انڈر19 ورلڈ کپ سے ابھرتے ہوئے دو پاکستانی ستارے

چمکتی آنکھوں میں ڈھیروں خواب سجائے سینکڑوں نوجوان اس وقت انڈر 19 ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے ڈھاکا میں موجود ہیں۔ ان میں سے چند ایسے ہیں جو اپنی کارکردگی کی وجہ سے نمایاں ہوکر سامنے آئے ہیں اور وہ اپنی حتمی منزل کا راستہ صاف کر چکے ہیں جو بہرحال اپنی ملک کی نمائندگی ہے۔ گو کہ منزل ابھی دور ہی لیکن یہ ٹورنامنٹ اس سمت ایک پگڈنڈی کا کام ضرور کرے گا۔

راولپنڈی کے ایک کثیر العیال گھرانے میں پرورش پانے والا ذیشان ملک 4 بہنوں اور اتنے ہی بھائیوں کے بعد پیدا ہوا۔ سب سے چھوٹا اور سب سے لاڈلا ہونے کی وجہ سے اسے کرکٹ کا شوق پورا کرنے دیا گیا یعنی کھیل کے لیے اسے مکمل حمایت حاصل رہی۔ اب وہ قومی انڈر19 ٹیم میں اوپننگ بلے باز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے بھائی فرقان ملک نے سب سے زیادہ مدد فراہم کی اور یہاں تک کہ تعلیم کے ساتھ کلب کرکٹ جاری رکھنے کی بھی سہولت دی۔ البتہ اب انہوں نے تعلیم سے وقفہ لے رکھا ہے۔

پاکستان کرکٹ کے نظام میں کرکٹ کا آغاز پہلے کلب کی سطح سے ہوتا ہے، اس کے بعد ضلع اور پھر علاقائی کرکٹ کھیلتے ہوئے کھلاڑی قومی ٹیم کی جانب بڑھتا ہے۔ ذیشان کو بھی اسی نظام کے ساتھ ترقی کرنے کے لیے تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی۔ ان کی یہ قربانی رائیگاں نہیں گئی، اور وہ انڈر 19 میں ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب ہوئے۔

دائیں ہاتھ سے جارحانہ بلے بازی کرنے والے ذیشان ملک جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ولیئرز کے بڑے پرستار ہیں۔ وہ دو سال پہلے انڈر 17 کے ساتھ دورۂ انگلستان کو بھی بہت خوشی سے یاد کرتےہیں۔ جب وہ تین ایک روزہ مقابلے کھیلنے کے لیے انگلستان گئے تھے۔ مختلف اور مشکل حالات میں انہوں نے اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا اور 158 رنز کی ایک یادگار اننگز بھی کھیلی۔

اپنی ٹیم کو بہتر آغاز فراہم کرنے کے خواہشمند ذیشان کی کارکردگی ڈھاکا میں اونچ نیچ کا شکار رہی۔ نیپال کے خلاف وارم اپ میں 83 رنز بنائے لیکن بھارت کے خلاف توقعات پر پورا نہ اتر سکے۔ پھر کینیڈا کے خلاف 89 رنز بنانے کے بعد افغانستان کے مقابلے میں معمولی آغاز ہی فراہم کر سکے۔

بنگلہ دیش کی سست وکٹوں پر افتتاحی بلے بازوں کا مستحکم آغاز فراہم کرنا اہم ہوتا ہے۔ ذیشان کہتے ہیں کہ ابتدا میں کچھ دشواری ضرور پیش آئی۔ لیکن ہم پریکٹس مقابلے اور نیٹس میں بھی ایسی ہی وکٹوں پر کھیلنے کی وجہ سے اب مانوس ہو چکے ہیں۔

zeeshan-malik-shadab-khan

پاکستان انڈر 19 کے ایک اور ابھرتے ہوئے کھلاڑی لیگ اسپنر شاداب خان ہیں۔ پاکستان کی تاریخ کے دو کامیاب کپتانوں عمران خان اور مصباح الحق کے شہر میانوالی میں پیدا ہونے والے شاداب کو کرکٹ 12 سال کی عمر میں راولپنڈی لے آئی اور شین وارن کو دیکھنا اسے کھیل کے سب سے مشکل شعبے یعنی لیگ اسپن باؤلنگ کی جانب لایا۔

شاداب نے کسی سے ابتدائی تربیت حاصل نہیں کی بلکہ اس سوال پر ہنستے ہوئے کہا کہ میں اپنا کوچ خود ہوں۔ پھر نیشنل اکیڈمی میں انہیں عبد القادر اور مشتاق احمد سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا اور آہستہ آہستہ وہ بہتر ہوتے چلے گئے۔ انہوں نے سمجھا کہ اگر وکٹیں لینی ہیں تو 'فلائٹ' کا استعمال سیکھنا ہوگا، یہ لیگ اسپنر کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے۔

پاکستان سے سامنے آنے والے اکثر لیگ اسپنرز کا باؤلنگ ایکشن ملتا جلتا رہا ہے لیکن شاداب ان سب سے مختلف ایکشن رکھتے ہیں۔

شاداب نے انڈر19 ورلڈ کپ میں بہترین آغاز لیا اور دو مقابلوں میں چھ وکٹیں حاصل کیں۔ ان میں افغانستان کے خلاف پانچ اوورز میں 9 رنز دے کر 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کی بہترین کارکردگی بھی شامل ہے۔ شاداب بھی کرکٹ کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ سکے۔ میٹرک کے بعد کرکٹ ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ان کے والد سعودی عرب میں کام کرتے ہیں جبکہ بڑے بھائی آفتاب خان نے اسکول سطح پر کرکٹ کھیلی ہے اور وہی کھیل میں ان کے حامی و مددگار ہیں۔

انڈر19 ورلڈ کپ میں پاکستان ابھی کوارٹر فائنل تک پہنچا ہے جہاں اس کا مقابلہ سوموار کو ویسٹ انڈیز کے ساتھ ہے۔ ان دونوں کھلاڑیوں کی نظریں اس منزل کو عبور کرنے اور پاکستان کو مزید آگے لے جانے پر مرکوز ہیں۔

یہ ترجمہ و تلخیص دراصل معروف کرکٹ ویب سائٹ 'کرک بز' کے پرکاش گووندا سری نواسن کی تحریر کا ہے، جو بنگلہ دیش میں جاری انڈر 19 ورلڈ کپ کے دوران ان دونوں کھلاڑیوں سے ملے۔

Facebook Comments