کوئٹہ کا اگلا نشانہ، کیا آج لاہور قلندرز بچ پائیں گے؟

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اس وقت بہت اونچی اڑان اڑ رہے ہیں اور آخر کیوں نہ اڑیں؟ ابتدائی تینوں مقابلوں میں اہم ترین مخالفین کو عبرت ناک شکست سے دوچار جو کر چکے ہیں اور آج اپنے چوتھے مقابلے میں پے در پے شکستوں سے بے حال لاہور قلندرز کے حوصلے مزید پست کرنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔

پاکستان سپر لیگ کے پہلے سیزن کے آغاز پر سب سے کمزور سمجھے جانے والے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اب سب کو رونتے جا رہے ہيں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ اورکراچی کنگز کی مضبوط ٹیموں کو 8، 8 وکٹوں کے بھاری مارجن سے شکست دینے کے بعد انہوں نے سب سے مضبوط سمجھی جانے والے اور 'فین فیورٹ' پشاور زلمی کو بھی ہرا دیا ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست کوئٹہ کو آج سوموار کو لاہور قلندرز کا سامنا کرنا ہے جس کے ساتھ ہی تمام ٹیموں کے تین، تین مقابلے مکمل ہوجائیں گے اور سیزن کا اہم مرحلہ مکمل ہو جائے گا۔

کوئٹہ کی کامیابی میں اہم کردار نوجوان باؤلر محمد نواز تھا، جنہوں نے انتہائی متاثر کن باؤلنگ سے مخالف بلے بازوں کو بے بس کیے رکھا ہے اور تین مقابلوں میں 8 وکٹیں لے چکے ہیں۔ احمد شہزاد اور لیوک رائٹ کی عمدہ بلے بازی نے بھی ٹیم کو ناقابل شکست رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پشاور زلمی کے خلاف مقابلے میں پہلی بار کوئٹہ کا مڈل آرڈر لڑکھڑایا مگر آٹھ نمبر پر بلے بازی کرنے والے ایلٹن چگمبورا نے اپنے وسیع تجربے سے ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کیا اور انور علی کے ساتھ مل کر کوئٹہ کو کامیابی کی منزل تک پہنچایا۔ کھلاڑیوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ ویوین رچرڈز اور کوچنگ عملے کے ساتھ مل کر ٹیم کی کامیابیوں کو جاری رکھیں۔

lahore-qalandars

دوسری جانب لاہور قلندرز کا حال برا ہے۔ مسلسل شکستوں نے ان کے حوصلوں کو پست کردیا ہے۔ انہیں جیت کے لیے سخت محنت کی ذمہ ہوگی۔ ٹیم انتظامیہ نے ایک اچھا اور متوازن باؤلنگ اٹیک منتخب کیا تھا لیکن غیر متوقع وجوہات کی بنیاد پر انہیں اپنے دو اہم باؤلرز مستفیض الرحمٰن اور یاسر شاہ سے محروم ہونا پڑا۔ اب باؤلنگ اٹیک کا حال خراب دکھائی دیتا ہے۔ پشاور زلمی کے ہاتھوں 9 وکٹوں کی شکست ظاہر کرتی ہے کہ باؤلنگ قابل اعتبار نہیں۔

لاہور قلندرز کو اس وقت اپنے غیر ملکی کھلاڑیوں سے اچھی کارکردگی کی توقع ہے۔ کرس گیل، ڈیوین براوو اور اجنتھا مینڈس۔ گیل اور براوو اگر انڈین پریمیئر لیگ والی کارکردگی یہاں دہرائیں تو لاہور کے لیے امید کی بڑی کرن پیدا ہو سکتی ہے۔ اس وقت ٹیم انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ابتدائی بلے بازوں کرس گیل اور اظہر علی کی ناکامی ہے۔ اگر یہ دونوں عمر اکمل کے ساتھ مل کر اپنا روایتی کھیل پیش کرنے میں کامیاب ہوگئے تو باؤلنگ میں کمزوری کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ کپتان اظہر علی نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کرکے مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں گے اور کوئٹہ کو قابو کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

Facebook Comments