خراب آغاز کے بعد جنوبی افریقہ کا سیریز میں شاندار اختتام

دس ٹیسٹ مقابلوں کے بعد بالآخر جنوبی افریقہ کو فتح نصیب ہو ہی گئی اور اس وہ بھی ایسی یادگار کہ انگلستان کو 280 رنز سے مات دے دی۔ اس شاندار کامیابی کے معمار تھے 20 سالہ کاگیسو رباڈی جن کی تباہ کن گیندبازی کے نتیجے میں ہاری گئی سیریز میں جنوبی افریقہ کو بالآخر کچھ اعتماد حاصل ہوا ہے۔ یقیناً یہ فتح جنوبی افریقہ کے لیے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوگی۔

ڈربن میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں 241 رنز اور جوہانسبرگ میں تیسرے ٹیسٹ میں 7 وکٹوں سے شکست کے بعد جنوبی افریقی ٹیم کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایک روزہ سیریز سے قبل حوصلوں کو بلند کرنے کے لیے بڑی فتح سمیٹے۔ بس اِسی مقصد کے حصول کو آسان بنایا کاگیسو رباڈا نے، جنہوں نے میچ میں 13 وکٹیں حاصل کیں۔ پہلی اننگز میں 112 رنز کے عوض 7 وکٹیں لیں تو دوسری میں محض 32 رنز کے عوض 6 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ اِس سے قبل جنوبی افریقی تاریخ میں صرف دو ہی گیند باز ایسے گزرے ہیں جنہوں نے کسی ٹیسٹ میں 13 وکٹیں حاصل کی ہوں۔ اُن کی کارکردگی کو دیکھ کر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ جنوبی افریقہ کو طویل عرصے کے لیے ایک اچھا گیند باز میسر آگیا ہے۔

بہرحال، مقابلے میں جب جنوبی افریقہ نے انگلستان کو 382 رنز کا ہدف دیا، تو انگلستان کے لیے شکست سے بچنے کے لیے یہی ایک راستہ تھا کہ وہ ڈرا کا رخ کرے۔ پھر جب محض دو اوورز کے بعد کائل ایبٹ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہوگئے تو انگلستان کی یہ کوشش کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی تھی کیونکہ جنوبی افریقہ کو تیز گیند بازی کا بوجھ اب رباڈا اور مورنے مورکل پر منتقل ہوچکا تھا۔ مورکل بھی اچھی فارم میں نہیں ہیں۔ اِس لیے سارا دارومدار رباڈا پر تھا۔ پھر اسپن میں بھی سوائے ڈین پیڈ کے کوئی خاص گیند باز موجود نہیں تھا۔ لیکن رباڈا نے بھاری ذمہ داری کو باحسن و خوبی انجام دیا۔ چوتھے دن صرف 18 رنز پر ابتدائی تین کھلاڑی پویلین پہنچ چکے تھے جن میں دو وکٹیں رباڈا کے حصے میں آئیں جبکہ ایک مورنے مورکل نے لی۔ لیکن پھر دن کے آخر تک جو روٹ اور جیمز ٹیلر نے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انگلستان کے لیے امید کی کرن برقرار رکھی۔

لیکن جب پانچویں اور آخری دن کا آغاز ہوا تو بقیہ تمام کھلاڑی ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور 7 کھلاڑی صرف 13.4 اوورز میں محض 49 رنز پر ڈھیر ہوگئے۔ اس تباہی کا آغاز تیسرے اوور سے ہی ہوگیا تھا، جب مورنے مورکل کی گیند پر جیمز ٹیلر وکٹ کیپر کوئٹن ڈی کوک کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔ پھر اگلے ہی اوور میں ڈین پیڈ کی گیند پر جو روٹ کا کیچ ڈین ایلگر نے سلپ میں پکڑا۔ رباڈا پوری کوشش میں تھے کہ وہ میچ میں 10 وکٹیں مکمل کریں۔ انہوں نے جونی بئیرسٹو کو آؤٹ کرکے یہ اعزاز ابھی حاصل ہی کیا تھا کہ امپائر کو گمان ہوا کہ شاید گیند باز کا پیر کریز سے باہر ہوگیا تھا۔ تیسرے امپائر سے رجوع کیا گیا تو شک یقین میں بدل گيا۔ یوں رباڈا، عارضی طور پر، اِس اعزاز سے محروم ہو گئے۔ لیکن انہوں نے زیادہ دیر نہیں لگائی بلکہ اگلی ہی گیند پر بیئرسٹو کو آؤٹ کردیا۔ 10 وکٹوں کا کارنامہ انجام دینے کے بعد انہوں نے کرس ووکس اور جیمز اینڈرسن کو لگاتار گیندوں پر آؤٹ کرکے جنوبی افریقہ کی فتح پر مہر ثبت کردی۔

رباڈا کے علاوہ تین وکٹیں مورنے مورکل کے حصے میں آئیں جبکہ ایک وکٹ ڈین پیڈ کو ملی۔

فیصلہ کن کارکردگی دکھانے کرنے پر رباڈا کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا، جبکہ سیریز میں انگلستان کو دو-ایک سے کامیابی دلانے والے بین اسٹوکس کو سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان اب پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی جس کا آغاز 3 فروری سے ہوگا۔

Facebook Comments