ابھی گمنام لیکن پاکستان سپر لیگ کے ممکنہ ستارے

2008ء بھارتی کرکٹ کے لیے انقلابی سال ثابت ہوا۔ یہی وہ سال تھا جب بھارت نے 'انڈین پریمیئر لیگ' کے نام سے ایک ٹی ٹوئنٹی لیگ کا آغاز کیا۔ اس نے بھارت کو نئے کھلاڑیوں کی ایسی کھیپ فراہم کی، جس سے ٹیم کی کارکردگی میں ناقابل یقین تبدیلی آئی اور اس وقت سے لے کر آج تک بھارت ایک بڑی کرکٹ طاقت بنا ہوا ہے۔ عالمی کپ 2011ء کی فتح، اسی سال ٹیسٹ میں عالمی نمبر ایک مقام اور پھر 2013ء میں چیمپئنز ٹرافی۔ بھارت کی کامیابی محض ان 'میگا ایونٹس' تک محدود نہیں، بھارت نے گزشتہ سات سالوں میں جو جو کامیابیاں سمیٹی ہیں، ان میں انڈین پریمیئر لیگ کا بڑا حصہ ہے۔

اس عرصے میں پاکستان کے کرکٹ میدان امن و امان کی ناقص صورت حال کی وجہ سے ویران پڑ گئے۔ دہشت گردی کے واقعات کے باوجود پاکستان نے ہمت نہیں ہاری، حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور بھرپور کوششوں کے بعد بالآخر پاکستان سپر لیگ کے انعقاد کا اعلان کیا۔ یہ اہم لیگ بس چند روز بعد 4 فروری سے متحدہ عرب امارات کے میدانوں میں شروع ہوگی۔

اس لیگ کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو اس صورت میں پہنچ سکتا ہے کہ اسے باصلاحیت کھلاڑیوں کی ایک ایسی کھیپ میسر آ سکتی ہے، جو قومی کرکٹ ٹیم تک پہنچ کر ملک کا نام روشن کر سکتی ہے۔ پاکستان کے پانچ کھلاڑی ایسے ہیں، جن کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ خود کو سپر لیگ کے بڑے اسٹیج پر ثابت کر دکھائیں گے:

حسن علی (پشاور زلمی)

پشاور زلمی شائقین کرکٹ کی توجہ اپنی جانب مبذول کیسے مبذول کروائے؟ یہ بات اسے سوچنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ان کے پاس شاہد آفریدی ہیں۔ لیکن ہم اتنا ضرور کہیں گے کہ پشاور کے مقابلے میں حسن علی کی کارکردگی دیکھنا مت بھولیے گا۔ ہو سکتا ہے آپ نے ان کا نام نہ سنا ہے لیکن ڈومیسٹک میں تمام ہی طرز کی کرکٹ میں ان کی کارکردگی بہت زبردست ہے، خصوصاً ٹی ٹوئنٹی میں۔ دائیں ہاتھ سے گیند بازی کرنے والے حسن علی نے 11 مقابلوں میں 17 اعشاریہ 06 کی شاندار اوسط سے 15 وکٹیں لے رکھی ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں اُن کی سب اچھی گیند بازی 11 رنز پر چار وکٹوں کی ہے۔ پاکستان سپر لیگ کا پلیٹ فارم یقیناً حسن علی کو کہیں آگے لے جا سکتا ہے، بشرطیکہ کہ وہ ڈومیسٹک والی کارکردگی دہرائیں۔

کامران غلام (اسلام آباد یونائیٹڈ)

kamran-ghulam

اسلام آباد یونائیٹڈ کے پاس جہاں مصباح الحق کی صورت میں ایک سلجھا ہوا کپتان ہے، وہیں شین واٹسن اور آندرے رسل جیسے ٹی ٹوئنٹی کے دو خطرناک ترین کھلاڑی بھی موجود ہیں۔ ان تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کے پاس ایسے نوجوان کھلاڑی بھی ہیں جو کبھی کبھی کچھ بھی کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے ایک ہیں کامران غلام، وہ دائیں ہاتھ سے جارحانہ بلے بازی کا ہنر بھی جانتے ہیں اور بائیں ہاتھ سے اسپن گیندبازی کرکے مخالفین کو مشکل میں بھی ڈال سکتے ہیں۔ کامران غلام پاکستان انڈر 19 کا حصہ رہ چکے ہیں اور وہاں اچھی کارکردگی کی وجہ سے ڈومیسٹک میں نمایاں رہے ہیں۔ اب تک 11 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں انہوں نے 15 کے اوسط سے اتنی ہی وکٹیں حاصل کی ہیں۔ جن میں بہترین کارکردگی 11 رنز کے عوض چار وکٹیں ہے۔ یہی نہیں کامران نے ان 11 مقابلوں میں 168 اعشاریہ 57 کے زبردست اسٹرائیک ریٹ سے رنز بھی بنائے ہیں۔ ان کی ٹی ٹوئنٹی کارکردگی دیکھ کر لگ رہا ہے کہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے کامران کا انتخاب کرکے بہترین فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  "کلب" سطح کے بالرز، "ٹیسٹ" ٹیم میں!

