بھارت نے آسٹریلیا کی بولتی بند کردی

آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز سے قبل یہ زبان زد عام تھا کہ بھارت ایک روزہ کی طرح مختصر ترین طرز کی کرکٹ میں بھی آسٹریلیا کے ہاتھوں بری طرح شکست کھائے گا لیکن اس کے بالکل برعکس ٹی ٹوئنٹی میں بھارت کے گیندباز خصوصاً اسپنرز خوب چلے۔ بلے باز تو ہیں ہی کمال اور ان دونوں کی کارکردگی کی بدولت ابتدائی دو مقابلوں میں ہی بھارت نے سیریز میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے۔

تین ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز کے دوسرے مقابلے میں ابتدا سے اختتام تک یہی گمان ہوتا رہا کہ یہ میچ ایڈیلیڈ کے پہلے مقابلے کا 'ری پلے' ہے جس میں بھارت نے 37 رنز سے حاصل کی تھی۔ یہاں بھی ٹاس آسٹریلیا نے جیتا اور بھارت کو بلے بازی کی دعوت دی۔ بھارتی بلے بازوں نے اس دعوت کا خوب فائدہ اٹھایا۔ روہیت شرما اور شیکھر دھاون نے پہلی وکٹ کے لیے 97 رنز کی شراکت داری قائم کی اور آنے والے بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا۔ جب بھارت کی پہلی وکٹ گری تو 200 کا سنگ میل یقینی دکھائی دیتا تھا مگر اننگز کے درمیانی ایک آدھ اوورز میں رنز رکنے کی وجہ سے معاملہ 188 تک محدود ہوگیا۔ بہرحال، بھارت کی جانب سے روہیت شرما دو چھکوں اور پانچ چوکوں کی مدد سے 60رنز بنا کر نمایاں رہے جبکہ شیکھر دھاون نے اتنے ہی چھکے اور تین چوکے لگا کر 42 رنز بنائے۔ پہلے مقابلے میں 90 رنز کی شاندار اننگز کھیلنے والے ویراٹ کوہلی یہاں بھی چھائے رہے۔ انہوں نے ایک چھکے اور سات چوکوں کی مدد سے 59 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی۔

بھارت کے ابتدائی بلے باز ہی کس شاندار فارم میں ہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کیونکہ طویل عرصے بعد واپس آنے والے یووراج سنگھ کو پانچویں نمبر پر ہونے کے باوجود اب تک بلے بازی کا موقع نہیں ملا۔

189 رنز کے تعاقب میں آسٹریلیا کا آغاز گزشتہ مقابلے کے برعکس اچھا تھا۔ آرون فنچ اور شان مارش نے 94 رنز کا آغاز فراہم کیا لیکن دسویں اوور میں آشون کے ہاتھوں مارش کی اننگز کا خاتمہ ہوا۔ بس پہلی وکٹ گرنے کی دیر تھی کہ 'تو چل میں آیا' شروع ہوگئی۔ اگلے دو اوورز میں ہردیک پانڈيا اور یووراج سنگھ نے بالترتیب کرس لین اور گلین میکس ویل کو آؤٹ کرکے آسٹریلوی کیمپ میں کھلبلی مچا دی۔

اس وقت آسٹریلیا کا مجموعہ 12 ویں اوور میں 101 رنز تھا۔ لیکن کپتان فنچ کی موجودگی اور تجربہ کار شین واٹسن کی آمد کے ساتھ آسٹریلیا کو امید ضرور تھی کہ وکٹ پر ٹک گئے تو فتح یقینی ہوگی۔ لیکن بھارت کے گیندبازوں نے یہی کام ہونے نہ دےیا۔ رویندر جدیجا نے صرف 15 رنز پر شین واٹسن کی اننگز کا خاتمہ کیا اور اگلے اوور میں آرون فنچ کی 74 رنز کی اننگز رن آؤٹ پر اختتام پذیر ہوئی۔ کپتان کی اننگز میں دو چھکے اور 8 چوکے شامل تھے۔ فنچ جس فارم میں دکھائی دے رہے ہیں اگر وہ رن آؤٹ نہ ہوتے تو یقیناً آسٹریلیا کامیاب ہو جاتا۔ بہرحال، وکٹ پر میتھیو ویڈ اور جیمز فاکنر موجود تھے۔ لیکن بھارت کے اسپنرز کے سامنے 6 اوورز میں 65 رنز نہیں بنا جا سکے۔ آسٹریلیا مقررہ اوورز میں 8 وکٹوں پر 157 رنز ہی بنا پایا۔

آسٹریلیا نے اہم مقابلے میں ڈیوڈ وارنر اور اسٹیو اسمتھ کو آرام دیا، اگر وہ ہوتے تو شاید کہ نتیجہ کچھ مختلف ہوتا۔ بہرحال، بھارت نے اس کامیابی کے ساتھ ہی ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل اعتماد بحال کرلیا ہے۔

میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز پہلے مقابلے کی طرح یہاں بھی ویراٹ کوہلی کو ہی ملا۔ اب دونوں ٹیمیں 31 جنوری کو سڈنی میں تیسرا و آخری ٹی ٹوئنٹی کھیلیں گی۔

Facebook Comments