کرکٹ میں ”جدید شاٹس“ لانے والے بلے باز

ایک زمانے میں بڑے کھلاڑی کی تعریف یہ ہوتی تھی وہ زیادہ سے زیادہ دیر تک وکٹ پر ٹھیرنے کی صلاحیت رکھتا ہو لیکن دورِ حاضر کی کرکٹ دیکھ کر آپ بلاجھجک یہی کہیں گے کہ ٹی ٹوئنٹی نے کرکٹ کی تعریف ہی بدل کر رکھ دی ہے۔ اب اگر کوئی بلے باز زیادہ دیر تک کریز پر قیام کرتا ہے تو اسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ عوام کی بدلتی ہوئی خواہشات اور ان کی پسند و ناپسند کو مدنظر رکھنے کی وجہ سے کھیل کے طریقے میں وقتاً فوقتاً کئی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ صرف بلے باز ہی نہیں، بلکہ گیندباز بھی "دوسرا" اور "تیسرا" پھینک کر اس تبدیلی کا حصہ بنے۔

دور جدید میں غیر روایتی اور عجیب و غریب انداز میں شاٹس کھیلنے کا رحجان پیدا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ گیندباز اب ویسے نہیں رہے، بلکہ اس کی وجہ ہے نئے بلّوں کی موٹائی اور ساخت میں تبدیلی نے بلّے بازوں کو بالادست بنا دیا ہے۔ بہرحال، ایسے عجیب شاٹ کھیلنے میں مہارت تو درکار ہوتی ہے اور جنوبی افریقہ کے ابراہم ڈی ولیئرز جیسی صلاحیت تو ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتی جنہیں جدید کرکٹ میں 'مسٹر 360 ڈگری' کہا جاتا ہے۔ ڈی ولیئرز کے علاوہ آسٹریلیا کے گلین میکس ویل اور ڈیوڈ وارنر اور انگلستان کے ایون مورگن بھی انوکھے شاٹس کھیلنے کی مقبولیت رکھتے ہیں۔ لیکن وہ اس کارواں کے پہلے مسافر نہیں ہیں، کرکٹ میں ایسے کئی کھلاڑی گزرے ہیں جنہوں نے اپنے زمانے میں نت نئے شاٹس ایجاد کیے۔ آئیے چند کے بارے میں جانتے ہیں:

ریورس سویپ

Hanif-Mohammad

آج ہم بلے بازوں کو ہر دوسری گیند پر ریورس سویپ مارتے ہوئے دیکھتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ اس شاٹ کا آغاز کب ہوا اور کس نے کیا؟ اگر نہیں تو ہم آپ کو بتاتے ہیں۔ بین الاقوامی کرکٹ میں پہلی بار 'الٹی جھاڑو' 1970ء میں مشتاق محمد نے پھیری تھی۔ لیکن اس کی ایجاد کا سہرا مشتاق کے بڑے بھائی حنیف محمد کے سر تھا جنہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں یہ عجیب شاٹ ایجاد کیا۔

'اپر کٹ'

یہ ماضی کی باتیں ہیں جب گیندباز بیٹسمینوں پر حاوی دکھائی دیتے تھے اور ان کا سب سے خطرناک ہتھیار ہوتا تھا باؤنسر! یہ وہ گیند تھی جس کا بلے بازوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا، یا تو چھوڑ دیں یا چوٹ کھائیں۔ لیکن جیسے ہی طاقتور بلّے میدان میں آنے لگے بھارت کے عظیم بلے باز سچن تنڈولکر نے اس گیند کا جواب ڈھونڈ نکالا۔ پست قامت سچن کو جیسے ہی باؤنسر ملتا وہ اس کی راہ میں بلّا لا کر اسے وکٹ کیپر اور سلپ کے اوپر سے چوکے کے لیے پھینک دیتے۔ اس شاٹ کھیلنے میں خطرہ تو بہت ہوتا ہے کہ اگر گیند ٹھیک سے بلّے پر نہ آئے تو وکٹ یقینی طور پر جائے گی لیکن تنڈولکر عظیم بلے باز تھے، بہت کم غلطیاں کرتے تھے۔ تنڈولکر کے بعد وریندر سہواگ نے اس شاٹ کو عروج پر پہنچا دیا، وہ تو اس طرح چھکے تک کھیل جاتے تھے۔ آج یہ شاٹ کرکٹ میں عام ہو چکا ہے۔

