ڈیرن سیمی کا پاکستانی شائقین سے اظہار ہمدردی

پاکستان کرکٹ کے لیے 2009ء ایک عجیب سال تھا۔ ایک طرف ٹی ٹوئنٹی کا عالمی چیمپئن بننا اور دوسری جانب لاہور میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پردہشت گردوں کا حملہ، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی کرکٹ پاکستان سے روٹھ گئی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، پاکستان کے شائقین اپنے میدانوں پر کرکٹ دیکھنے سے محروم ہیں۔ پاکستان سپر لیگ جیسا بڑا اور تاریخی ٹورنامنٹ بھی ملک سے باہر ہو رہا ہے جو کرکٹ سے محبت کرنے والے ہر شخص کے لیے کسی المیے سے کم نہیں۔

پاکستان سپر لیگ میں شریک ویسٹ انڈیز کے ٹی ٹوئنٹی کپتان ڈیرن سیمی بھی ان میں سے ایک ہیں جو پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ نہ ہونے پر افسردہ ہیں۔

ویسٹ انڈیز نے آخری بار 2006ء میں پاکستان کا دورہ کیا تھا اور اس کے بعد حالات ایسے بدلے کہ پاکستانی میدانوں پر دونوں کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں کھیلا جا سکا۔ دونوں ممالک کے درمیان دو ٹیسٹ، پانچ ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز رواں سال ستمبر و اکتوبر میں طے شدہ ہے جس کی میزبانی پاکستان کے پاس ہے لیکن یہ وطن عزیز کے بجائے متحدہ عرب امارات میں ہوگی جو 2010ء سے پاکستان کا 'ہوم گراؤنڈ' ہے۔

darren-sammy

ڈیرن سیمی کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ تو ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے کرنا ہے کہ مقابلوں کا انعقاد کس مقام پر ہو لیکن وہ پاکستانی شائقین کے دکھ کو سمجھ سکتے ہیں۔ پشاور زلمی کی نمائندگی کرنے والے سیمی کہتے ہیں کہ ایک کھلاڑی کی حیثیت سے مجھے اندازہ ہے کہ اپنے گھر پر شائقین کے سامنے کھیلنے پر کیا احساسات ہوتے ہیں۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنے میدانوں پر کھیل سکیں۔

ویسٹ انڈین کپتان نے کہا کہ وہ پی ایس ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر خوب لطف اندوز ہو رہے ہیں، خاص طور پر شاہد آفریدی، وہاب ریاض اور کامران اکمل کے ساتھ مشترکہ ڈریسنگ روم ان کے لیے خوشی اور فخر کی بات ہے۔

سیمی سے قبل ماضی کے عظیم بلے باز اور پی ایس ایل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے گرو ویوین رچرڈز ایسے ہی خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ 23 فروری کو اختتام پذیر ہوگی جس میں سیمی کے علاوہ ویسٹ انڈیز کے مایہ ناز بلے باز کرس گیل بھی شامل ہیں۔

Facebook Comments