پی ایس ایل مشکلات کے باوجود اپنا مقام بنائے گی: نجم سیٹھی

گزشتہ چھ سالوں میں پاکستان کے کرکٹ میدانوں کی رونقیں بحال نہیں ہو سکیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی آمدنی کے ذرائع بہت محدود ہوگئے ہیں۔ ان حالات کی وجہ سے نوجوانوں کو بہتر مواقع میسر نہیں آ رہے ہیں اور ملک میں کرکٹ کا مستقبل بھی مخدوش نظر آ رہا ہے۔ اس پس منظر کو دیکھا جائے تو پاکستان سپر لیگ کا انعقاد بہت حوصلہ افزا اور دلیرانہ اقدام محسوس ہوتا ہے۔ پی ایس ایل کی گورننگ کونسل کے چیئرمین نجم سیٹھی نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان سپر لیگ تمام تر مشکلات کے باوجود اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

پاکستان کی تاریخ کی پہلی لیگ کا انعقاد عین اس وقت ہو رہا ہے جب دنیائے کرکٹ کے عظیم سابق کھلاڑیوں پر مشتمل ماسٹرز کرکٹ لیگ تقریباً انہی ایام میں اور انہی میدانوں پر کھیلی جائے گی۔ اس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں کہ آیا پی ایس ایل توقعات پر پورا بھی اتر پائے گی یا نہیں۔ لیکن نجم سیٹھی یقین دلا رہے ہیں کہ پی ایس ایل ایک کامیاب ایونٹ ہوگا اور پہلے ہی سال ایک منفرد برانڈ کے طور پر سامنے آئے گا۔

معروف پاکستانی اخبار 'ایکسپریس ٹربیون' سے گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ لیگ ایم سی ایل، ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے درمیان گھری ہوئی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اہم ایونٹ کے طور پر ابھرے گی۔ پاکستانی اور بیرون ملک مقیم شائقین کرکٹ کا جوش و جذبہ اسے عروج پر لےجائے گا۔ یہ جہاں پاکستان کرکٹ کو مشکلات سے نکالنے میں معاون ثابت ہوگی وہیں نوجوانوں کو عالمی کھلاڑیوں کے خلاف اور ان کے ساتھ کھیلنے کا موقع بھی دے گی۔ اس سے نوجوانوں کو بہت اعتماد حاصل ہوگا۔

اس کے باوجود نجم سیٹھی نے تسلیم کیا کہ پہلے سیزن کا اجرا بہت مثالی نہیں تھا اور کئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کا کہنا تھا کہ حتمی لیگ جو عوام کے سامنے آئے گي وہ بہترین ہوگی۔ "میں تمام شائقین اور ناقدین سے درخواست کروں گا کہ چھوٹی موٹی غلطیوں کو نظر انداز کریں کیونکہ ہم سب اس مرحلے سے سیکھیں گے، اور اس کے لیے وقت کی ضرورت ہوگی۔"

پاکستان سپر لیگ کا انعقاد 4 فروری سے دبئی اور شارجہ کے میدانوں پر ہو رہا ہے جو 23 فروری تک جاری رہے گی۔ پہلے سیزن میں پانچ ٹیمیں حصہ لیں گی جن کا انتخاب مکمل ہو چکا ہے۔ اب انتظار صرف مقابلوں کے آغاز کا ہے۔

Facebook Comments