اسامہ میر (کراچی کنگز)

Usama-Mir

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز ہے۔ اس لیے پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی کارکردگی پر سب سے زیادہ نظریں ہوں گی۔ اس کی قیادت شعیب ملک کر رہےہیں۔ ٹیم میں شعیب کے علاوہ بھی ٹیم میں بڑے بڑے نام شامل ہیں لیکن ایک ایسا کھلاڑی بھی ہے، جو اب تک بہت زیادہ نام کمانے میں کامیاب نہیں ہو سکا لیکن ڈومیسٹک میں کارکردگی بیان کر رہی ہے کہ وہ کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں 20 سالہ لیگ اسپنر اسامہ میر کی۔

یہ بات ٹھیک کہ جدید کرکٹ میں گیندبازوں سے زیادہ طاقت اور اختیار بلے بازوں کو مل گيا ہے۔ وکٹ بھی بلے بازوں کے مطلب کی ہوتی ہے اور تمام اصول و قواعد بھی انہی کی حمایت میں ہیں، لیکن اس کے باوجود لیگ اسپنرز کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ اسامہ نے ڈومیسٹک کرکٹ کے حالیہ سیزن میں 15 مقابلوں میں 19 اعشاریہ 80 کے اوسط اور 6 اعشاریہ 31 کے اکانمی ریٹ سے 15 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ ان کے بارے میں گہا جا رہا ہے کہ اگر مواقع ملے تو وہ پاکستان کرکٹ کا مستقبل ثابت ہوں گے۔

رمان رئیس (اسلام آباد یونائیٹڈ)

اگر پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ میں کسی گیندباز کو نمایاں مقام حاصل ہونا چاہیے تو وہ رمان رئیس ہیں۔ گو کہ وہ مسلسل اچھی کارکردگی کے باوجود قومی ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں لیکن 24 سالہ گیندباز اسلام آباد یونائیٹڈ کو متاثر کرنے میں ضرور کامیاب رہے۔

وسیم اکرم، وقار یونس اور شعیب اختر کے بعد پاکستان کو عرصے سے ایک ایسے گیندباز کی تلاش ہے جو مستقل 140 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گیندیں پھینک سکے اور رمان کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ شاید یہ تلاش جلد ختم ہو جائے گی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے رمان نے 36 ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں 23 کے اوسط سے 42 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔ ان کا اکانمی ریٹ 7 اعشاریہ 14 ہے جبکہ بہترین کارکردگی 26 رنز کے عوض 3 وکٹیں لینا ہے۔ پاکستان سپر لیگ رمان کے مستقبل کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ دیکھتے ہیں وہ کیسی کارکردگی پیش کرتے ہیں۔

نوید یاسین (لاہور قلندرز)

کرس گیل، ڈیوین براوو اور عمر اکمل کی موجودگی میں لاہور قلندرز بلاشبہ پی ایس ایل کے پہلے سیزن کا 'بیٹنگ پاور ہاؤس' ہوں گے۔ ان بڑے ناموں کے باوجود اگر لاہور کی بیٹنگ لائن میں کچھ کمی ہے تو عین ممکن ہے کہ اس کو نوید یاسین پورا کریں۔ بائیں ہاتھ سے بلے بازی کرنے والے 28 سالہ نوید مسلسل اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہےہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے ناموں کے درمیان ان کو بھی رکھا گیا ہے۔

نوید یاسین اب تک 45 ٹی ٹوئنٹی مقابلے کھیل چکے ہیں، جن میں وہ 31 اعشاریہ 85 اور 127 کے اسٹرائیک ریٹ سے 892 رنز بنا چکے ہیں۔ اپنی بلے بازی کے ذریعے فتوحات میں اہم کردار کرنے کے علاوہ ضرورت پڑنے پر وہ گیندبازی میں بھی کچھ کر دکھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تقریباً 22 کا باؤلنگ اوسط اور 17 رنز دے کر 4 وکٹوں کی بہترین کارکردگی ان کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ اگر اس کارکردگی کا سلسلہ سپر لیگ میں بھی جاری رہا تے یہ نوید کے قومی ٹیم تک پہنچنے کی راہ بھی ہموار کرے گا۔

Facebook Comments