وہ ڈومیسٹک کرکٹ پر توجہ دیں۔ بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہولڈر صرف ویسٹ انڈیز کے کپتان نہیں بلکہ ڈومیسٹک ٹیم بارباڈوس کی قیادت کی ذمہ داری بھی انہی پر ہے۔ اِس وقت ویسٹ انڈیز اہم ترین سپر 50 ٹورنامنٹ جاری ہے جس میں ہولڈر کی شرکت ضروری ہے۔ یہ لیگ بالکل اُنہی دنوں میں منعقد ہوگی جن دنوں پی ایس ایل کھیلی جائے گی، اِس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے کھلاڑی غیر ملکی لیگ پر توجہ دینے کے بجائے ملک کے اندر کھیلتے ہوئے کرکٹ کو فروغ دیں، اِس طرح نوجوان کھلاڑیوں کو بھی تاثر ملے گا کہ ملکی عزت و وقار سے بڑھ کر کچھ نہیں۔

یاد رہے کہ کچھ دن قبل بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھی تیز گیند باز مستفیض الرحمٰن کی پی ایس ایل میں شرکت کے حوالے سے غور و خوض شروع کیا ہے۔ اگر بی سی بی نے بھی کوئی سخت فیصلہ کرلیا تو یقیناً یہ پی ایس ایل کے لیے نیک شگون نہیں ہوگا۔

Facebook Comments