بھارت-انگلستان اولڈ ٹریفرڈ ٹیسٹ فکس تھا: ٹیم مینیجر کا تہلکہ خیز انکشاف

ابھی چند روز پہلے ہی بھارت نے تین ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کی سیریز میں آسٹریلیا کو اس کے گھر میں کلین سویپ کیا اور یوں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے لیےاپنے ارادوں کا اظہار کیا۔ لیکن بھارتی ٹیم کے سابق مینیجر سنیل دیو کے ایک تہلکہ خیز انکشاف سے لگتا ہے کہ بھارتی کرکٹ میں ایک نئی ہلچل مچنے والی ہے۔ سنیل کا دعویٰ کیا ہے کہ 2014ء میں دورۂ انگلستان کے دوران اولڈ ٹریفرڈ، مانچسٹر میں ہونے والا چوتھا ٹیسٹ فکس تھا اور اس کے اصل ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ خود بھارتی کپتان مہندر سنگھ دھونی تھے۔

ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سنیل دیو نے کہا کہ وہ میچ فکسنگ کے حوالے سے یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اِس فکسنگ کے پیچھے 100 فیصد دھونی ہی ملوث ہے۔ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے ان کا کہنا تھا کہ بارش کے سبب اولڈ ٹریفرڈ کی وکٹ گیند بازوں کے لیے بہت سازگار تھی اور ٹیم اجلاس میں ٹاس جیتنے کے بعد پہلے گیند بازی کا فیصلہ ہی کیا گیا تھا لیکن دھونی نے پہلے بلے بازی کا فیصلہ کرکے پوری ٹیم کو حیران کردیا۔ دھونی کے اِسی فیصلے کے سبب بھارت کو اننگز اور 54 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سنیل کہتے ہیں کہ انہیں یقین ہے کہ دھونی نے یہ میچ فکس کر رکھا تھا۔ واضح رہے کہ اِس میچ میں دھونی سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز تھے جنہوں نے پہلی اننگز میں 71 اور دوسری میں 27 رنز بنائے تھے۔

Kohli-Rahane-Dhoni

"ٹائمز آف انڈیا" کی رپورٹ کے مطابق دھونی کے اِس فیصلے کے خلاف سنیل دیو نے بھارتی بورڈ کو شکایت بھی درج کروائی تھی، لیکن اُس وقت کے صدر این شری نواسن نے کوئی بھی ایکشن نہیں لیا۔ سنیل دیو کا کہنا ہے کہ وہ اُس وقت یہ بات اِس لیے منظر عام پر نہیں لائے کہ اُن کو اپنی جان کا خطرہ تھا، پھر انہیں یہ بھی خدشہ تھا کہ پیش کردہ نکات پر کوئی بھروسہ نہیں کرے گا۔

انڈین پریمیئر لیگ میں ہونے والی اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس مکل مدگال کا اِس کیس کے حوالے سے کہنا ہے کہ اُن کو اِس کا کوئی علم نہیں ہے، اور اگر اِس کیس میں کچھ حقیقت ہوتی تو بورڈ لازمی اُن کو آگاہ کرتا۔ جسٹس مدگال کا کہنا ہے کہ میچ فکسنگ اتنا آسان کام نہیں جس طرح بیان کیا جارہا ہے، اِس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ٹیم کے اور بھی کھلاڑیوں کا ملوث ہونا ضروری ہے، یہ کام اکیلے کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ جسٹس مدگال نے اِس کیس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر پہلے بلے بازی کا فیصلہ ہی شکست کی وجہ بنا تو پھر بھارتی ٹیم لیڈز اور ہیڈنگلے کے میدان میں پہلے بلے بازی کرنے کے باوجود کس طرح جیت گئی کہ وہاں بھی وکٹ گیند بازوں کے لیے بہت سازگار تھی۔

واضح رہے کہ مہندر سنگھ دھونی نے دسمبر 2014ء میں دورۂ آسٹریلیا میں تیسرے ٹیسٹ کے بعد اچانک ریٹائرمنٹ کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔ جس کے بعد ٹیم کی قیادت کی ذمہ داری ویراٹ کوہلی کے کاندھوں پر آگئی ہے۔ دھونی اب بھی ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ٹیم کی قیادت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، اور اگلے ماہ ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھی بھارتی ٹیم کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔

Facebook Comments