پاک-بھارت کرکٹ، نئی نسل بدقسمت ہے: شعیب اختر

پاک-بھارت کرکٹ دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات کی طرح ہمیشہ قیاس آرائیوں اور خدشات کی زد میں رہتی ہے۔ جب بھی روایتی حریفوں کے درمیان باہمی مقابلوں کے انعقاد کے لیے مثبت خبریں آنا شروع ہوتی ہیں، شائقین کا جذبہ عروج پر پہنج جاتا ہے مگر سیاسی مصلحتوں کا شکار ہونے کے بعد عدم انعقاد کی وجہ سے اکثر انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آخری بار دونوں ملکوں نے 2007ء میں کوئی باہمی سیریز کھیلی تھی جب پاکستان نے بھارت کا دورہ کیا تھا، وہ دن اور آج کا دن، کوئی مکمل سیریز دونوں ممالک نے نہیں کھیلی۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کے مایہ ناز تیز باؤلر شعیب اختر نے نئی نسل کو بدقسمت قرار دیا ہے، جو ان منفرد مقابلوں کے پرجوش لمحات دیکھنے سے محروم ہے۔ پاک-بھارت مقابلوں کے انعقاد پر زور دیتے ہوئے شعیب اختر کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ نہ ہونا بہت پریشان کن ہے لیکن وہ شدت سے ایشیا کپ کا انتظار کر رہے ہیں، جہاں 27 فروری کو دونوں ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔

پاک-بھارت مسابقت کے اثرات پر شعیب اختر نے کہا کہ دونوں ممالک کی کئی نسلوں نے اس مسابقت کا تجربہ کیا ہے، اس سے سیکھا ہے بلکہ انتہائی دباؤ اور تناؤ کے حامل ان مقابلوں سے کھلاڑیوں نے اعتماد حاصل کیا ہے مگر نئی نسل ان منفرد تجربے اور دلکش مقابلوں سے محروم ہے۔

بھارت ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی سے قبل دونوں ممالک 27 فروری کو ڈھاکا میں ایشیا کپ کے ایک مقابلے میں آمنے سامنے ہوں گے۔ شعیب کے بقول سب کی نظریں ان دونوں مقابلوں پر لگی ہوئی ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی کی عالمی چیمپئن شپ میں روایتی حریفوں کا ٹکراؤ 19 مارچ کو ہوگا۔ پاکستان 2007ء کے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی فائنل میں بھارت کے ہاتھوں سنسنی خیز مقابلے کے بعد ہارا تھا اس لیے پاکستان کے لیے اس مرتبہ یہ مقابلہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

اسپاٹ فکسنگ میں پانچ سال پابندی کی سزا پانے کے بعد قومی ٹیم میں واپس آنے والے محمد عامر کے بارے میں شعیب اختر نے کہا کہ عامر بھارت کے خلاف اچھی باؤلنگ کرواکر بہت کچھ سیکھ سکتا ہے، اس سے عامر کو آئندہ بہت فائدہ ہوگا۔

shoaib-akhtar

Facebook Comments