اظہر علی کے پاس آخری موقع؟

پاکستان کا دورۂ نیوزی لینڈ اب تک شکستوں سے عبارت ہے۔ تین ٹی ٹوئنٹی مقابلے دو-ایک سے ہارنے کے بعد ون ڈے میں بھی خسارے میں چل رہی ہے۔ اب اگر ایک روزہ سیریز میں 'کرو یا مرو' کی صورت حال کا سامنا ہے۔ اگر دونوں مقابلوں میں جان لڑائی اور بلند حوصلہ نیوزی لینڈ کو زیر کیا تو ٹھیک ورنہ ایک روزہ میں پاکستان کی سالہا سال کی بدترین کارکردگی کے باب میں ایک نیا اضافہ ہو جائے گا۔

عالمی کپ 2015ء کے بعد مصباح الحق کے الوداع کہتے ہی پاکستان کرکٹ بورڈ اظہر علی کی قیادت پر اعتماد کیا، حالانکہ وہ ایک روزہ دستے کے مستقل رکن بھی نہیں تھے۔ لیکن اس فیصلے پر پر غور کیا جائے تو شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ مصباح الحق کی ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اظہر علی ہی ان کی جگہ نئے ٹیسٹ کپتان بنیں، جو گزشتہ پانچ سالوں سے کم از کم ٹیسٹ دستے کے تو مستقل رکن ہیں۔

چند ناکام مہمات کے بعد اظہر علی اتنے دباؤ میں محسوس ہوتے ہیں کہ انہوں نے دورۂ نیوزی لینڈ سے قبل ہی بورڈ کو استعفا پیش کردیا اور وجہ اسپاٹ فکسنگ میں پابندی بھگتنے والے محمد عامر کی ٹیم میں واپسی تھا۔ بورڈ نے فی الحال تو سمجھا بجھا کر انہیں روک دیا ہے لیکن یہ گاڑی زیادہ آگے تک چلتی دکھائی نہیں دیتی۔

ماضی کے مقابلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ اب کپتانوں پر زیادہ بھروسہ کرنے لگا ہے۔ پہلے تو ہر سال، بلکہ چند مہینوں میں بھی، کپتان تبدیل ہو جاتا تھا لیکن مصباح الحق اور شاہد آفریدی پر طویل عرصے تک اعتماد کرکے بورڈ نے ایک نئی مثال قائم کی ہے اور شاید وہ اظہر علی کے حوالے سے بھی یہی رویہ اختیار کرے۔ لیکن اظہر کو بطور بلے باز سے زیادہ ضرورت بحیثیت کپتان اچھی کارکردگی کی ہوگی ورنہ عین ممکن ہے کہ بورڈ ان سے قیادت کا اعزاز چھین لے۔

اب تک اظہر علی کی قیادت میں پاکستان نے پانچ سیریز کھیلی ہیں جن میں صرف سری لنکا کے خلاف کامیابی ہی کچھ اہمیت کی حامل ہے ورنہ بنگلہ دیش تک سے تو پاکستان کو شکست ہوئی ہے، وہ بھی وائٹ واش کی صورت میں۔ پھر انگلستان کے ہاتھوں متحدہ عرب امارات میں بری طرح ہار بھی ابھی کسی کو نہیں بھولی کہ اب نیوزی لینڈ کے مقابلے میں شکست کا ایک اور 'تمغہ' تیار پڑا ہے۔

Azhar-Ali

اس میں اظہر علی کی کارکردگی کو دیکھا جائے تو زمبابوے کے خلاف سیریز سے لے کر اب تک مسلسل گر رہی ہے۔ ابتدائی 6 مقابلوں میں 75 کے اوسط اور 90 کے اسٹرائیک ریٹ سے شاندار کارکردگی دکھانے کے بعد آخری 11 اننگز میں اظہر نے صرف 30 کے اوسط سے رنز بنائے ہیں جن میں 50 سے زائد رنز کی صرف ایک اننگز شامل ہے۔ اسٹرائیک ریٹ بھی معمولی سا دکھائی دیتا ہے جو 77 ہے۔

ایک تو انفرادی کارکردگی میں کوئی کمال نظر نہیں آتا، پھر محمد عامر کا معاملہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ ٹیم کے دیگر اراکین کے معاملے میں کچھ مختلف رائے رکھتے ہیں، اس پر طرّہ پے در پے شکستیں ہیں۔ اس لیے نیوزی لینڈ کے دورے پر ناکامی اظہر علی کے قائدانہ عہد کو لب گور تک پہنچا دے گی۔

پھر ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی کارکردگی میں ہمیشہ گیندبازوں کا کردار نمایاں رہا ہے لیکن اظہر کی کپتانی میں تو وہ بھی متاثر کن کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ ان کے ماتحت گیندبازوں نے 39.88 کے بھاری اوسط سے وکٹیں لی ہیں، جو اہم کرکٹ ممالک میں کسی بھی ٹیم کا بدترین باؤلنگ اوسط ہے۔

عالمی کپ 2015ء میں اپنی جاندار گیندبازی سے متاثر کرنے والے وہاب ریاض گزشتہ 6 ایک روزہ مقابلوں سے صرف تین وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اس صورت حال میں محمد عامر کی واپسی خوش آئند امر تھی لیکن اظہر نے بجائے ان کا خیر مقدم کرنے کے، مخالفت کرکے، ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ وہ کامیاب تو نہ ہو سکے لیکن باہمی تعلقات میں کھنچاؤ ضرور پیدا ہوگیا ہے۔

اب اظہر علی اور بحیثیت مجموعی قومی ٹیم کو بھی نیوزی لینڈ میں ساکھ کا مسئلہ درپیش ہے۔ ان کے پاس دو مواقع موجود ہیں۔ بلے بازوں کے لیے سازگار وکٹوں، اور چھوٹے میدانوں، پر ضروری ہے کہ اظہر علی اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں اور اس طرح پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کریں۔ اگر وہ ناکام رہے تو عین ممکن ہے کہ بحیثیت کپتان ہی نہیں بلکہ کھلاڑی کی حیثیت سے بھی یہ ان کی آخری سیریز ہو۔

Facebook Comments