سوئچ ہٹ

Kevin-Pietersen

اگر بلے باز بائیں ہاتھ سے کھیل رہا ہو تو فیلڈنگ کرنے والی ٹیم کے کھلاڑی مختلف مقامات پر کھڑے ہوتے ہیں اور دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے کے لیے الگ انداز میں۔ لیکن اگر دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والا یکدم بائیں جانب سے بلے بازی شروع کردے تو یقیناً گیند باز ہی نہیں بلکہ پوری فیلڈنگ پریشان ہو سکتی ہے، کیونکہ گیند پھینکنے کے دوران تو فیلڈ تبدیل نہیں ہو سکتی۔ انگلستان کے کیون پیٹرسن کے ذہن میں یہی انوکھا خیال آیا۔ پہلے تو کسی کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ یہ ماجرا کیا ہے؟ لیکن جب ہوش آیا تب تک’سوئچ ہٹ‘ کے پی کے نام ہو چکا تھا۔ اب کئی کھلاڑی یہ شاٹ کھیلتے ہیں لیکن آسٹریلیا کے ڈیوڈ وارنر اور انگلستان کے ایون مورگن اس میں بھرپور مہارت رکھتے ہیں اور دوسرے ہاتھ سے بلے بازی کرکے بھی چھکے لگا لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سرفراز احمد کا متبادل کون؟ محمد رضوان یا عمر اکمل؟

اسکوپ

Tillakaratne-Dilshan

شاید اس وقت کرکٹ کا مشکل ترین شاٹ، اسکوپ ہے جسے زمبابوے کے ڈوگلس میریلیئر نے ایجاد کیا تھا۔ ان کو شہرت اس وقت ملی جب فروری 2001ء میں آسٹریلیا کے خلاف پرتھ میں کھیلے گئے ایک ون ڈے میں انہوں نے عظیم باؤلر گلین میک گرا کو اس وقت اسکوپ پر دو چوکے لگائے جب زمبابوے کو آخری اوور میں 14 رنز کی ضرورت تھی۔ زمبابوے صرف ایک رن سے ہارا لیکن ڈوگلس امر ہوگئے۔ لیکن اس شاٹ کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا سری لنکا کے تلکارتنے دلشان نے، جن سے موسوم ہو کر یہ 'دل اسکوپ' کہلایا۔ یہ کہیں زیادہ مشکل شاٹ تھا۔ اس میں وہ گیند کی راہ سے مکمل طور پر نظریں ہٹاتے ہوئے فل لینتھ یا یارکر گیند پر وکٹوں کے پیچھے چوکا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر انگلستان کے جوس بٹلر کا 'ریمپ' شاٹ اس وقت مقبولیت کی بلندیوں پر ہے۔ یہ شاٹ سننے میں جتنے آسان ہیں، حقیقت میں اتنے ہی مشکل ہیں کیونکہ ذرا سی غلطی مکمل رفتار سے آنے والی گیند کو مزید تیز کرکے نہ صرف وکٹ گرا سکتی ہے بلکہ بلے باز کو بری طرح زخمی بھی کر سکتی ہے۔

ہیلی کاپٹر

MS-Dhoni

ہر بلے باز کی کچھ خاص صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ اگر آپ کراچی میں کرکٹ کھیلتے ہیں تو آپ کی ٹیم میں بھی ایک 'لیگ کا لپاڑو' ضرور ہوگا۔ لیکن بھارت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی کی پٹاری میں ایک ایسا شاٹ ہے، جس کی نقل کرنا بھی دنیا کے بیشتر بلے بازوں کی بس کی بات نہیں۔ یہ شاٹ وہ کھیلتے ہیں مکمل طور پر اپنی کلائیوں کی طاقت سے۔

وہ لیگ سائیڈ کی جانب اندر آنے والی فل لینتھ گیند کو کریز میں رہتے ہوئے اس طرح بلّا گھوما کر کھیلتے ہیں دیکھنے والا ششدر رہ جاتا ہے۔ بلے کو پورے دائرے میں گھمانے کی وجہ سے ہی دنیا نے اسے 'ہیلی کاپٹر' شاٹ کہنا شروع کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ ماضی میں بھارت کے سچن تنڈولکر اور پاکستان کے عبد الرزاق کھیل چکے ہیں لیکن اس کا کوئی دستاویزی ثبوت کم از کم ہمارے پاس تو نہیں ہے۔ ویسے افغانستان کے وکٹ کیپر محمد شہزاد نے کئی بار یہ شاٹ کھیلا ہے لیکن بمشکل ہی کبھی ہدف یعنی 'چھکے' تک پہنچا پائے ہیں۔ دھونی البتہ ماہر ہیں اور یہ ان کا 'ٹریڈ مارک' شاٹ ہے۔

Facebook Comments