کوئٹہ نے پشاور پر بھی قابو پالیا، اعصاب شکن معرکہ گلیڈی ایٹرز کے نام

پاکستان سپر لیگ کے ابتدائی تین روز تک یکطرفہ، اور بقول شخصے پھیکے، مقابلوں کے بعد بالآخر وہ دن آ پہنچا جس کا انتظار تھا۔ پہلے اسلام آباد یونائیٹڈ نے سنسنی خیز معرکے کے بعد کراچی کنگز کو شکست دی تو کچھ دیر بعد حلقۂ آتش (رنگ آف فائر) میں ایک اور اعصاب شکن مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ یہ اب تک پی ایس ایل میں ناقابل شکست رہنے والی ٹیموں کا مقابلہ تھا۔ ایک طرف کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور دوسری جانب پشاور زلمی۔ توقعات کے عین مطابق یہ مقابلہ آخری اوور کے آخری لمحات تک گیا کہ جہاں کوئٹہ نے اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے تین وکٹوں سے کامیابی حاصل کرلی۔

آخری تین اوورز میں کوئٹہ کو 18 رنز کی ضرورت تھی اور اس کی 4 وکٹیں باقی تھیں لیکن کیون پیٹرسن کی موجودگی کوئٹہ کی کامیابی کی ضمانت دکھائی دیتی تھی۔ جنید خان کی جانب سے پھینکے گئے اٹھارہویں اوور میں 'کے پی' ایکسٹرا کور پر شاہد آفریدی کے کیچ کا شکار ہوئے تو یکدم پشاور مقابلے پر حاوی ہوگیا۔ انور علی اور ایلٹن چگمبورا کو آخری دو اوورز میں 17 رنز کا مشکل ہدف درکار تھا۔ بقیہ اوورز میں سے پہلا 'برق رفتار' شان ٹیٹ کو ملا، جن کو سمجھنے میں ہی ان دونوں کو پانچ گیندیں گزر گئیں لیکن آخری گیند پر انور علی نے کمال کردیا۔ آف اسٹمپ سے باہر آنے والی ایک فل لینتھ گیند کو انہوں نے اٹھا کر لانگ آف سے باہر پھینک دیا۔ اس چھکے نے یکدم مقابلہ برابر کی سطح پر لاکھڑا کردیا۔ کوئٹہ کو آخری اوور میں سات رنز کی ضرورت تھی۔ ایلٹن چگمبورا نے تیسری گیند پر مڈ وکٹ کی جانب زبردست چوکا لگا کر معاملہ مزید آسان کردیا یہاں تک کہ پانچویں گیند پر لیگ بائے کے چار رنز سے کوئٹہ کو کامیاب کردیا۔

SIX !!! SHAUN TAIT TO ANWAR ALI

Terrific slog hitting by Anwar Ali ! Shaun Tait giving his everything here and the balls goes even faster as it hits the bat of Ali !

Posted by Pakistan Super League on Sunday, February 7, 2016

پشاور زلمی نے مقابلہ بہت خوب کیا، وہ دو بار مکمل طور پر اکھاڑے سے باہر ہوتا محسوس ہو رہا تھا لیکن شاندار انداز میں واپسی کی البتہ کامیابی نہ مل سکی۔ کوئٹہ نے ثابت کیا کہ اسے محض "چھپا رستم" سمجھنے والے کتنی بڑی غلطی پر تھے۔ خیر، آپ کو مقابلے کا احوال بتاتے ہیں کہ جہاں کوئٹہ کے کپتان سرفراز احمد نے ٹاس جیتا اور پہلے پشاور کو بلے بازی کے لیے میدان میں اترنے کی دعوت دی۔ ابتدائی 4 اوورز تک سنبھلنے کے بعد گلیڈی ایٹرز اپنے اصل رنگ و روپ میں آتے دکھائی دیے۔ تمیم اقبال، محمد حفیظ، کامران اکمل، ڈیوڈ مالن اور شاہد آفریدی، یہ پانچوں قیمتی وکٹیں انہوں نے 12 اوورز میں ہی حاصل کرلیں، وہ بھی محض 59 رنز پر۔ شاہد آفریدی صفر کی ہزیمت سے دوچار ہوئے نمایاں رہے ایک مرتبہ پھر نوجوان محمد نواز کہ جنہوں نے دونوں اوپنرز یعنی تمیم اور حفیظ کو آؤٹ کیا اور عمر گل کہ جن کی ایک ہی اوور میں دو وکٹوں سے کوئٹہ حاوی ہوگیا۔

