اعتراضات کے باوجود 'اسپائیڈر کیم' ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا حصہ ہوگا

کرکٹ مقابلہ دیکھنے کا اصل مزہ تو اسٹیڈیم میں جا کر دیکھنے کا ہی ہے۔ لیکن جو میدان تک نہ پہنچ سکیں ان کے لیے واحد سہارا ٹیلی وژن نشریات ہے۔ لاکھوں بلکہ کروڑوں افراد کو لمحہ بہ لمحہ مقابلہ پہنچانے کے لیے کیمروں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی، انہیں جتنے اہم مقامات پر نصب کیا جائے گا، مقابلے کا مزا بھی اتنا ہی آئے گا کیونکہ کرکٹ شائقین ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا۔

ٹی ٹوئنٹی طرز کے آغاز سے کرکٹ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی بہت بڑھ گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اب گھر پر موجود افراد میدان میں بیٹھے شائقین سے زیادہ مقابلے سے محظوظ ہوتے ہیں۔ انہی نئی جدتوں میں سے ایک 'اسپائیڈر کیم' ہے۔ یہ فضائی کیمرہ آئندہ 'میگا ایونٹ' ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی استعمال ہوگا۔

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے چیف ایگزیکٹو ڈیو رچرڈسن نے کہا ہے کہ 8 مارچ سے 3 اپریل تک بھارت میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں 'اسپائیڈر کیم' کا استعمال ہوگا اور یہ کھلاڑیوں کے لیے پریشانی کا باعث نہیں بنے گا۔

چند روز قبل سڈنی میں ہونے والے بھارت-آسٹریلیا پانچویں ایک روزہ میں بھارتی کپتان ویراٹ کوہلی کا شاٹ اس کیمرے سے لگنے کے بعد باؤنڈری لائن پار کرگیا تھا۔ امپائر نے اسے ڈیڈ بال قرار دیا، جس کی وجہ سے بھارت کو چار رنز کا نقصان اٹھانا پڑا۔ بھارت کے کپتان مہندر سنگھ دھونی نے اس کیمرے کے استعمال پر تنقید کی اور کہا کہ جب بھی یہ کھیل میں پریشانی کا سبب بنے، متعلقہ نشریاتی ادارے پر 2 ہزار ڈالرز کا جرمانہ ہونا چاہیے۔

لیکن آئی سی سی کے سربراہ نے اس کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں یقینی بنایا جائے گا کہ اسپائیڈر کیم سے کھیل متاثر نہ ہو اور اس کے استعمال کے لیے باقاعدہ ہدایات دی جائیں گی۔ 56 سالہ رچرڈسن نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ٹی ٹوئنٹی جیسے تیز کھیل میں پچیں بھی تیز بنائی جائیں گی۔ "ہم سب کو تیز بیٹنگ کے ساتھ ساتھ تیز باؤلنگ کی بھی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ کھیل کے بہترین معیار کا لطف اٹھایا جا سکے۔"

Facebook Comments