پی سی بی کی کوششیں رنگ لے آئیں، یاسر شاہ پر صرف تین ماہ کی پابندی

ڈوپ ٹیسٹ ناکام ہونے کے بعد پاکستان کے اسپنر یاسر شاہ کی سزا کم سے کم کرانے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے روبرو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی درخواست رنگ لے آئی اور وہ ایک سے دو سال کے بجائے محض تین ماہ کی سزا کا سامنا کریں گے یعنی وہ جون میں دورۂ انگلستان کے لیے دستیاب ہوں گے۔

گزشتہ ایک ڈیڑھ سال پاکستان کے اسپنرز لیے ہرگز اچھا نہیں تھا۔ عالمی کپ 2015ء کے لیے جن باؤلرز پر تکیہ تھا، وہ سب ناقص باؤلنگ ایکشن کے خلاف کریک ڈاؤن کی زد میں آ گئے۔ پہلے نمبر ایک سعید اجمل اور پھر نمبر دو محمد حفیظ پابندیوں کا نشانہ بنے۔ لیکن پاکستان کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اتنے بڑے دھچکوں کے باوجود یاسر شاہ کی صورت میں ایک باکمال اسپنر مل گیا۔

29 سالہ یاسر نے اپنا پہلا ٹیسٹ اکتوبر 2014ء میں کھیلا، اور اس کے بعد سے اب تک ہر مرحلے پر خود کو ثابت کیا ہے۔ یاسر شاہ اب تک 12 ٹیسٹ میچز کھیلے ہیں جن میں 24.17 کی اوسط سے 76 وکٹیں لے چکے ہیں۔ انہیں ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی جانب سے تیز ترین 50 وکٹیں مکمل کرنے کا اعزاز بھی مل چکا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال میں پاکستان کی تمام اہم ٹیسٹ فتوحات میں یاسر شاہ کا کردار مرکزی تھا، جس میں پاکستان نے آسٹریلیا اور انگلستان کو متحدہ عرب امارات میں سری لنکا اور بنگلہ دیش کو انہی کے ملکوں میں شکست دی۔

لیکن المیہ دیکھیں کہ جب اسپن گیندبازی کے شعبے میں پاکستان تھوڑا سا مطمئن ہوا یاسر شاہ کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت ثابت ہوگا۔ انگلستان کے خلاف ایک روزہ سیریز کے دوران ان کا ڈوپ ٹیسٹ لیا گیا تھا اور دسمبر میں نتیجہ آیا کہ یاسر شاہ سے حاصل کردہ نمونے کے تجزیے میں ایسے اجزا پائے گئے ہیں جو ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی ممنوعہ فہرست میں آتے ہیں۔

ڈوپ ٹیسٹ مثبت آتے ہی یاسر شاہ کو فوری طور پر معطل کردیا گیا۔ اب ان کے پاس صرف دو مواقع تھے، ایک تو وہ اسی ٹیسٹ کے دوران لیے گئے دوسرے نمونے (سیمپل بی) کے تجزیے کی درخواست دیں یا پھر اعتراف جرم کرتے ہوئے سزا کے لیے تیار ہو جائیں جو دو سے چار سال پابندی ہو سکتی ہے۔

اس مرحلے پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے سنجیدہ قدم اٹھاتے ہوئے اپنی تحقیقات کا آغاز کیا۔ معلوم ہوا کہ یاسر شاہ نے جان بوجھ کو ممنوعہ دوا استعمال نہیں بلکہ وہ فشار خون (بلڈ پریشر) کے مریض ہیں اور لاعلمی میں انہوں نے اپنی اہلیہ کے زیر استعمال ایک دوا استعمال کرلی۔ بورڈ نے یہ معاملہ آئی سی سی کے گوش گزار کیا یہاں تک کہ آج فیصلہ صادر ہوگیا کہ ان پر صرف تین ماہ کی پابندی عائد ہوگی۔ جس میں سے ایک ماہ کی سزا وہ پہلے ہی پوری کر چکے ہیں یعنی 27 مارچ 2016ء کو ان پر عائد پابندی مکمل ہو جائے گی۔

یاسر شاہ نے یہ مرحلہ تو عبور کرلیا لیکن وہ پاکستان سپر لیگ، ورلڈ ٹی ٹوئنٹی اور ایشیا کپ جیسے اہم مقابلوں سے محروم ہو جائیں گے، جو ان کے لیے مایوس کن ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ ان کا کیریئر تباہ ہونے سے بچ گیا اور وہ اہم ترین دورۂ انگلستان میں شرکت کر سکیں گے۔

Yasir

Facebook Comments