جنوبی افریقہ، پستی کا سفر جاری، شکست در شکست

بھارت اور پھر اپنے ہی ملک میں انگلستان کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز ہارنے کے بعد جنوبی افریقہ کو اپنے 'پسندیدہ' فارمیٹ میں کھیلنے کا موقع ملا اور توقع تھی کہ وہ کامیابی حاصل کرکے ٹیسٹ شکست کا بدلہ لے گا لیکن ہر گزرتے مقابلے کے ساتھ اس کی مشکلات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا کیونکہ وہ دوسرے ایک روزہ میں بھی شکست کھا بیٹھا ہے۔ اب اس کے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور پانچ مقابلوں کی سیریز میں ایک بھی شکست ورلڈ ٹی ٹوئنٹی جیسے اہم ٹورنامنٹ سے قبل اس کے اعتماد کو بدترین نقصان پہنچائے گی۔

سینٹ جارجز پارک، پورٹ ایلزبتھ میں ہونے والے مقابلے میں جنوبی افریقہ نے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کا فیصلہ کیا۔ بلوم فونٹین کی بہ نسبت کہ جہاں انگلستان نے 15 چھکے لگاتے ہوئے 399 رنز جڑ ڈالے تھے، یہ کچھ دھیمی وکٹ ثابت ہوئی یا پھر جنوبی افریقہ ہی دھیما پڑا ہوا ہے۔ بہرحال، ہاشم آملا کی ناکامی کے بعد، جو صرف 4 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ کوئٹن ڈي کوک نے فف دو پلیسی کے ساتھ مل کر اننگز سنبھالنے کی کوشش کی لیکن 49 رنز سے زیادہ کی شراکت داری نہ جوڑ پائے یعنی 53 رنز پر ایک اور نقصان۔ ڈی کوک 22 رنز بنا کے بین اسٹوکس کا شکار ہوگئے۔

اب کپتان ابراہم ڈی ولیئرز ذمہ داری کے اضافی بوجھ کے ساتھ میدان میں اترے۔ ابتدا ہی سے ان کے ارادے خطرناک نظر آ رہے تھے۔ فف کے ساتھ انہوں نے ابھی 45 رنز ہی جوڑے تھے، اور ابھی کافی آگے جانے کا ارادہ تھا لیکن عادل رشید آڑے آ گئے جنہوں نے 46 رنز پر دو پلیسی کو آؤٹ کردیا۔

یہاں مزید نقصان ہوتا، اور جنوبی افریقہ مزید گمبھیر صورت حال سے دوچار ہوتا، ژاں-پال دومنی آئے اور کپتان کے ساتھ مل کر 107 رنز کی ذمہ دارانہ رفاقت قائم کی۔ دونوں جنوبی افریقہ کو 40 اوورز میں 200 کا ہندسہ عبور کروا چکے تھے لیکن جب مقابلہ انگلستان کی گرفت سے دور لے جانے کے لیے حتمی وار کی ضرورت تھی ڈی ولیئرز آؤٹ ہوگئے۔ 91 گیندوں پر73 رنز کی اننگز اپنے اختتام کو پہنچی اور ساتھ ہی جنوبی افریقہ کی بڑے مجموعے تک پہنچنے کی امیدیں بھی۔ گو کہ لگ بھگ 10 اوورز کا کھیل اور 6 وکٹیں باقی تھیں لیکن صرف 57 رنز ہی کا اضافہ ہو سکا۔ دومنی 47 رنز کے ساتھ نمایاں رہے جبکہ فرحان بہاردین نے 23 ناقابل شکست رنز اسکور کیے۔ یوں جنوبی افریقہ 262 رنز تک ہی محدود رہ گیا۔

انگلستان کی طرف سے سب سے کامیاب گیند باز ریس ٹوپلی رہے جن کے حصے میں چار وکٹیں آئیں۔ اِس کے علاوہ بین اسٹوکس نے دو اور عادل رشید نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

