ٹیسٹ کرکٹ کی نسبت، ٹی ٹوئنٹی لیگز کامیاب کیوں؟

لیگ کرکٹ کی دنیا میں آج ایک تاریخی دن ہے۔ دنیائے کرکٹ کی چوتھی سب سے بڑی مارکیٹ پاکستان آج اپنی لیگ کا آغاز کر رہا ہے۔ اس طرز کی کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے صرف کھلاڑیوں کو ہی نہیں بلکہ کھیل کے چاہنے والوں کو بھی دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ پیسوں کی ریل پیل کی وجہ سے ہر کھلاڑی کی اولین خواہش اب ملک کی نمائندگی نہیں بلکہ کسی بڑی لیگ کا حصہ بننے پر ہے۔ روایتی حلقوں کی نظر میں ٹیسٹ کرکٹ سے بہتر کچھ نہیں، لیکن ٹی ٹوئنٹی جس بڑے پیمانے پر مقبولیت اختیار کر رہی ہے بلکہ اب تو اس کو اولمپکس میں شامل کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کا بستر ہی گول ہو جائے گا۔

انگلستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان جاری سیریز کے دوران شکستوں سے پریشان ہو کر کپتان ہاشم آملا نے قیادت سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا۔ جنوبی افریقہ کے بعد ابراہم ڈی ولیئرز سے بہتر کوئی نام نہیں تھا لیکن یہی وہ وقت تھا جب یہ افواہیں گردش کر رہی تھی کہ ڈی ولیئرز ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔ گو کہ انہوں نے وضاحت کی کہ فی الحال ایسا کوئی ارادہ نہیں اور ان کی پوری توجہ اس سیریز کے بقیہ دو مقابلوں پر ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ رائی تو موجود ہے کہ جس کا پہاڑ بنا ہے۔ ڈی ولیئرز کہتے ہیں کہ وہ ٹیسٹ کے بجائے محدود اوورز کی کرکٹ پر توجہ دینے پر غور کر رہے ہیں تاکہ لمبے عرصے تک کھیل سکیں۔ پھر جو رحجان اس وقت عالمی کرکٹ میں دکھائی دے رہا ہے کہ کئی کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں تاکہ وہ ملک کی نمائندگی کے بوجھ سے کسی حد تک آزاد ہو جائیں اور لیگ کرکٹ کھیلیں۔ جیسا کہ سری لنکا کے لاستھ مالنگا اور ابھی حال ہی میں یہ فیصلہ لینے والے تھیسارا پیریرا۔

ڈی ولیئرز نے یہ تک کہا کہ دنیا بھر میں ٹی ٹوئنٹی کے بڑے بڑے ٹورنامنٹس جاری ہیں اور چند لیگز تو اتنے پیسے دیتی ہیں کہ آپ کھیلنے سے انکار نہیں کر سکتے۔ ایک بار لیگ کھیلنے کے بعد آپ کا زندگی گزارنے کا ڈھنگ ہی بدل جاتا ہے۔ اگر ڈی ولیئرز جیسا عظیم کھلاڑی لیگ کے لیے ٹیسٹ کی قربانی دینے پر غور کر سکتا ہے تو تصور کیجیے نئے کھلاڑی کیا سوچتے ہوں گے؟

psl-teams-2016

جس کھلاڑی نے کرکٹ کھیلنے کا آغاز یہ صرف یہ سوچ کر کیا تھا کہ ایک دن وہ اپنے ملک کی نمائندگی کرے گا، اب ٹی ٹوئنٹی لیگز کی بھرمار نے یہ خواب چھین لیا ہے۔ اب کھلاڑیوں کی اکثریت کی نظریں ملک کی نمائندگی کے بجائے روپے پیسے سے خیرہ ہو رہی ہیں۔ ملک یا لیگ؟ کسی ایک کا انتخاب ان کے لیے مشکل ہو رہا ہے۔

