مستفیض "زخمی"، سپر لیگ سے باہر ہوگئے

بنگلہ دیش کے ابھرتے ہوئے نوجوان باؤلر مستفیض الرحمٰن کندھے کی چوٹ کی وجہ سے پاکستان سپر لیگ میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ مستفیض زمبابوے کے خلاف سیریز کے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں انجری کا شکار ہوئے تھے۔

مستفیض کو 4 فروری سے شروع ہونے والی پاکستان سپر لیگ میں لاہور قلندرز کی نمائندگی کرنی تھی جو پہلے ہی اپنے اہم ترین باؤلر یاسر شاہ کی خدمات سے محروم ہو چکا ہے، جو ڈوپ ٹیسٹ کی ناکامی کے بعد معطل ہیں۔

لاہور نے 50 ہزار ڈالرز کے عوض مستفیض کو منتخب کیا تھا اور ان کے زخمی ہونے سے پہلے ہی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی 'نیت' خراب تھی جس نے سپر لیگ میں شرکت کے لیے این او سی جاری کرنے میں سرد مہری کا مظاہرہ کیا تھا۔ وہ مستفیض کے مصروف سیزن میں حد سے زیادہ استعمال ہونے کے 'خوف' میں مبتلا تھا اور پی ایس ایل میں شرکت کرنے کے لیے اجازت نامہ دینے میں ہچکچا رہا تھا۔ شاید انہی کی "دعائیں" رنگ لائی ہیں کہ مستفیض زخمی ہوگئے۔ اب بی سی بی کے چیئرمین جلال یونس نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ ایشیا کپ سے پہلے صحت یاب ہو جائیں گے اور ٹیم کا حصہ بنیں گے۔ یعنی یہ طے شدہ 20 سے 22 دنوں کی انجری ہوگی، جس کے بعد مستفیض دنیا کی امیر ترین کرکٹ لیگ آئی پی ایل میں نیلامی کے لیے بھی دستیاب ہوں گے۔

بنگلہ دیشی بورڈ عہدیداران کا کہنا تھا کہ مستفیض کو مکمل فٹ ہونے میں دو ہفتے لگیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور ایشیا کپ جیسے اہم ٹورنامنٹس میں شامل ہو سکیں۔ البتہ وضاحت کرتے ہوئے جلال یونس نے کہا کہ ڈومیسٹک ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلنے سے روکنا بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کی پالیسی میں شامل نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ "تمیم اقبال، شکیب الحسن اور مشفق الرحیم سب آج رات (دو فروری) کو پی ایس ایل میں شرکت کے لیے دوبئی روانہ ہو رہے ہیں۔"

دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ مستفیض زخمی ہونے کی وجہ سے پی ایس ایل نہیں کھیلیں گے اور دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستانی لیگ کھیلنے سے محرومی پر مستفیض کو ہونے والے مالی نقصان کے ازالے کے لیے اگلے بورڈ اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ جلال یونس کے مطابق "ہم یقیناً ان کی مالی معاونت کریں گے تاکہ نوجوان کھلاڑی کو ایک بڑے معاوضہ نہ ملنے کا خسارہ نہ اٹھانا پڑھے۔"

اب آپ خود ہی کڑیاں ملا لیجیے کہ وہ زخمی ہوئے ہیں، یا محض کاغذات پر زخمی ہیں۔

Mustafizur-Rehman

Facebook Comments