Hashim-Amla

توقع سے کم ہدف دینے کے بعد جنوبی افریقہ کی گیندبازی کا معیار بہت سخت ہونا چاہیے تھا لیکن سوائے جیسن روئے کی ابتدا میں وکٹ لینے کے اس میں کوئی "قاتلانہ ادا" دکھائی نہیں دی۔ 20 رنز پر پہلی وکٹ گری، اور اس کے بعد ایلکس ہیلز اور جو روٹ نے 23 اوورز تک باؤلرز کو ترسائے رکھا۔ گو کہ اس میں انہوں نے محض 97 رنز جوڑے، اور محض چھ چوکے ہی لگ سکے، لیکن اس ساجھے داری نے ایک مضبوط بنیاد ضرور فراہم کی۔

اننگز کے ابتدائی نصف حصے تک انگلستان 'نیلسن' یعنی 111 رنز پر محض ایک ہی کھلاڑی سے محروم تھا۔ یہاں جنوبی افریقہ نے آہستہ آہستہ واپسی کی راہ لی۔ پہلے کائل ایبٹ نے جو روٹ کی 38 رنز کی اننگز کا خاتمہ کیا۔ پھر ایون مورگن کی 29 رنز کی اننگز مورنے مورکل کے ہاتھوں تمام ہوئی۔ بین اسٹوکس کا صفر پر آؤٹ ہونا ایک دلچسپ موڑ ثابت ہو سکتا تھا کیونکہ وہ ان فارم ہیں اور بہت خطرناک ثابت ہو سکتے تھے۔ لیکن اس مرحلے پر جوس بٹلر آئے۔ 80 گیندوں پر 87 رنز کی ضرورت تھی اور انہوں نے اپنے مزاج یعنی مکمل جارحانہ انداز میں خوب بلے بازی کی۔

انگلستان کے لیے واحد افسوسناک پہلو یہ رہا کہ ایلکس ہیلز 99 رنز پر آؤٹ ہوگئے۔ کائل ایبٹ کی گیند پر وکٹ کیپر ڈی کوک نے ان کا کیچ پکڑا۔ یہ بین الاقوامی کرکٹ میں پہلا موقع نہیں تھا کہ ہیلز 'نروس نائنٹیز' کا نشانہ بنے ہوں۔ وہ جون 2012ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 99 رنز پر کلین بولڈ ہوئے تھے جبکہ اگست 2013ء میں آسٹریلیا کے خلاف ایک ٹی ٹوئںٹی میں 94 رنز پر وکٹ گنوا بیٹھے تھے۔ البتہ ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی دونوں طرز میں ان کے پاس ایک، ایک سنچری ضرور ہے۔

جس مرحلے پر وہ آؤٹ ہوئے، اس وقت 42 ویں اوور میں انگلستان 202 رنز پر کھڑا تھا اور ان کی روانگی سے پوری ذمہ داری جوس بٹلر اور معین علی پر آ گئیں۔ کیا ہی خوبی سے دونوں نے یہ ذمہ داری نبھائی۔ اگلے صرف پانچ اوورز میں باقی 61 رنز بنا کر قصہ تمام کردیا۔ بٹلر 28 گیندوں پر تین چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 48 رنز بنانے میں کامیاب رہے جبکہ معین علی نے 15 گیندوں پر 21 رنز لوٹے۔

ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کے باوجود یہاں فاتحانہ اننگز کھیلنے والے ہیلز 'مرد میدان' قرار پائے۔

فاتح کپتان ایون مورگن کا کہنا تھا کہ آج کی وکٹ پر کھیلنا یقیناً آسان نہیں تھا کیونکہ طویل عرصے سے اِس قدر سست وکٹ پر نہیں کھیلے۔ لیکن سب سے پُرامید بات یہ ہے کہ کھلاڑیوں نے یہاں بھی کارکردگی پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

دوسری جانب شکست خوردہ ڈی ولیئرز کا کہنا تھا کہ وہ اگر 20, 30 رنز مزید بن جاتے تو میچ کا نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ اِس کے باوجود جیت کا سہرا انگلستان کے کھلاڑیوں کو جاتا ہے جنہوں نے ہر شعبے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فتح سمیٹٰی۔

اب تیسرا ایک روزہ 9 فروری کو سنچورین میں ہوگا جہاں جنوبی افریقہ کو لازمی کامیابی حاصل کرنی ہے۔

Facebook Comments