بھارت کلین سویپ کرتا عالمی نمبر ایک بن گیا

یووراج سنگھ نے آخری اوور میں ایک شاندار چھکے اور چوکے کے ذریعے 'ایک تیر سے تین شکار' کھیل لیے، ایک تو بھارت کو سیریز میں کلین سویپ کامیابی بخشی، پھر اسے ٹی ٹوئنٹی کی عالمی درجہ بندی میں نمبر ایک تک پہنچایا اور ان سب سے بڑھ کر اپنا ڈوبتا ہوا بین الاقوامی کیریئر بھی بچا لیا۔ یوں آسٹریلیا کے شین واٹسن کی 124 رنز کی طوفانی اننگز مکمل طور پر رائیگاں گئی۔

سڈنی میں 198 رنز کے تعاقب میں بھارت سوائے ایک لمحے کے ہرگز نہ گھبرایا جب انیسویں اوور میں شین واٹسن نے صرف 5 رنز دیے۔ اس کے بعد بھارت کو آخری اوور میں 17 رنز کے مشکل ہدف کا سامنا تھا اور اس کے لیے تشویش کی بات یہ تھی کہ پہلی گیند کا سامنا یووراج سنگھ کر رہے تھے۔ عرصہ بعد قومی ٹیم میں واپس آنے والے 'یووی' اس وقت تک 9 گیندوں پر صرف پانچ رنز بنا پائے تھے۔ گزشتہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں 21 گیندوں پر 11 رنز والے مناظر ایک مرتبہ پھر ذہنوں میں گردش کرنے لگے تھے۔ اس سے پہلے کہ یووراج پر آسمان ٹوٹ پڑتا، اور وہ ہمیشہ کے لیے بین الاقوامی کرکٹ سے باہر ہو جاتے، انہوں نے آخری اوور کی پہلی گیند پر ایک شاندار چوکا اور دوسرا پر ایک زبردست چھکا لگا کر سب ناقدین کو خاموش کردیا۔ پہلی دو گیندوں پر دس رنز ملنے کے بعد بھارت نے آخری گیند پر سریش رینا کے چوکے کی بدولت سات وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ کامیابی میں اہم کردار رینا کا ہی تھا جنہوں نے اہم موقع پر 25 گیندوں پر 49 رنز بنائے۔ آسٹریلیا کی بدقسمتی یہ رہی کہ اس نے رینا کو صفر پر آؤٹ کرنے کا موقع میں ضائع کیا۔ ایک بڑے ہدف کے تعاقب میں بھارت کو دھواں دار آغاز میسر آیا۔ تیرہویں اوور میں جب روہیت شرما کی وکٹ گری تو بھارت 124 رنز پر کھڑا تھا۔ روہیت 38 گیندوں پر 52 رنز بنا کر سب سے نمایاں بیٹسمین رہے جبکہ ویراٹ کوہلی نے 36 گیندوں پر 50 رنز بنائے۔

آخری اوور پھینکنے والے اینڈریو ٹائی کے لیے یہ مقابلہ بہت مایوس کن رہا۔ آخری اوور میں 17 رنز کے دفاع میں ناکامی کے علاوہ انہوں نے 4 اوورز میں 51 رنز کھائے اور کوئی وکٹ حاصل نہیں کی۔ البتہ کیمرون بوائس اور شین واٹسن نے عمدہ باؤلنگ کی۔ بوائس نے صرف 28 رنز کے عوض دو جبکہ واٹسن نے 30 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔

قبل ازیں آسٹریلیا نے شین واٹسن کی قیادت میں ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ اور 9 اوورز میں 75 رنز پر تین وکٹیں گنوا بیٹھا۔ یہاں واٹسن نے ایک قائدانہ اننگز کھیلی۔ انہوں نے چوتھی وکٹ پر ٹریوس ہیڈ کے ساتھ مل کر 93 رنز کی شراکت داری قائم کی۔ وہ بھی صرف 8 اوورز میں۔ اس میں ہیڈ کا حصہ صرف 26 رنز کا تھا۔ واٹسن نے 6 چھکوں اور 10 چوکوں سے مزین 124 رنز کی اننگز کھیلی۔ آسٹریلیا آخری تین اوورز میں 29 رنز بنانے کے باوجود 200 کا ہندسہ عبور نہ کرسکا۔

سیریز میں تین-صفر کی شکست ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیے آسٹریلیا کی تیاریوں کو سخت دھچکا دے گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے۔ آسٹریلیا آج تک ایک مرتبہ بھی ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن نہیں بن سکا۔ 2010ء میں وہ فائنل تک رسائی کے باوجود انگلستان سے شکست کھا گیا تھا۔ بہرحال، مقابلے کے اختتام پر شین واٹسن کو میچ جبکہ ویراٹ کوہلی کو سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سکھ کا سانس جس کھلاڑی نے لیا ہوگا، وہ یووراج سنگھ تھے۔ وہ آخری اوور میں اپنے کیریئر کو موت کے جبڑے سے نکال لائے۔

Facebook Comments