اگر یووراج سنگھ اور ہربھجن سنگھ اور ایسے ہی دوسرے کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو یہ دونوں انڈین پریمیئر لیگ کے ایک سیزن سے لاکھوں کروڑوں ڈالرز کما لیتے ہیں۔ پہلے ان کھلاڑیوں کے لیے ملک کی جانب سے کھیلنا زندگی و موت کا مسئلہ تھا لیکن اب ٹیم میں مستقل جگہ نہ ہونے کے باوجود وہ مطمئن ہوں گے کہ لیگ کی وجہ سے ان کی اہمیت برقرار ہے۔

آئی پی ایل 2013ء میں جنوبی افریقہ کے کرس مورس کی بنیادی قیمت صرف 20 ہزار ڈالرز رکھی گئی۔ لیکن مورس کے لیے وہ لمحہ ناقابل یقین تھا جب چنئی سپر کنگز نے انہیں 31 گنا زیادہ قیمت پر یعنی 6 لاکھ 25 ہزار ڈالرز میں خریدا۔ مورس نے کہا کہ اتنے پیسے تو میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھے۔

یہی وہ وجہ ہے کہ جس کی بنیاد پر نئے لڑکوں کر ذہن میں ملک کی نمائںدگی سے بڑھ کر کچھ ایسا کر دکھانا ہے کہ وہ کسی بڑی ٹی ٹوئنٹی فرنچائز کی نظروں میں آ جائیں اور یوں زیادہ سے زیادہ کما سکیں۔ ملک کی نمائندگی تو بعد میں بھی ہو سکتی ہے۔

ایک اور المیہ یہ ہے کہ اب سب ٹی ٹوئنٹی کے لیے مہارت حاصل کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ ایک زندہ مثال ہیں بنگلور سے تعلق رکھنے والے نوجوان چارمنا کاریپّا۔ وہ اپنی بنیادی قیمت سے 24 گنا زیادہ 2.4 کروڑ روپے میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی جانب سے خریدے گئے۔ اس وقت جب ان کا نام بھارت کی قومی ٹیم میں شامل ہونے کا دور دور تک کوئی امکان نہیں تھا۔ کاریپّا نے کرناٹک پریمیئر لیگ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے آئی پی ایل میں جگہ پائی۔

پھر ہمارے سامنے بڑی مثالیں ہیں، کرس گیل اور کیون پیٹرسن، جو ان ٹی ٹوئنٹی لیگز میں اتنے نامور ہوگئے ہیں کہ کوئی بھی لیگ ان کی غیر موجودگی میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ چاہے وہ انڈین ہو یا کیریبیئن، بگ بیش ہو یا پاکستان کی سپر لیگ۔ اب یہ کھلاڑی اپنے متعلقہ کرکٹ بورڈز سے متصادم ہیں اور دونوں اپنے ملکوں کی ٹیم کی نمائندگی نہیں کرتے۔

پیسہ کمانے کی یہ مشینیں اب نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی کرکٹ سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ یہاں کامیابی نسبتاً آسان، ذمہ داری کہیں کم اور پیسہ بہت بہت زیادہ ہے۔ لیکن یہ کشش صرف پیسے کی نہیں بلکہ دنیائے کرکٹ کے جن ستاروں کو وہ صرف ٹی وی پر دیکھتے ہیں، ان کے شانہ بشانہ کھیلنا بھی ہے، جو کسی اعزاز سے کم نہیں۔ پاکستان سپر لیگ ہی میں دیکھ لیں، چند نوجوان کھلاڑیوں کو کرس گیل، کیون پیٹرسن، ڈیوین براوو اور شین واٹسن جیسے انٹرنیشنل اسٹارز کے ساتھ کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ لیگ کرکٹ کی اب تک کامیابی کی وجوہات ہیں۔ یہ کہنا ہرگز غلط نہیں ہوگا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ مقبولیت میں تو کھیل میں باقی تمام طرز کو پیچھے چھوڑ چکی ہے، لیکن لیگز اس کی مقبولیت کو نئے افق تک پہنچا رہی ہیں۔ فٹ بال کی طرح کہ جہاں اب بین الاقوامی فٹ بال بہت کم اور لیگ بہت زیادہ ہوتی ہے۔ شاید کرکٹ کا مستقبل بھی اب یہی ہے۔

Pakistani-fans

Facebook Comments