بھارت عالمی نمبر ایک بن گیا

منگل کا دن بھارت کے لیے خوشی و مسرت لے کر آیا۔ پہلے تو اس نے ایک روزہ کی شکست کے بعد پہلے ٹی ٹوئنٹی میں آسٹریلیا کو 37 رنز سے ہرا کر سیریز میں برتری حاصل کی اور پھر کچھ ہی دیر بعد بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے اعلان کیا کہ بھارت ٹیسٹ میں عالمی نمبر ایک بن چکا ہے۔ یہ دراصل جنوبی افریقہ و انگلستان کی سیریز کے خاتمے کے بعد تازہ دم ہونے والی درجہ بندی کا نتیجہ ہے، جس نے ساڑھے چار سال بعد بھارت کو دنیا کی بہترین نمبر ایک ٹیم بنا دیا ہے۔

جنوبی افریقہ چوتھے اور آخری ٹیسٹ میں انگلستان کو 280 رنز کی بھاری شکست دینے کے باوجود چار مقابلوں کی سیریز دو-ایک سے ہار گیا۔ یہی وجہ ہے کہ عرصے بعد وہ نمبر ایک پوزیشن سے محروم ہوکر اب تیسرے پر آ گیا ہے۔

بھارت آخری بار اگست 2011ء میں انگلستان کے ہاتھوں شکست کے بعد عالمی نمبر ایک مقام سے محروم ہوا تھا اور اس کے بعد اب جاکر کہیں بحال ہوا ہے۔

اب تازہ ترین درجہ بندی میں بھارت 110 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے۔ جنوبی افریقہ 109 پوائنٹس کے ساتھ تیسرے نمبر پر موجود ہے جبکہ درمیان میں 109 پوائنٹس کے ساتھ ہی آسٹریلیا موجود ہے جسے اعشاریہ کے حساب سے دوسری پوزیشن ملی ہے۔ یعنی سرفہرست تینوں ٹیموں کے درمیان زیادہ فرق نہیں ہے۔ آسٹریلیا کے پاس سب سے پہلاموقع ہوگا کہ وہ اگلے ماہ نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں کامیابی حاصل کرکے پہلا مقام حاصل کرلے۔ یہ سیریز 12 فروری سے نیوزی لینڈ کے میدانوں میں شروع ہوگی جس میں دو مقابلے کھیلے جائيں گے۔

ویسے چند ماہ قبل یہ تصور بھی مشکل تھا کہ جنوبی افریقہ نمبر ایک پوزیشن سے محروم ہو جائے گا لیکن دورۂ بھارت میں تین-صفر کی شکست نے اسے عرش سے فرش پر لا پھینکا ہے۔ جب انگلستان کے خلاف اس بدترین شکست کے ازالے کا وقت آیا تو بھی 'پروٹیز' نے موقع گنوا دیا اور چار مقابلوں کی سیریز دو-ایک سے ہار گئے۔ اگر وہ سیریز برابر بھی کرلیتے تو کوئی ان سے یہ مقام ہرگز نہیں چھین سکتا تھا۔

انگلستان کے ہاتھوں اس شکست سے جنوبی افریقہ کو دو بڑے دھچکے پہنچے۔ ایک تو درجہ بندی میں تنزلی اور دوسرا ہاشم آملا کا قیادت سے استعفیٰ۔ اب ابراہم ڈی ولیئرز بادل نخواستہ قیادت سنبھالےہوئے ہیں یعنی ایک روزہ کے بعد ٹیسٹ میں بھی قائدانہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں اور خدشہ ہے کہ اس دہرے بوجھ سے ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔

ایک تیسرا دھچکا ابھی پہنچنے والا ہے۔ وہ یہ کہ یکم اپریل کو جو بھی ٹیم پہلی پوزیشن پر ہوگی وہ بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سالانہ انعام یعنی دس لاکھ امریکی ڈالرز کی حقدار ہوگی اور بلاشبہ اس مرتبہ یہ جنوبی افریقہ نہیں ہوگا۔ یا تو موجودہ نمبر ایک بھارت یہ اعزاز حاصل کرنے گا یا اس انعقاد کا حقدار آسٹریلیا ہوگا۔

ٹیسٹ کی مکمل عالمی درجہ بندی دیکھنے کے لیے کرک نامہ کے اس خصوصی صفحے پر جائیں۔

Facebook Comments