محمد عامر کی کارکردگی، وہی ہوا جس کا خدشہ تھا

دورۂ نیوزی لینڈ کا پہلا مرحلہ پاکستان کی بدترین شکست کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔ تین ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی یہ سیریز اس لیے بہت اہمیت کی حامل تھی کیونکہ اسے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کی تیاریوں کے سلسلے میں اہم قدم سمجھا جا رہا تھا۔ پاکستان نے پہلا مقابلہ جیت کر سیریز میں برتری بھی حاصل کی، توقعات کا ایک اُبال بھی آیا لیکن اگلے دونوں میچز میں بری طرح شکست کی وجہ سے فوراً بیٹھ بھی گیا۔ یہاں تک کہ آخری مقابلے میں 95 رنز کی ریکارڈ شکست کے بعد اب تنقید کا ایک طوفان ہے جو امنڈ آیا ہے، جس میں جتنی انگلیاں، اتنے کھلاڑیوں کی جانب اُن کا رخ۔ اس شکست کا ایک پہلو محمد عامر کی مایوس کن کارکردگی ہے۔ 3 مقابلے، 11 اوورز، 100 رنز دے کر صرف ایک وکٹ۔ "وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں۔"

دراصل یہ وہ حقیقت ہے جو اب کھل کر سامنے آئی ہے، اور ہمارے ہاں کرکٹ کے دیوانے شائقین تو ایک طرف خود اہم فیصلہ ساز طاقتوں کی 'سمجھ دانی' اتنی بڑی نہیں کہ اس میں کوئی 'حقیقت' سمائے۔ دنیا کی طرح کرکٹ بھی بہت تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ جب 2010ء میں محمد عامر بین الاقوامی کرکٹ سے 'بے آبرو ہوکر' نکالے گئے تھے تو انہی دنوں میں بھارت کے سچن تنڈولکر نے ایک روزہ تاریخ کی پہلی ڈبل سنچری بنائی تھی۔ اس وقت سمجھا جا رہا تھا کہ یہ وہ ریکارڈ ہے جو سچن کو امر کردے گا لیکن اگلے چند سالوں میں ہی کئی بلے بازوں نے یہ کارنامہ دہرا ڈالا، یہاں تک کہ روہیت شرما دو بار ڈبل سنچری بنا گئے اور یوں اس بڑے کارنامے کا سحر ہی ختم کردیا۔ اب ان حالات میں کسی سے چند ماہ قبل والی کارکردگی کی توقع نہیں کی جا سکتی، کجا یہ کہ اس سے پانچ سال پہلے والی کارکردگی کا تقاضا کیا جائے، یا ایسی فضول توقع رکھی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ دیدۂ بینا رکھنے والوں نے پہلے کہا کہ عامر کو توقعات کے منہ زور گھوڑے پر زبردستی سوار نہ کیا جائے، ورنہ سب سے زیادہ نقصان انہی کو پہنچے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  سرفراز احمد کا متبادل کون؟ محمد رضوان یا عمر اکمل؟
Mohammad Amir

آپ تصور کیجیے کہ آج شعیب اختر کو قومی ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے، تو کیا ہم ان سے 1999ء والی کارکردگی کی توقع رکھیں گے؟ ہرگز نہیں۔ اگر کسی طرح انہیں 'قومی دھارے' میں لایا بھی جاتا ہے تو ایک پورا عمل ہے جس سے انہیں گزرنا پڑے گا۔ انہیں پہلے جانچاجائے گا۔ لیکن محمد عامر کے معاملے میں بدقسمتی سے ان تمام معیارات اور پیمانوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

ضرورت اس امر کی تھی کہ محمد عامر کو پہلے مقامی اور لیگ کرکٹ میں کھیلنے دیا جاتا۔ جس طرح کا جرم ان سے سرزد ہوا ہے، اس کے بعد اتنی آسانی سے واپس قومی ٹیم میں نہ آنے دیا جاتا اور اسے غیر معمولی اور ناقابل یقین کارکردگی سے مشروط کیا جاتا تو نہ صرف یہ کہ پاکستان بلکہ عامر کے لیے بھی بہت اچھا ہوتا۔ لیکن اتنی تیزی سے دوڑنے پر مجبور کیا گیا کہ سوائے منہ کے بل گرنے کے کوئی اور صورت نہیں تھی۔

اب بھی وقت ہے کہ عامر جیسے غیر معمولی باصلاحیت باؤلر کو ڈھنگ سے استعمال کیا جائے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پاکستان کے کام آ سکیں۔ ہمیں امید ہے کہ عامر تمام خدشات کو غلط ثابت کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے خلاف ایک روزہ سیریز میں عمدہ کارکردگی دکھائیں گے۔ لیکن اگر، خاکم بدہن، وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو عاقبت نااندیش افراد کے عجلت میں لیے گئے فیصلوں کا شکار بننے والوں کی فہرست میں ایک نئے کھلاڑی کا اضافہ ہو جائے گا۔

Facebook Comments