کسی کے لباس پر اعتراض نہیں کیا، ہاشم آملا نے خبر کی تردید کردی

شخصیت میں ٹھیراؤ، سنجیدگی اور محنت، یہ وہ خصوصیات ہیں جنہوں نے جنوبی افریقہ کے ہاشم آملا کو کامیاب ترین کھلاڑیوں کی فہرست میں لا کھڑا کیا ہے۔ میدان میں کارناموں کے علاوہ اسلامی احکامات کی پابندی بھی ہاشم کی پہچان ہے۔ وہ جنوبی افریقہ کی مرکزی اسپانسرز شراب ساز ادارے کا لوگو اپنی قمیص پر نہیں لگاتے۔ بہرحال، ابھی ان کے حوالے سے ذرائع ابلاغ میں ایک ایسی خبر آئی جس نے مختلف حلقوں میں مختلف ردعمل پیدا کیا۔

گزشتہ سال کے آخری ایام میں ہاشم آملا بھارت کے دورے پر تھے، جہاں ان کے حوالے سے ایک خبر آئی کہ انہوں نے بھارتی خاتون میزبان کے مختصر لباس پر اعتراض کرتے ہوئے انہیں انٹرویو دینے سے انکار کردیا تھا۔ یہ خبر سوشل میڈيا سے شروع ہوتی ہوئی ایک اخبار کے ادارے تک پہنچ گئی۔ آج ہاشم آملا نے اس خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔

hashim-amla-tweets

سماجی ابلاغ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ہاشم آملا نے کہا ہے کہ میں کبھی اپنے نظریات دوسرے پر مسلط نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر 95 فیصد ایسی معلومات غلط ہوتی ہیں، جسے لوگ درست سمجھتے ہیں۔ ایک جنوبی افریقی کی حیثیت سے میں دیگر لوگوں کے عقائد و ثقافت کا احترام کرتا ہوں اور کبھی اپنے عقائد کو دوسروں پر مسلط نہیں کرتا۔

مبینہ خبر میں بتایا گیا تھا کہ خاتون میزبان نے انتہائی مختصر لباس پہن رکھا تھا، جسے دیکھ کر ہاشم آملا نے انٹرویو سے معذرت کرلی اور منتظمین پر زور دیا کہ وہ خاتون کو لباس تبدیل کرنا پڑے گا۔ بعد ازاں خاتون کو اپنے کپڑے بدلنے پڑے۔

Article Tags

Facebook Comments