shahid-afridi

اس مرحلے پر شاہد یوسف نے ڈیرن سیمی کے ساتھ اننگز کو سنبھالا اور دونوں نے 57 رنز جوڑے اور مجموعے کو 116 رنز تک پہنچایا۔ شاہد 25 گیندوں پر 21 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے لیکن اننگز کو حقیقی رفتار ڈیرن سیمی نے پکڑائی۔ وہ 31 گیندوں پر 4 بلند و بالا چھکوں کی مدد سے 48 رنز بنانے کے بعد آخری اوور میں آؤٹ ہوئے۔ وہاب ریاض کے 4 گیندوں پر 10 رنز مجموعے کو 135 رنز تک پہنچا گئے۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے آج بھی عمدہ باؤلنگ کی۔ محمد نواز نے 4 اوورز میں 29 رنز دے کر تین کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ عمر گل نے 3 اوورز میں صرف 19 رنز دیے اور دو قیمتی وکٹیں سمیٹیں۔ ایک، ایک کھلاڑی کو ذوالفقار بابر اور انور علی نے بھی ٹھکانے لگایا۔

کوئٹہ کی اب تک کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 136 رنز کا ہدف معمولی دکھائی دیتا تھا۔ لیکن زلمی وار کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے پہلے پانچ اوورز میں ہی دونوں ان فارم اوپنرز احمد شہزاد اور لیوک رائٹ کی وکٹیں حاصل کرلیں۔ اس کے باوجود مقابلے پر کوئٹہ کی گرفت کمزور نہ کر سکے۔ سرفراز احمد اور کیون پیٹرسن نے گیارہویں اوور میں ہی مجموعے کو 73 تک پہنچا دیا۔ صرف دو وکٹوں کے ساتھ آدھے سے زیادہ رنز بنا کر کوئٹہ مکمل طور پر مطمئن تھا لیکن سرفراز احمد کے آؤٹ ہونے سے مقابلہ پلٹنے لگا۔ وہ 21 رنز بنانے کے بعد شاہد آفریدی کی گیند پر کی دوسری وکٹ بنے۔ اگلے ہی اوور میں محمد نواز اور کچھ ہی دیر میں اکبر الرحمٰن کیون پیٹرسن کا ساتھ چھوڑ گئے جبکہ محمد نبی بھی بہت دیر تک کریز پر نہ ٹھیر سکے۔ یعنی تمام تر بوجھ مکمل طور پر کیون پیٹرسن کے کندھوں پر آ گیا یہاں تک کہ 18 ویں اوور میں وہ بھی جنید خان کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔

اس کے بعد مشکل ترین مرحلہ انور علی کے 7 گیندوں پر 19 اور چگمبورا کے 8 گیندوں پر 7 رنز سے مکمل کروایا۔

محمد نواز کو ایک مرتبہ پھر بہترین باؤلنگ پر مرد میدان کا اعزاز ملا۔

اس کے ساتھ ہی پوائنٹس ٹیبل پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کا اول نمبر مضبوط ہوگیا ہے۔ انہوں نے اپنے تینوں مقابلے جیتے ہیں جبکہ پشاور زلمی تین میں سے دو مقابلوں میں فتوحات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائیٹڈ نے تین میچز میں صرف ایک، ایک کامیابی حاصل کی جبکہ لاہور قلندرز اب تک فتح کا ذائقہ چکھنے سے محروم ہیں۔ لاہور کے لیے مشکل کھڑی یہ ہے کہ انہیں سوموار 8 فروری کو مقابلہ بھی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے کھیلنا ہے۔ دیکھتے ہیں اس مقابلے سے کوئٹہ کی پوزیشن مزید مستحکم ہوتی ہے یا لاہور دوڑ میں واپس آ جائے گا۔ پشاور زلمی کے پاس اب وقت ہے، کچھ سوچنے کا اور سمجھنے کا، ان کا اگلا مقابلہ 11 فروری کو کراچی کنگز کے خلاف ہوگا۔

Facebook Comments