بدعنوانی کے مقدمے کی تحقیقات، یووراج اور ہربھجن سنگھ بھی رگڑے میں

بھارت میں مرکزی تحقیقاتی ادارے نے بدعنوانی کے ایک بڑے معاملے میں کرکٹ کھلاڑیوں اور فلمی شخصیات کی ایک فہرست تیار کی ہے، جن پر ایک ایسے ادارے سے تحائف لینے کا الزام ہے جو پانچ کروڑ سرمایہ کاروں کو 45 ہزار کروڑ روپے کا 'چونا' لگا چکا ہے۔ اس فہرست میں دو معروف کھلاڑی یووراج سنگھ اور ہربھجن سنگھ بھی شامل ہے، جنہیں ادارے کی جانب سے موہالی میں پلاٹ تحفتاً دیے گئے تھے۔ البتہ معاملہ صرف ان دو مشہور کھلاڑیوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس میں چند فلمی اداکاروں کے نام بھی شامل ہے۔ یہ معاملہ 'پونزی اسکیم' کہلاتا ہے اور ادارے کا نام پرل گروپ ہے۔

پرل گروپ کرکٹ میں دیگر مفادات بھی رکھتا ہے اور انڈین پریمیئر لیگ کی ایک اہم ٹیم میں اسپانسر بھی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی سپر فائٹ لیگ، کبڈی اور گولف لیگ میں بھی سرمایہ کاری رکھتی ہے جبکہ آسٹریلیا کے سابق تیز گیندباز بریٹ لی بھی اس کمپنی کے سفیر رہ چکے ہیں۔ لیکن اس وقت بھارت کے مرکزی تحقیقاتی ادارے 'سی بی آئی' ایک معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے جس میں پرل گروپ کے چیئرمین اور مینیجنگ ڈائریکٹر نرمل سنگھ اور تین دیگر افسران گرفتار ہو چکے ہیں اور امکان ہے کہ یووراج اور ہربھجن سنگھ کو ملنے والے پلاٹوں کو بھی قبضے میں لے کر کارروائی شروع کی جائے گی۔

اسکیم کے ذریعے عوام کو یہ کہہ کر بے وقوف بنایا گیا تھا کہ جو بھی یہ پلاٹ خریدے تو اس کو یقیناً دوگنی قیمت ملے گی۔ پھر ایک ہی پلاٹ کو بار بار بیچا بھی گيا جس کے نتیجے میں عوام کو سخت نقصان پہنچا کیونکہ یہ جھوٹ تھا۔

میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے پرل گروپ کے ذمہ داران کو 19 جنوری تک سی بی آئی کے حوالے کیا ہے تاکہ ملزمان سے تفتیش مکمل کرکے تمام حقائق کو منظر عام پر لائے جائیں۔

Facebook Comments