جلد بازی میں فیصلے، محمد عامر کا مستقبل داؤ پر

پرانے زمانے میں جب بادشاہوں کو کسی مصاحب کی بڑھتی ہوئی طاقت سے معمولی سا خطرہ بھی ہوتا تھا تو اسے کسی ایک نئی اور خطرناک ترین مہم پر بھیج دیا جاتا تھا، جہاں جیتنے کے امکانات صفر ہوں تاکہ وہ وہیں مارا جائے اور بادشاہ کے تخت کو لاحق خطرے کا خاتمہ ہو جائے۔ محمد عامر کو واپس لانے میں جتنی جلدی دکھائی گئی، لگتا ہے مقصد کچھ ایسا ہی تھا۔ نہ ٹیم میں راہ ہموار کی گئی اور نہ ہی کھلاڑیوں کو اعتماد میں لیا گیا حالانکہ سینئر کھلاڑی محمد حفیظ اور ان کے بعد ایک روزہ کپتان اظہر علی تک عامر کی شمولیت کی علانیہ مخالفت پر اتر آئے۔

محمد عامر کو اہم ترین باؤلر کی حیثیت سے نیوزی لینڈ کے دورے پر بھیجا گیا تھا۔ چیف سلیکٹر ہارون رشید کے الفاظ میں وہ دیگر کئی گیندبازوں سے زیادہ باصلاحیت ہے۔ بلاشبہ یہ کہنے میں کوئی غلطی نہیں کی لیکن ایک ایسے کپتان کے ماتحت کھیلنے کے لیے بھیج دیا گيا، جو عامر کو پسند نہیں کرتا۔ اظہر علی بورڈ کے ہاتھوں مجبور تو ہوئے، انہوں نے اپنا استعفیٰ بھی واپس تو لے لیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کی، اور دیگر کھلاڑیوں کی، عدم یکسوئی اور عدم اتفاق کی وجہ سے پاکستان کو سیریز میں شکست ہوئی۔

جب مخالفتیں علانیہ ہوں تو معاملات بہت بگڑ سکتے ہیں۔ جیسا کہ اگر کسی نازک ترین موقع پر کپتان گیند محمد عامر کو تھما دے اور وہ صورت حال کو قابو میں نہ لاسکیں اور ناکام ہوجائیں تو ایک بڑا حلقہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ کپتان نے جان بوجھ کر عامر کو گیند تھمائی تاکہ ان کی ساکھ خراب ہو۔ اس پہلو پر کوئی نہیں سوچے گا کہ ساکھ خراب ہونے کا جتنا خدشہ تھا، اتنا ہی ہیرو بننے کا امکان بھی محمد عامر کو میسر تھا لیکن شکست لاوارث ہوتی ہے جناب! اسے کوئی قبول نہیں کرتا۔

اب ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سر پر کھڑا ہے۔ پاکستان شکستوں کے بڑے بوجھ کے ساتھ سال کے اہم ترین ٹورنامنٹ میں جائے گا۔ شاہد آفریدی اس ٹورنامنٹ کے ساتھ ہی بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہہ دیں گے اور ایک مرتبہ پھر نئے کپتان کے انتخاب کا معاملہ درپیش آئے گا۔ فی الوقت تو اس بارے میں بات کرنا مناسب نہیں دکھائی دیتا لیکن اگر کارکردگی، تجربے اور ذمہ داری کی بات کی جائے تو اب بھی شاہد آفریدی کے بعد قیادت کے واحد اہل محمد حفیظ ہیں۔ وہ ماضی میں بھی یہ ذمہ داری انجام دے چکے ہیں اور غالباً قومی تاریخ کے واحد کپتان رہے ہیں جنہوں نے شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے عہدہ چھوڑا تھا۔ اگر یہی محمد حفیظ کپتان بنتے ہیں تو "پاکستان کے باصلاحیت ترین باؤلر" کا مستقبل کیا ہوگا؟ ایک روزہ میں اظہر علی اور ٹی ٹوئنٹی میں محمد حفیظ کی قیادت میں کیا وہ کھل کر کھیل پائیں گے؟

یہ بھی پڑھیں:  کرس گیل آ گیا میدان میں، ہو جمالو!

یہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور انتظامیہ کی نااہلی ہے کہ انہوں نے محمد عامر کو بین الاقوامی کرکٹ میں لانے میں بہت جلد بازی دکھائی اور تمام کھلاڑیوں تو کو کجا اپنے اہم دستے کے کپتان کو بھی اعتماد میں نہیں لیا۔ جس کی وجہ سے مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہوئی۔ پہلے ہی یکے بعد دیگرے شکستوں کی وجہ سے ٹیم کے حالات ابتر ہیں، کھلاڑیوں میں باہم اتحاد و اتفاق کی کمی نے پاکستان کو دنیائے کرکٹ کی ایک منتشر اور بکھری ہوئی قوت بنا دیا ہے، جو ایک مرتبہ جیتتی اور 10 مرتبہ ہارتی ہے۔ اس صورت حال میں بورڈ کی اس 'بے وقوفی' نے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے اہم ٹورنامنٹ سے قبل نہ صرف دستے بلکہ محمد عامر پر بھی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔

امید ہے کہ محمد عامر نیوزی لینڈ کے دورے میں شکست کی وجہ سے کھل کر سامنے نہ آنے والی کارکردگی کو مزید آگے بڑھائیں گے۔ انہیں ملک کی نمائندگی کی جو کڑی ذمہ داری سونپی گئی ہے، اسے ثابت کرنے کے لیے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے بڑا کوئی میدان نہیں۔

Amir

Facebook Comments