پاکستان سپر لیگ: خواب، حقیقت اور امیدیں

پاکستان نے اپنی لیگ شروع کرنے کا خواب 2013ء کے آغاز میں دیکھا تھا اور کئی نشیب و فراز سے گزرنے کے بعد بالآخر آج وہ ایک حقیقت کے روپ میں سامنے کھڑی ہے۔ جس لیگ کو کامیاب بنانے کے لیے تین سال صرف سوچ بچار میں گزر گئے، اس سے یہ امید ضرور ہونی چاہیے کہ وہ دنیا بھر میں جاری دیگر لیگز کا مقابلہ کرے گی، چاہے اس مقام تک پہنچنے میں اسے ایک، دو یا اس سے بھی زیادہ سال لگ جائیں۔ لیکن فوری امید اور یقین ضرور ہے کہ پاکستان میں انعقاد نہ ہونے کے باوجود قومی کرکٹ کو پاکستان سپر لیگ سے بہت فائدہ ہوگا۔

پاکستان کرکٹ کے لیے 2009ء ایک سیاہ سال تھا۔ لاہور میں سری لنکا کے کھلاڑیوں پر حملے کے بعد سے آج تک یہاں کے میدان ویران ہیں۔ یہی وہ سال تھا جس میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کا رحجان اپنے عروج پر پہنچا۔ ایک طرف بھارت کی انڈين پریمیئر لیگ نے پہلی کامیابی کے بعد دوسرا سیزن اعتماد کے ساتھ کھیلا اور پھر آسٹریلیا کے ذہن میں بگ بیش کا خیال آیا اور کچھ ہی عرصے میں ویسٹ انڈیز کیریبیئن لیگ اور بنگلہ دیش بھی پریمیئر لیگ کے نام سے میدان میں آیا۔ لیکن پاکستان اپنی بین الاقوامی کرکٹ بھی ملک میں نہیں کھیل پا رہا تھا اور اس کے تمام مقابلے متحدہ عرب امارات میں ہو رہے تھے۔ اس سے پاکستان کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے، مالی بھی اور کھیل کے لحاظ سے بھی۔ اس کا اندازہ عموماً پاکستانی کرٹ شائقین کو نہیں ہو رہا۔ اگر آپ لگانا چاہتے ہیں تو پچھلے سال مئی میں ہونے والی پاک-زمبابوے سیریز کے مقابلے دیکھ لیں کہ جہاں ہاتھی اور چیونٹی کا مقابلہ دیکھنے کے لیے بھی ہزاروں تماشائی تمام میچز میں موجود رہے۔

Dubai-Cricket-Stadium

بہرحال، اس مشکل صورت حال سے نکلنے کے لیے کچھ ایسا کرنے کی ضرورت تھی کہ کھلاڑيوں اور شائقین کرکٹ میں بڑھتی مایوسی ختم ہو اور بورڈ کو درپیش مالی مشکلات بھی دور ہوں۔ اس کے لیے نجی لیگ سے بہتر کوئی اور منصوبہ نہیں تھا جو قابل عمل ہو۔ لیکن ایسی لیگ کے انعقاد کے لیے جس چیز کی اصل ضرورت تھی، وہ تھا’سرمایہ‘ اور اس کے لیے ناگزیر تھا ملک کے نجی اداروں کو اعتماد میں لینا اور جب یہ لیگ ایک کروٹ بیٹھی تو نجی اداروں نے توقعات سے بڑھ کر اپنا حصہ لیا۔

پاکستان سپر لیگ کے سربراہ نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ نجی اداروں کا لیگ میں دلچسپی لینا ہی دراصل اس کی کامیابی کا آغاز ہے۔ گو کہ ابھی پی ایس ایل کا باضابطہ آغاز نہیں ہوا لیکن اس سے چند گھنٹے پہلے ہی ہم اس لیے پاکستان لیگ کو کامیاب قرار دے سکتے ہیں کہ ٹیموں نے بہت مختصر وقت میں، بڑی مشکلات اور محدود سرمائے کے باوجود ایسا ماحول ضرور ترتیب دیا ہے کہ پاکستان میں اب ہر کوئی لیگ اور اپنی پسندیدہ ٹیم کی بات کر رہا ہے۔ گو کہ شائقین کرکٹ کے خیال میں یہ لیگ پاکستان میں ہوتی تو زیادہ اچھا ہوتا، لیکن چونکہ سب ملک میں امن و امان کے مسائل سے آگاہ ہیں، اس لیے پرامید ہیں کہ ایک دن ضرور ایسا آئے گا جب پاکستان کے میدان ضرور آباد ہوں گے۔ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حالات یقیناً بہتر ہو رہے ہیں اور اس بار بھی کوشش کی گئی تھی کہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو آنے پر آمادہ کریں اور اس کے لیے اضافی آمدنی کی پیشکش بھی کی گئی لیکن کھلاڑیوں کی یونین کے نفی میں جواب کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔ لیکن امید ہے کہ ملک میں حالات جس تیزی سے بہتر ہو رہے ہیں، اگلے سیزن میں چند ایک مقابلے کراچی اور لاہور میں منعقد ہو سکتے ہیں۔ اگر لیگ پاکستان میں ہوتی تو یقیناً بیشتر مقابلوں میں تل دھرنے کی جگہ نہ ملتی لیکن دبئی اور شارجہ میں سب سے بڑی تشویش تماشائیوں کے حوالے سے ہے کہ وہ دیکھنے آئیں گے یا نہیں۔نجم سیٹھی پر امید ہے کہ افتتاحی تقریب اور پہلے مقابلے میں 70 فیصد میدان بھرا ہوا ہوگا۔ "کچھ چیزیں انسان کے بس میں ہوتی ہیں اور کچھ نہیں۔ کامیابی کے لیے کوشش تو ضرور کی جاسکتی ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ کی کوشش کے نتیجے میں لازمی کامیابی ملے گی۔ البتہ آپ کی کوششوں میں کمی ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔"

Facebook Comments